المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سماك الحنفي، عن ابن عباس باب: سماک حنفی کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَابَانَ الْجُنْدِيسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ لُوَيْنٌ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ، عَنْ سِمَاكٍ أَبِي زُمَيْلٍ الْحَنَفِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: سَمِعْتُهُ، يَقُولُ: أَصَابَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ غَنَائِمَ فَقَسَمَ لِلنَّاسٍ، فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ: نَلِي الْقِتَالَ، وَالْغَنَائِمُ لِغَيْرِنَا , فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ أَنِ اجْتَمَعُوا فَأَتَاهُمٌ، فَقَالَ: «يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ هَلْ فِيكُمْ أَحَدٌ مِنْ غَيْرِكُمْ؟» ، قَالُوا: لَا إِلَّا ابْنُ أُخْتٍ لَنَا، وَمَوْلًى لَنَا، فَقَالَ: «ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ، وَمَوْلَى الْقَوْمِ مِنْهُمْ» قَالَ: «يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالشَّاءِ، وَالْبَقَرِ، وَتَذْهَبُونَ أَنْتُمْ بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟» قَالُوا: قَدْ رَضِينَاسیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: …انصار نے کہا: ہم لڑائی کرتے ہیں اور مالِ غنیمت دوسروں کو مل جاتا ہے۔ یہ بات نبی کریم ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے انہیں جمع ہونے کا پیغام بھیجا، پھر ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”اے گروہِ انصار! کیا تم میں کوئی ایسا شخص ہے جو تم میں سے نہیں؟“ انہوں نے کہا: نہیں، سوائے ہماری ایک بہن کے بیٹے اور ہمارے ایک مولیٰ کے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”قوم کی بہن کا بیٹا انہی میں سے ہے، اور قوم کا مولیٰ انہی میں سے ہے۔“ پھر فرمایا: ”اے گروہِ انصار! کیا تمہیں یہ پسند نہیں کہ لوگ بکریاں اور گائیں لے جائیں، اور تم محمد ﷺ کو لے جاؤ؟“ انہوں نے کہا: ہم راضی ہیں۔