المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عويم بن ساعدة الهذلي باب: سیدنا عویم بن ساعدہ ہذلی رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ مَسْمُولٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ تَمِيمِ بْنِ عُوَيْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: كَانَتْ أُخْتِي مُلَيْكَةُ وَامْرَأَةٌ مِنَّا يُقَالُ لَهَا: أُمُّ عَفِيفِ بِنْتِ مَسْرُوحٍ تَحْتَ حَمَلِ بْنِ النَّابِغَةِ فَضَرَبَتْ أُمَّ عَفِيفٍ مُلَيْكَةَ بِمِسْطَحِ بَيْتِهَا، وَهِي حَامِلُ فَقَتَلَتْهَا، وَمَا فِي بَطْنِهَا فَقَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ فِيهَا بِالدِّيَةِ وَفِي جَنِينِهَا بِغُرَّةِ عَبْدٍ أَو وَلِيدَةٍ، فَقَالَ أَخُوهَا الْعَلَاءُ بْنُ مَسْرُوحٍ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَنَغْرَمُ مَنْ لَا أَكَلَ وَلَا شَرِبَ وَلَا نَظَرَ وَلَا اسْتَهَلَّ، فَمِثْلُ هَذَا يُطَلُّ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّم: «أَسَجْعٌ كَسَجْعِ الْجَاهِلِيَّةِ»عمرو بن تمیم بن عویم رحمہ اللہ اپنے والد کے واسطے سے اپنے دادا سیدنا عویم بن ساعدہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں: میری بہن ملیکہ اور ہماری ایک عورت، جسے ام عفیف بنت مسروح کہا جاتا تھا، دونوں حمل بن نابغہ کے نکاح میں تھیں۔ ام عفیف نے ملیکہ کو، جو حاملہ تھیں، اپنے گھر کی چوبی (لکڑی کے شہتیر) سے مارا جس سے وہ اور ان کے پیٹ کا بچہ دونوں مر گئے۔ رسول اللہ ﷺ نے ملیکہ کے بارے میں دیت اور ان کے حمل ساقط ہونے پر غلام یا لونڈی کی صورت میں غرہ کا فیصلہ فرمایا۔ تو اس کے بھائی علاء بن مسروح نے کہا: یا رسول اللہ! کیا ہم اس کا تاوان دیں جس نے نہ کھایا نہ پیا، نہ دیکھا اور نہ چیخا؟ ایسے کا خون تو رائیگاں جانا چاہیے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا یہ جاہلیت کی سجع بازی جیسی سجع ہے؟“