حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ح وَحَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، الْحَسَنُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ الْعَدَنِيُّ قَالُوا: ثنا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً، فَاسْتَعْمَلَ عَلَيْهِمُ عَلِيًّا فَمَضَى عَلَى السَّرِيَّةِ، فَأَصَابَ عَلِيٌّ جَارِيَةً، فَأَنْكَرُوا ذَلِكَ عَلَيْهِ، فَتَعَاقَدَ أَرْبَعَةٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا: إِذَا لَقِينَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرْنَاهُ بِمَا صَنَعَ، قَالَ عِمْرَانُ: وَكَانَ الْمُسْلِمُونَ إِذَا قَدِمُوا مِنْ سَفَرٍ بَدَأُوا بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَلَّمُوا عَلَيْهِ، ثُمَّ انْصَرَفُوا، فَلَمَّا قَدِمَتِ السَّرِيَّةُ، سَلَّمُوا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ أَحَدُ الْأَرْبَعَةِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَلَمْ تَرَ أَنَّ عَلِيًّا صَنَعَ كَذَا وَكَذَا؟ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ قَامَ آخَرُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَلَمْ تَرَ أَنَّ عَلِيًّا صَنَعَ كَذَا وَكَذَا؟ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ قَامَ آخَرُ مِنْهُمْ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَلَمْ تَرَ أَنَّ عَلِيًّا صَنَعَ كَذَا وَكَذَا، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ قَامَ الرَّابِعُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَلَمْ تَرَ أَنَّ عَلِيًّا صَنَعَ كَذَا وَكَذَا؟ فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْرَفُ الْغَضَبُ فِي وَجْهِهِ، فَقَالَ: «مَاذَا تُرِيدُونَ مِنْ عَلِيٍّ - ثَلَاثَ مَرَّاتٍ - إِنَّ عَلِيًّا مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ وَهُوَ وَلِيُّ كُلِّ مُؤْمِنٍ بَعْدِي»
ترجمہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر بھیجا اور علی رضی اللہ عنہ کو ان کا امیر مقرر کیا، تو وہ لشکر کے ساتھ روانہ ہوئے، اس دوران علی رضی اللہ عنہ نے ایک باندی حاصل کی، تو لوگوں نے اس پر اعتراض کیا۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے چار افراد نے آپس میں عہد کیا اور کہا: جب ہم رسول اللہ ﷺ سے ملیں گے تو انہیں بتائیں گے کہ علی نے کیا کیا۔ عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مسلمانوں کا یہ طریقہ تھا کہ جب وہ سفر سے آتے تو پہلے رسول اللہ ﷺ کے پاس جاتے، آپ ﷺ کو سلام کرتے پھر واپس چلے جاتے۔ چنانچہ جب یہ لشکر واپس آیا تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو سلام کیا، تو ان چاروں میں سے ایک کھڑا ہوا اور کہا: یا رسول اللہ، کیا آپ نہیں دیکھتے کہ علی نے ایسا ایسا کیا؟ آپ ﷺ نے اس سے منہ پھیر لیا۔ پھر دوسرا کھڑا ہوا اور کہا: یا رسول اللہ، کیا آپ نہیں دیکھتے کہ علی نے ایسا ایسا کیا؟ آپ ﷺ نے اس سے بھی منہ پھیر لیا۔ پھر ان میں سے تیسرا کھڑا ہوا اور کہا: یا رسول اللہ، کیا آپ نہیں دیکھتے کہ علی نے ایسا ایسا کیا؟ آپ ﷺ نے اس سے بھی منہ پھیر لیا۔ پھر چوتھا شخص کھڑا ہوا اور کہا: یا رسول اللہ، کیا آپ نہیں دیکھتے کہ علی نے ایسا ایسا کیا؟ تو رسول اللہ ﷺ اس کی طرف متوجہ ہوئے، آپ ﷺ کے چہرے پر غصہ صاف نظر آ رہا تھا، اور فرمایا: ”تم علی سے کیا چاہتے ہو؟“ - تین بار فرمایا - ”بے شک علی مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں، اور وہ میرے بعد ہر مومن کا ولی ہے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ، ثنا يَزِيدُ الرِّشْكُ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَعُلِمَ أَهْلُ الْجَنَّةِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ؟ قَالَ: «نَعَمْ» قَالَ: فَفِيمَ يَعْمَلُ الْعَامِلُونَ إِذًا؟ قَالَ: «فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لَمَّا خُلِقَ لَهُ»
ترجمہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے عرض کیا: یا رسول اللہ، کیا جنت والوں کو جہنم والوں سے پہلے ہی جان لیا گیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“ اس نے کہا: تو پھر عمل کرنے والے کس لیے عمل کرتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہر ایک کے لیے وہی کام آسان کر دیا جاتا ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، وَعَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ح وَحَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ قَالُوا: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَعُلِمَ أَهْلُ الْجَنَّةِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ؟ قَالَ: «نَعَمْ» قَالَ: فَفِيمَ يَعْمَلُ الْعَامِلُونَ؟ قَالَ: «اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ»
ترجمہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے عرض کیا: یا رسول اللہ، کیا جنت والوں کو جہنم والوں سے جان لیا گیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“ اس نے کہا: تو پھر عمل کرنے والے کس لیے عمل کرتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”عمل کرو، ہر ایک کے لیے وہی کام آسان کر دیا جاتا ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے۔“
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَسَنٍ الْعَطَّارُ، وَحَكِيمُ بْنُ يَحْيَى الْمَتُّوثِيُّ قَالُوا: أنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا سُلَيْمُ بْنُ حَيَّانَ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَعُلِمَ أَهْلُ الْجَنَّةِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ؟ قَالَ: «نَعَمْ» قَالَ: فَفِيمَ يَعْمَلُ الْعَامِلُونَ؟ قَالَ: «فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ»
ترجمہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک آدمی نے عرض کیا: یا رسول اللہ، کیا جنت والوں کو جہنم والوں سے جان لیا گیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“ اس نے کہا: تو پھر عمل کرنے والے کس لیے عمل کرتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہر ایک کے لیے وہی کام آسان کر دیا جاتا ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے۔“
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْحَرَشِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَعُلِمَ أَهْلُ الْجَنَّةِ مِنَ أَهْلِ النَّارِ؟ قَالَ: «نَعَمْ» قَالَ: فَفِيمَ يَعْمَلُ الْعَامِلُونَ؟ قَالَ: «كُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ»
ترجمہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: یا رسول اللہ، کیا جنت والوں کو جہنم والوں سے جان لیا گیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“ اس نے کہا: تو پھر عمل کرنے والے کس لیے عمل کرتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہر ایک کے لیے وہی کام آسان کر دیا جاتا ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ قَالَا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ابْنِ عُلَيَّةَ، ثنا يَزِيدُ الرِّشْكِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَعُلِمَ أَهْلُ الْجَنَّةِ مِنَ أَهْلِ النَّارِ؟ قَالَ: «نَعَمْ» قَالَ: فَفِيمَ الْعَمَلُ؟ قَالَ: «اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ مِنَ الْقَوْلِ»
ترجمہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک آدمی نے عرض کیا: یا رسول اللہ، کیا جنت والوں کو جہنم والوں سے جان لیا گیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“ اس نے کہا: تو پھر عمل کس لیے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”عمل کرو، ہر ایک کے لیے وہی بات آسان کر دی جاتی ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ أَيُّوبَ، صَاحِبُ الْبَصْرِيِّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ، عَنْ مُطَرِّفٍ قَالَ: سُئِلَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَةً، وَلَمْ يُشْهِدْ ثُمَّ رَاجَعَهَا وَلَمْ يُشْهِدْ؟ فَقَالَ عِمْرَانُ: «طَلَّقْتَ لِغَيْرِ سُنَّةٍ، وَرَاجَعْتَ لِغَيْرِ سُنَّةٍ، أَشْهِدْ عَلَى طَلَاقِهَا وَعَلَى رَجْعَتِهَا»
ترجمہ
مطرف رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے ایک ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جس نے اپنی بیوی کو ایک طلاق دی اور گواہ نہ بنایا، پھر رجوع کیا اور گواہ نہ بنایا؟ تو عمران رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم نے سنت کے خلاف طلاق دی، اور سنت کے خلاف رجوع کیا، اب طلاق پر بھی گواہ بناؤ اور رجوع پر بھی گواہ بناؤ۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ حَكَّامٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ فَقِيلَ: أَعُرِفَ أَهْلُ الْجَنَّةِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ؟ قَالَ: «نَعَمْ» ، فَقِيلَ لَهُ: فَفِيمَ يَعْمَلُ الْعَامِلُونَ؟ قَالَ: «كُلٌّ يَعْمَلُ لِمَا خُلِقَ لَهُ أَوْ لِمَا يُسِّرَ لَهُ»
ترجمہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ سے پوچھا گیا: کیا جنت والوں کو جہنم والوں سے جان لیا گیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“ پوچھا گیا: تو پھر عمل کرنے والے کس لیے عمل کرتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہر ایک اسی کے لیے عمل کرتا ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے، یا جو اس کے لیے آسان کیا گیا ہے۔“
حَدَّثَنَا دَرَانُ بْنُ سُفْيَانَ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ عُبَيْدٍ الْإِيَادِيُّ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، فِيمَ يَعْمَلُ الْعَامِلُونَ فِيمَا قَدْ خَلَا أَوْ فِيمَا يُسْتَقْبَلُونَ؟ قَالَ: «فِيمَا قَدْ خَلَا» قَالَ: فَفِيمَ يَعْمَلُونَ؟ قَالَ: «كُلٌّ مُيَسَّرٌ»
ترجمہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ، عمل کرنے والے اس بارے میں عمل کرتے ہیں جو پہلے ہی طے ہو چکا ہے یا جو آئندہ ہونا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو پہلے ہی طے ہو چکا ہے۔“ انہوں نے کہا: تو پھر وہ کس لیے عمل کرتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہر ایک کے لیے آسانی کر دی جاتی ہے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ الْهُذَلِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِمْرَانَ قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَعُلِمَ أَهْلُ الْجَنَّةِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ؟ قَالَ: «نَعَمْ» قِيلَ: فَفِيمَ يَعْمَلُ الْعَامِلُونَ؟ قَالَ: «اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ»
ترجمہ
سیدنا عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: عرض کیا گیا: یا رسول اللہ، کیا جنت والوں کو جہنم والوں سے جان لیا گیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“ عرض کیا گیا: تو پھر عمل کرنے والے کس لیے عمل کرتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”عمل کرو، ہر ایک کے لیے وہی کام آسان کر دیا جاتا ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے۔“