حدیث نمبر: 15359
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَسَنٍ الْعَطَّارُ، وَحَكِيمُ بْنُ يَحْيَى الْمَتُّوثِيُّ قَالُوا: أنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا سُلَيْمُ بْنُ حَيَّانَ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَعُلِمَ أَهْلُ الْجَنَّةِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ؟ قَالَ: «نَعَمْ» قَالَ: فَفِيمَ يَعْمَلُ الْعَامِلُونَ؟ قَالَ: «فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ»
ترجمہ

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک آدمی نے عرض کیا: یا رسول اللہ، کیا جنت والوں کو جہنم والوں سے جان لیا گیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“ اس نے کہا: تو پھر عمل کرنے والے کس لیے عمل کرتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہر ایک کے لیے وہی کام آسان کر دیا جاتا ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15359
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 130، حدیث 268