المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
محمد بن زيد، عن ابن عمر باب: محمد بن زید کی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 13281
وَعَنِ ابْنُ عُمَرَ، قَالَ: كُنَّا نَتَحَدَّثُ بِحَجَّةِ الْوَدَاعِ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا، وَلَا نَدْرِي مَا حَجَّةُ الْوَدَاعِ، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا فَحَمِدَ اللهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ ذَكَرَ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ فَأَطْنَبَ فِي ذِكْرِهِ، ثُمَّ قَالَ: «مَا بَعَثَ اللهُ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ أَنْذَرَ أُمَّتَهُ الدَّجَّالَ، لَقَدْ أَنْذَرَهُ نُوحٌ وَالنَّبِيُّونَ مِنْ بَعْدِهِ، وَإِنَّهُ يَخْرُجُ فِيكُمْ فَمَا خَفِيَ عَلَيْكُمْ مِنْ شَأْنِهِ فَلَا يَخْفَى عَلَيْكُمْ أَنَّهُ أَعْوَرُ عَيْنِ الْيُمْنَى كَأَنَّهَا عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ»ترجمہ
…اور ہمیں معلوم نہیں تھا کہ حجۃ الوداع کیا ہے، تو رسول اللہ ﷺ خطبہ دینے کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر مسیح دجال کا ذکر کیا اور اس کے بارے میں تفصیل سے بیان فرمایا، پھر فرمایا: ”اللہ نے کوئی نبی نہیں بھیجا مگر اس نے اپنی امت کو دجال سے ڈرایا، نوح علیہ السلام اور ان کے بعد کے تمام انبیاء نے اس سے ڈرایا، اور وہ تم میں ظاہر ہو گا، سو جو کچھ اس کے بارے میں تم پر مخفی رہ جائے وہ تم پر مخفی نہ رہے کہ وہ دائیں آنکھ سے کانا ہو گا، گویا اس کی آنکھ ابھرا ہوا انگور کا دانہ ہو۔“