کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: عبداللہ بن عبید بن عمیر کی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، أَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً فَإِنْ تَابَ تَابَ اللهُ عَلَيْهِ، قَالَهَا: ثَلَاثًا فَإِنْ عَادَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللهِ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ نَهَرِ الْخَبَالِ " قِيلَ: وَمَا نَهَرُ الْخَبَالِ؟ قَالَ: «صَدِيدُ أَهْلِ النَّارِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو شراب پیئے اس کی چالیس راتوں تک نماز قبول نہیں ہوتی، پھر اگر توبہ کرے تو اللہ اس کی توبہ قبول کر لیتا ہے“ - یہ بات آپ ﷺ نے تین بار فرمائی - ”پھر اگر وہ دوبارہ پیئے تو اللہ پر یہ حق ہو جاتا ہے کہ وہ اسے نہر الخبال سے پلائے۔“ عرض کیا گیا: نہر الخبال کیا ہے؟ فرمایا: ”جہنمیوں کی پیپ۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عُمَرَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَالِي أَرَاكَ تَسْتَلِمُ الرُّكْنَيْنِ، وَلَا تَتْرُكْهُمَا؟ وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُهُ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ مَسْحَهُمَا يَحُطُّ الذُّنُوبَ»
ترجمہ
عبداللہ بن عبید بن عمیر بیان کرتے ہیں: ایک آدمی نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: اے ابوعبدالرحمن! کیا بات ہے میں دیکھتا ہوں کہ آپ ان دونوں رکنوں کا استلام کرتے ہیں اور انہیں نہیں چھوڑتے؟ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما ایسا کیا کرتے تھے۔ انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے: ”ان دونوں کو چھونا گناہوں کو جھاڑ دیتا ہے۔“
وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «مَنْ طَافَ بِهَذَا الْبَيْتِ أُسْبُوعًا كَانَتْ لَهُ بِهَا رَقَبَةٌ»
ترجمہ
اور میں نے انہیں یہ فرماتے سنا: ”جو اس گھر کا ایک ہفتہ (سات چکر) طواف کرے تو یہ اس کے لیے ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ہے۔“
وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الدُّنْيَا لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً فَإِنْ تَابَ تَابَ اللهُ عَلَيْهِ، فَإِنْ عَادَ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً، فَإِنْ تَابَ تَابَ اللهُ عَلَيْهِ، فَإِنْ عَادَ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً، فَإِنْ تَابَ تَابَ اللهُ عَلَيْهِ، فَإِنْ شَرِبَهَا الرَّابِعَةَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللهِ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ طِينَةِ خَبَالٍ» قِيلَ: وَمَا طِينَةُ خَبَالٍ؟ قَالَ: «صَدِيدُ أَهْلِ النَّارِ»
ترجمہ
اور میں نے انہیں یہ فرماتے سنا: ”جو دنیا میں شراب پیئے اس کی چالیس راتوں تک نماز قبول نہیں ہوتی، پھر اگر توبہ کرے تو اللہ اس کی توبہ قبول کر لیتا ہے، پھر اگر دوبارہ پیئے تو چالیس راتوں تک اس کی نماز قبول نہیں ہوتی، پھر اگر توبہ کرے تو اللہ اس کی توبہ قبول کر لیتا ہے، پھر اگر دوبارہ پیئے تو چالیس راتوں تک اس کی نماز قبول نہیں ہوتی، پھر اگر توبہ کرے تو اللہ اس کی توبہ قبول کر لیتا ہے، پھر اگر چوتھی بار پیئے تو اللہ پر یہ حق ہو جاتا ہے کہ وہ اسے ’طینۃ خبال‘ سے پلائے۔“ عرض کیا گیا: طینۃ خبال کیا ہے؟ فرمایا: ”جہنمیوں کی پیپ۔“