المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
محمد بن زيد، عن ابن عمر باب: محمد بن زید کی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایات
وَعَنِ ابْنُ عُمَرَ، قَالَ: كُنَّا نَتَحَدَّثُ بِحَجَّةِ الْوَدَاعِ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا، وَلَا نَدْرِي مَا حَجَّةُ الْوَدَاعِ، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا فَحَمِدَ اللهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ ذَكَرَ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ فَأَطْنَبَ فِي ذِكْرِهِ، ثُمَّ قَالَ: «مَا بَعَثَ اللهُ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ أَنْذَرَ أُمَّتَهُ الدَّجَّالَ، لَقَدْ أَنْذَرَهُ نُوحٌ وَالنَّبِيُّونَ مِنْ بَعْدِهِ، وَإِنَّهُ يَخْرُجُ فِيكُمْ فَمَا خَفِيَ عَلَيْكُمْ مِنْ شَأْنِهِ فَلَا يَخْفَى عَلَيْكُمْ أَنَّهُ أَعْوَرُ عَيْنِ الْيُمْنَى كَأَنَّهَا عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ»سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ہم حجۃ الوداع کا تذکرہ کیا کرتے تھے جبکہ رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان موجود تھے، اور ہمیں معلوم نہ تھا کہ حجۃ الوداع کیا ہے۔ پھر رسول اللہ ﷺ خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر مسیح دجال کا ذکر فرمایا اور اس کے بارے میں تفصیل سے بیان فرمایا، پھر فرمایا: ”اللہ نے جو بھی نبی بھیجا اس نے اپنی امت کو دجال سے ضرور خبردار کیا، نوح علیہ السلام اور ان کے بعد کے انبیاء نے بھی اس سے خبردار کیا، اور وہ تم میں ضرور ظاہر ہوگا، تو جو کچھ اس کا حال تم پر مخفی رہے وہ تم پر مخفی نہیں رہنا چاہیے کہ وہ دائیں آنکھ سے کانا ہوگا گویا اس کی آنکھ ابھری ہوئی انگور کے دانے کی طرح ہے۔“