المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
محمد بن زيد، عن ابن عمر باب: محمد بن زید کی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 13287
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أُوتِيتُ مَفَاتِيحَ كُلِّ شَيْءٍ إِلَّا الْخَمْسَ» ، {إِنَّ اللهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ، وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ} [لقمان: ٣٤] ، وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ، وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا، وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”مجھے ہر چیز کی کنجیاں دی گئیں سوائے پانچ کے،“ یعنی: ”بےشک اللہ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے، اور وہی بارش برساتا ہے، اور وہی جانتا ہے جو رحموں میں ہے، اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائے گا، اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کس زمین میں مرے گا، بےشک اللہ خوب جاننے والا خبر رکھنے والا ہے“ [سورۃ لقمان: 34]۔