حدیث نمبر: 15361
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ قَالَا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ابْنِ عُلَيَّةَ، ثنا يَزِيدُ الرِّشْكِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَعُلِمَ أَهْلُ الْجَنَّةِ مِنَ أَهْلِ النَّارِ؟ قَالَ: «نَعَمْ» قَالَ: فَفِيمَ الْعَمَلُ؟ قَالَ: «اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ مِنَ الْقَوْلِ»
ترجمہ

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک آدمی نے عرض کیا: یا رسول اللہ، کیا جنت والوں کو جہنم والوں سے جان لیا گیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“ اس نے کہا: تو پھر عمل کس لیے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”عمل کرو، ہر ایک کے لیے وہی بات آسان کر دی جاتی ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15361
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 130، حدیث 270