حدیث نمبر: 13291
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَيْثَمَةَ، ثنا وَهْبُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زِمَامٍ، ثنا مَيْمُونُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْنَا بِحَجَّةِ الْوَدَاعِ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيٌّ بَيْنَ أَظْهُرِنَا، وَمَا نَرَى أَنَّهُ الْوَدَاعَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْمَسِيحَ فَأَطْنَبَ فِي ذِكْرِهِ، ثُمَّ ذَكَرَ مِنْ أَمْرِهِ مَا شَاءَ أَنْ يَذْكُرَ , ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يَبْعَثْ نَبِيًّا قَطُّ إِلَّا، وَقَدْ أَنْذَرَ أُمَّتَهُ الْمَسِيحَ قَدْ أَنْذَرَهُ نُوحٌ أُمَّتَهُ، ثُمَّ الْأَنْبِيَاءُ بَعْدَهُ نَبِيًّا نَبِيًّا، ثُمَّ قَالَ: أَلَا فَمَنْ خَفِيَ عَلَيْكُمْ مِنْ شَأْنِهِ وَهَابَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقُولَهَا، ثُمَّ قَالَ: إِلَّا مَنْ خَفِيَ عَلَيْكُمْ مِنْ شَأْنِهِ فَلَا يَخْفَى عَلَيْكُمْ أَنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ، وَهُوَ أَعْوَرُ عَيْنِ الْيُمْنَى كَأَنَّهَا عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ، أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ؟ " فَصَرَخُوا مِنَ النَّوَاحِي: نَعَمْ، فَقَالَ: " اللهُمَّ اشْهَدْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ: لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ "
ترجمہ

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ہم نے حجۃ الوداع کے بارے میں سنا جبکہ رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان زندہ موجود تھے، اور ہمیں یہ گمان نہ تھا کہ یہ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے الوداعی سفر ہے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ دیا، مسیح (دجال) کا ذکر کیا اور اس کے بارے میں تفصیل سے بیان فرمایا، پھر اس کے بارے میں جو چاہا ذکر فرمایا، پھر فرمایا: ”بےشک اللہ عزوجل نے کبھی کوئی نبی نہیں بھیجا مگر اس نے اپنی امت کو مسیح (دجال) سے ڈرایا، نوح علیہ السلام نے اپنی امت کو اس سے ڈرایا، پھر ان کے بعد کے انبیاء نے ایک ایک کر کے۔“ پھر فرمایا: ”سن لو، جو کچھ اس کے بارے میں تم پر مخفی رہ جائے“ - رسول اللہ ﷺ نے اسے کہنے میں کچھ تامل محسوس کیا، پھر فرمایا: ”جو کچھ اس کے بارے میں تم پر مخفی رہ جائے وہ تم پر مخفی نہ رہے کہ تمہارا رب کانا نہیں، جبکہ وہ (دجال) دائیں آنکھ سے کانا ہو گا، گویا اس کی آنکھ ابھرا ہوا انگور کا دانہ ہو۔ سن لو! کیا میں نے پہنچا دیا؟“ تو ہر طرف سے آواز آئی: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے تین بار فرمایا: ”اے اللہ! گواہ رہ۔“ پھر فرمایا: ”میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ تم میں سے ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 13291
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 362، حدیث 13348