المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
يزيد الرشك عن مطرف باب: یزید رِشک کی مطرف سے روایات
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ح وَحَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، الْحَسَنُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ الْعَدَنِيُّ قَالُوا: ثنا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً، فَاسْتَعْمَلَ عَلَيْهِمُ عَلِيًّا فَمَضَى عَلَى السَّرِيَّةِ، فَأَصَابَ عَلِيٌّ جَارِيَةً، فَأَنْكَرُوا ذَلِكَ عَلَيْهِ، فَتَعَاقَدَ أَرْبَعَةٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا: إِذَا لَقِينَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرْنَاهُ بِمَا صَنَعَ، قَالَ عِمْرَانُ: وَكَانَ الْمُسْلِمُونَ إِذَا قَدِمُوا مِنْ سَفَرٍ بَدَأُوا بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَلَّمُوا عَلَيْهِ، ثُمَّ انْصَرَفُوا، فَلَمَّا قَدِمَتِ السَّرِيَّةُ، سَلَّمُوا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ أَحَدُ الْأَرْبَعَةِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَلَمْ تَرَ أَنَّ عَلِيًّا صَنَعَ كَذَا وَكَذَا؟ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ قَامَ آخَرُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَلَمْ تَرَ أَنَّ عَلِيًّا صَنَعَ كَذَا وَكَذَا؟ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ قَامَ آخَرُ مِنْهُمْ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَلَمْ تَرَ أَنَّ عَلِيًّا صَنَعَ كَذَا وَكَذَا، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ قَامَ الرَّابِعُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَلَمْ تَرَ أَنَّ عَلِيًّا صَنَعَ كَذَا وَكَذَا؟ فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْرَفُ الْغَضَبُ فِي وَجْهِهِ، فَقَالَ: «مَاذَا تُرِيدُونَ مِنْ عَلِيٍّ - ثَلَاثَ مَرَّاتٍ - إِنَّ عَلِيًّا مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ وَهُوَ وَلِيُّ كُلِّ مُؤْمِنٍ بَعْدِي»سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر بھیجا اور علی رضی اللہ عنہ کو ان کا امیر مقرر کیا، تو وہ لشکر کے ساتھ روانہ ہوئے، اس دوران علی رضی اللہ عنہ نے ایک باندی حاصل کی، تو لوگوں نے اس پر اعتراض کیا۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے چار افراد نے آپس میں عہد کیا اور کہا: جب ہم رسول اللہ ﷺ سے ملیں گے تو انہیں بتائیں گے کہ علی نے کیا کیا۔ عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مسلمانوں کا یہ طریقہ تھا کہ جب وہ سفر سے آتے تو پہلے رسول اللہ ﷺ کے پاس جاتے، آپ ﷺ کو سلام کرتے پھر واپس چلے جاتے۔ چنانچہ جب یہ لشکر واپس آیا تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو سلام کیا، تو ان چاروں میں سے ایک کھڑا ہوا اور کہا: یا رسول اللہ، کیا آپ نہیں دیکھتے کہ علی نے ایسا ایسا کیا؟ آپ ﷺ نے اس سے منہ پھیر لیا۔ پھر دوسرا کھڑا ہوا اور کہا: یا رسول اللہ، کیا آپ نہیں دیکھتے کہ علی نے ایسا ایسا کیا؟ آپ ﷺ نے اس سے بھی منہ پھیر لیا۔ پھر ان میں سے تیسرا کھڑا ہوا اور کہا: یا رسول اللہ، کیا آپ نہیں دیکھتے کہ علی نے ایسا ایسا کیا؟ آپ ﷺ نے اس سے بھی منہ پھیر لیا۔ پھر چوتھا شخص کھڑا ہوا اور کہا: یا رسول اللہ، کیا آپ نہیں دیکھتے کہ علی نے ایسا ایسا کیا؟ تو رسول اللہ ﷺ اس کی طرف متوجہ ہوئے، آپ ﷺ کے چہرے پر غصہ صاف نظر آ رہا تھا، اور فرمایا: ”تم علی سے کیا چاہتے ہو؟“ - تین بار فرمایا - ”بے شک علی مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں، اور وہ میرے بعد ہر مومن کا ولی ہے۔“