کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: جن صحابہ کا نام عرفجہ ہے: سیدنا عرفجہ بن ضریح اشجعی رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ عَرْفَجَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ: «إنَّهَا سَتَكُونُ هَنَاتٌ، وَهَنَاتٌ فَمَنْ جَاءَ إِلَى أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ وَهُم جَمِيعٌ يُرِيدُ أَنْ يُفَرِّقَهُمْ فَاقْتُلُوهُ كَائِنًا مَنْ كَانَ»
ترجمہ
سیدنا عرفجہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عنقریب کچھ فتنے اور مشکلات پیش آئیں گی، تو جو کوئی امتِ محمد ﷺ کے پاس اس حال میں آئے کہ وہ متحد ہوں اور وہ انہیں متفرق کرنا چاہے، تو اسے قتل کر دو، خواہ وہ کوئی بھی ہو۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ عَرْفَجَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ خَرَجَ عَلَى أُمَّتِي وَهُم مُجْتَمِعُونَ يُرِيدُ أَنْ يُفَرِّقَ بَيْنَهُم فَاقْتُلُوه كَائِنًا مَنْ كَانَ»
ترجمہ
سیدنا عرفجہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو میری امت پر اس حال میں خروج کرے کہ وہ متحد ہوں، اور وہ انہیں متفرق کرنا چاہے، تو اسے قتل کر دو، خواہ وہ کوئی بھی ہو۔“
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ، ثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ عَرْفَجَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ: «إنَّهُ سَيَكُونُ بَعْدِي هَنَاتٌ، وَهَنَاتٌ، فَمَنْ رَأَيْتُمُوهُ يُرِيدُ أَنْ يُفَرِّقَ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ وَهُمْ جَمِيعٌ فَاقْتُلُوه كَائِنًا مَنْ كَانَ»
ترجمہ
سیدنا عرفجہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میرے بعد کچھ فتنے اور مشکلات پیش آئیں گی، تو جسے تم دیکھو کہ وہ امتِ محمد ﷺ کو، جبکہ وہ متحد ہوں، متفرق کرنا چاہتا ہے، تو اسے قتل کر دو، خواہ وہ کوئی بھی ہو۔“
حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَلَطِيُّ، ثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، ثَنَا أَبُو مَرْدَانَبَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ عَرْفَجَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ: «سَتَكُونُ هَنَاتٌ وَهَنَاتٌ فَمَنْ رَأَيْتُمُوهُ يُفَرِّقُ بَيْنَ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ، فَاقْتُلُوه كَائِنًا مَنْ كَانَ»
ترجمہ
سیدنا عرفجہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عنقریب کچھ فتنے اور مشکلات پیش آئیں گی، تو جسے تم دیکھو کہ وہ امتِ محمد ﷺ کو متفرق کر رہا ہے، اسے قتل کر دو، خواہ وہ کوئی بھی ہو۔“
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الصَّبَّاحِ الرَّقِّيُّ، ثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِي خَالِدٍ الدَّالَانِيِّ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ عَرْفَجَةَ الْأَشْجَعِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ يَقُولُ: «يَكُونُ بَعْدِي هَنَاتٌ، وَهَنَاتٌ - فَطَوَّلَ بِهَا صَوْتَهُ -، فَمَنْ أَرَادَ أَنْ يُفَرِّقَ بَيْنَ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ وَأمْرُهُمْ جَمِيعٌ فَاقْتُلُوهُ كَائِنًا مَنْ كَانَ، حَلَفَ مَا اسْتَثْنَى أَحَدًا مِنَ النَّاسِ»
ترجمہ
سیدنا عرفجہ اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے سنا: ”میرے بعد کچھ فتنے اور مشکلات پیش آئیں گی“ - آپ ﷺ نے اس لفظ کو کھینچ کر ادا فرمایا - ”تو جو امتِ محمد ﷺ کو، جبکہ ان کا معاملہ متحد ہو، متفرق کرنا چاہے، اسے قتل کر دو، خواہ وہ کوئی بھی ہو۔“ آپ ﷺ نے قسم کھائی اور کسی کو بھی مستثنیٰ نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثَنَا عَارِمُ أَبُو النُّعْمَانِ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُخْتَارِ، وَلَيْثٌ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ عَرْفَجَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ: «إنَّهَا سَتَكُونُ هَنَاتٌ، وَهَنَاتٌ فَمَنْ رَأَيْتُمُوه يَمْشِي إِلَى أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ يُفَرِّقُ جَمَاعَتَهَا فَاقْتُلُوهُ»
ترجمہ
