حدیث نمبر: 12829
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَذُوعِيُّ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُرَشِيُّ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا أَبُو زُمَيْلٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ النَّاسُ لَا يَنْظُرُونَ إِلَى أَبِي سُفْيَانَ، وَلَا يُقَاعِدُونَهُ فَقَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ثَلَاثٌ أُعْطِيكَهُنَّ، قَالَ: «نَعَمْ» ، قَالَ: عِنْدِي أَحْسَنُ الْعَرَبِ، وَأَجْمَلُهُ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ أَبِي سُفْيَانَ أُزَوِّجُكَهَا، قَالَ: «نَعَمْ» ، قَالَ: وَمُعَاوِيَةُ تَجْعَلُهُ كَاتِبًا تَجْعَلُهُ بَيْنَ يَدَيْكَ. قَالَ: «نَعَمْ» ، قَالَ: وَتُؤَمِّرُنِي أَنْ أُقَاتِلَ الْكُفَّارَ كَمَا كُنْتُ أُقَاتِلُ الْمُسْلِمِينَ، قَالَ: «نَعَمْ»
ترجمہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: لوگ سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھنا اور ان کے ساتھ بیٹھنا پسند نہیں کرتے تھے، تو انہوں نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا: تین چیزیں ہیں جو میں آپ کو دینا چاہتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“ انہوں نے کہا: میرے پاس عرب کی سب سے حسین و جمیل عورت ہے، ام حبیبہ بنت ابی سفیان، میں اس کا نکاح آپ سے کر دیتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“ انہوں نے کہا: اور معاویہ کو آپ اپنا کاتب بنا لیں، اسے اپنے سامنے رکھیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“ انہوں نے کہا: اور مجھے حکم دیں کہ میں کفار کے خلاف اسی طرح لڑوں جیسے میں مسلمانوں کے خلاف لڑا کرتا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12829
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 199، حدیث 12885