المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
محمد بن زيد، عن ابن عمر باب: محمد بن زید کی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 13280
وَبِإِسْنَادِهِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا صَارَ أَهْلُ الْجَنَّةِ إِلَى الْجَنَّةِ، وَأَهْلُ النَّارِ إِلَى النَّارِ، أُتِيَ بِالْمَوْتِ حَتَّى يُجْعَلَ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، ثُمَّ يُذْبَحَ، ثُمَّ يُنَادِي مُنَادٍ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ لَا مَوْتَ، وَيَا أَهْلَ النَّارِ لَا مَوْتَ فَيَزْدَادُ أَهْلُ الْجَنَّةِ فَرَحًا إِلَى فَرَحِهِمْ، وَيَزْدَادُ أَهْلُ النَّارِ حُزْنًا إِلَى حُزْنِهِمْ»ترجمہ
اسی سند سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جب جنتی جنت میں اور جہنمی جہنم میں چلے جائیں گے تو موت کو لایا جائے گا یہاں تک کہ اسے جنت اور جہنم کے درمیان رکھا جائے گا، پھر اسے ذبح کر دیا جائے گا، پھر ایک پکارنے والا پکارے گا: اے جنت والو! اب موت نہیں، اور اے جہنم والو! اب موت نہیں۔ تو جنتیوں کی خوشی میں مزید خوشی بڑھ جائے گی، اور جہنمیوں کے غم میں مزید غم بڑھ جائے گا۔“