سیدنا عرفجہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عنقریب کچھ فتنے اور مشکلات پیش آئیں گی، تو جسے تم دیکھو کہ وہ امتِ محمد ﷺ کی طرف اس ارادے سے بڑھ رہا ہے کہ ان کی جماعت کو متفرق کرے، تو اسے قتل کر دو۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الصَّبَّاحِ الْأَصْبَهَانِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَزْدَادَ التَّوَّزِيُّ قَالَا: ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ لُوَيْنٌ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُخْتَارِ، وَلَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، وَالْفَضْلِ بْنِ فَضَالَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ عَرْفَجَةَ، رَفَعَ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ قَالَ: «إنَّهَا سَتَكُونُ هَنَاتٌ، وَهَنَاتٌ، فَمَنْ رَأَيْتُمُوهُ يَمْشِي إِلَى أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ وَهُمْ جَمِيعٌ لَيُفَرِّقَ بَيْنَهُمْ فَاقْتُلُوهُ كَائِنًا مَنْ كَانَ»
ترجمہ
سیدنا عرفجہ رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”عنقریب کچھ فتنے اور مشکلات پیش آئیں گی، تو جسے تم دیکھو کہ وہ امتِ محمد ﷺ کی طرف، جبکہ وہ متحد ہوں، اس ارادے سے بڑھ رہا ہے کہ ان کے درمیان تفرقہ ڈالے، تو اسے قتل کر دو، خواہ وہ کوئی بھی ہو۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، ثَنَا هَيْثَمٌ، عَنِ الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ، وَمُجَالِدٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ عَرْفَجَةَ، - رَجُلٍ مِن قَوْمِهِ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ: «مَنْ مَشَى إِلَى أُمَّتِي وَهُم جَمِيعٌ يُرِيدٌ أَنْ يُفَرِّقَ بَيْنَهُمْ فَاقْتُلُوهُ كَائِنًا مَنْ كَانَ»
ترجمہ
عرفجہ - جو راوی کی قوم کے ایک فرد تھے - سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو میری امت کی طرف، جبکہ وہ متحد ہوں، اس ارادے سے بڑھے کہ ان کے درمیان تفرقہ ڈالے، تو اسے قتل کر دو، خواہ وہ کوئی بھی ہو۔“
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ حَمْدَوَيْهِ الصَّفَّارُ، ثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثَنَا شُعْبَةُ، ح وَحَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثَنَا مُسَدَّدٌ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ عَرْفَجَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ يَقُولُ: «سَتَكُونُ هَنَاتٌ، وَهَنَاتٌ، فَمَنْ أَرَادَ أَنْ يُفَرِّقَ بَيْنَ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ وَهُم جَمِيعٌ فَاضْرِبُوهُ بِالسَّيْف كَائِنًا مَنْ كَانَ»
ترجمہ
سیدنا عرفجہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”عنقریب کچھ فتنے اور مشکلات پیش آئیں گی، تو جو مسلمانوں کے معاملے میں، جبکہ وہ متحد ہوں، تفرقہ ڈالنا چاہے، اسے تلوار سے مار دو، خواہ وہ کوئی بھی ہو۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُوَفَّقٍ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْجُرْجَانِيُّ قَالَا: ثَنَا أَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ الْبَجَلِيِّ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ عَرْفَجَةَ بْنِ ضُرَيْحٍ الْأَشْجَعِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ يَقُولُ: «سَيَكُونُ بَعْدِي هَنَاتٌ، وَهَنَاتٌ، فَمَنْ رَأَيْتُمُوهُ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ أَو يُرِيدُ أَنْ يُفَرِّقَ بَيْنَ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ وَأَمْرُهُمْ جَمِيعٌ فَاقْتُلُوهُ كَائِنًا مَنْ كَانَ، يَدُ اللهِ عَلَى الْجَمَاعَةِ، وإنَّ الشَّيْطَانَ مَع مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ»
ترجمہ
سیدنا عرفجہ بن ضریح اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”میرے بعد کچھ فتنے اور مشکلات پیش آئیں گی، تو جسے تم دیکھو کہ اس نے جماعت سے علیحدگی اختیار کر لی ہے، یا وہ امتِ محمد ﷺ کو، جبکہ ان کا معاملہ متحد ہو، متفرق کرنا چاہتا ہے، تو اسے قتل کر دو، خواہ وہ کوئی بھی ہو۔ اللہ کا ہاتھ جماعت پر ہے، اور شیطان اس کے ساتھ ہے جو جماعت سے علیحدہ ہو جائے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، نَا أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرِ بْنِ بَشِيرٍ الْأَسْلَمِيُّ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ عَرْفَجَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ: «إنَّهَا سَتَكُونُ هَنَاتٌ، وَهَنَاتٌ، فَمَنْ أَرَادَ أَنْ يُفَرِّقَ بَيْنَ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ فَاقْتُلُوهُ كَائِنًا مَنْ كَانَ»
ترجمہ
سیدنا عرفجہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عنقریب کچھ فتنے اور مشکلات پیش آئیں گی، تو جو امتِ محمد ﷺ کو متفرق کرنا چاہے، اسے قتل کر دو، خواہ وہ کوئی بھی ہو۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التُّسْتَرِيُّ، ثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ الصَّرِيفِينِيُّ، ثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ سِيَاهٍ الثَّقَفِيُّ، ثَنَا زِيَادُ بْنُ عِلَاقَةَ، عَنْ عَرْفَجَةَ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ: «إنَّهَا سَتَكُونُ هَنَاتٌ، وَهَنَاتٌ - يُطَوِّلُ بِهَا صَوْتَهُ - فَمَنْ رَأَيْتُمُوهُ يُرِيدُ أَنْ يُفَرِّقَ أَمْرَ أُمَّتِي، وَهِي جَمِيعٌ فَاقْتُلُوه كَائِنًا مَنْ كَانَ»
ترجمہ
سیدنا عرفجہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”عنقریب کچھ فتنے اور مشکلات پیش آئیں گی“ - آپ ﷺ اس لفظ کو کھینچ کر ادا فرماتے - ”تو جسے تم دیکھو کہ وہ میری امت کے معاملے کو، جبکہ وہ متحد ہو، متفرق کرنا چاہتا ہے، تو اسے قتل کر دو، خواہ وہ کوئی بھی ہو۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، ثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، ثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ الْبَرَاءُ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَوْسَجَةَ، عَنْ فُرَاتٍ الْقَزَّازُ، عَنْ أَبِي عَاصِمٍ، عَنْ عَرْفَجَةَ بْنِ ضُرَيْحٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ: «إِذَا كُنْتُمْ عَلَى جَمَاعَةٍ فَجَاءَ مَنْ يُفَرِّقُ جَمَاعَتَكُمْ وَيَشُقُّ عَصَاكُم فَاقْتُلُوه كَائِنًا مَنْ كَانَ»
ترجمہ
سیدنا عرفجہ بن ضریح اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم متحد ہو اور کوئی ایسا آئے جو تمہاری جماعت میں تفرقہ ڈالے اور تمہاری وحدت کو توڑے تو اسے قتل کر دو، خواہ وہ کوئی بھی ہو۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَرْفَجَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ: «مَنْ أَتَاكُمْ وأَمْرُكُمْ جَمِيعٌ عَلَى رَجُلٍ وَاحِدٍ يُرِيدُ أَنْ يُفَرِّقَ جَمَاعَتَكُمْ فَاقْتُلُوهُ»
ترجمہ
سیدنا عرفجہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”جو تمہارے پاس اس حال میں آئے کہ تمہارا معاملہ ایک آدمی پر متحد ہو، اور وہ تمہاری جماعت میں تفرقہ ڈالنا چاہے، تو اسے قتل کر دو۔“
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ النَّحْوِيُّ الصُّورِيُّ، ثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ، ثَنَا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَرْفَجَةَ بْنِ شَرَاحِيلَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ: «سَتَكُونُ هَنَاتٌ، وَهَنَاتٌ، فَمَنْ جَاءَ إِلَى أُمَّتِي وَهُم جَمِيعٌ يُفَرِّقُ أَمْرَ جَمَاعَتِهِمْ فَاقْتُلُوهُ»
ترجمہ
عرفجہ بن شراحیل بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عنقریب کچھ فتنے اور مشکلات پیش آئیں گی، تو جو میری امت کے پاس، جبکہ وہ متحد ہو، اس ارادے سے آئے کہ ان کی جماعت کے معاملے کو متفرق کرے، تو اسے قتل کر دو۔“
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا، وَمُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ التَّوَّزِيُّ قَالَا: ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ مَرْدِانَبَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ عَرْفَجَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ يَقُولُ: «يَدُ اللهِ عَلَى الْجَمَاعَةِ وَالشَّيْطَانُ مَع مَنْ خَالَفَ الْجَمَاعَةَ يَرْكُضُ»
ترجمہ
سیدنا عرفجہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”اللہ کا ہاتھ جماعت پر ہے، اور شیطان اس کے ساتھ دوڑتا ہے جو جماعت کی مخالفت کرے۔“