کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: سعید بن جبیر کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ اللهَ خَلَقَ لَوْحًا مَحْفُوظًا مِنْ دُرَّةٍ بَيْضَاءَ صَفَحَاتُهَا مِنْ يَاقُوتَةٍ حَمْرَاءَ، قَلَمُهُ نُورٌ، لِلَّهِ فِيهِ فِي كُلِّ يَوْمٍ سِتُّونَ وَثَلَاثُمِائَةِ لَحْظَةٍ، يَخْلُقُ وَيَرْزُقُ وَيُمِيتُ وَيُحْيِي وَيُعِزُّ وَيُذِلُّ وَيَفْعَلُ مَا يَشَاءُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بےشک اللہ تعالیٰ نے سفید موتی سے لوح محفوظ پیدا کی، اس کے تختے سرخ یاقوت سے بنے ہیں، اس کا قلم نور کا ہے، اللہ تعالیٰ کی اس میں ہر دن تین سو ساٹھ نظر (توجہ) ہوتی ہے، وہ پیدا کرتا ہے، رزق دیتا ہے، موت دیتا ہے، زندہ کرتا ہے، عزت دیتا ہے، ذلیل کرتا ہے اور جو چاہتا ہے کرتا ہے۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدٌ الْعِجْلُ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ مَاهَانَ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ الْمُزَنِيُّ، ثنا لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَتَتِ امْرَأَةٌ مِنْ جُهَيْنَةَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ , إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ، وَلَمْ تَحُجَّ، أَفَأَحُجُّ عَنْهَا؟ قَالَ: «أَرَأَيْتِ لَوْ كَانَ عَلَى أُمُّكِ دَيْنٌ فَقَضَيْتِهِ أَوَفِي ذَلِكَ عَنْهَا؟» قَالَتْ: نَعَمْ. قَالَ: «فَدَيْنُ اللهِ أَحَقُّ أَنْ يُقْضَى»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: قبیلہ جہینہ کی ایک عورت نبی کریم ﷺ کے پاس آئی اور کہا: یا رسول اللہ! میری والدہ فوت ہو گئیں اور انہوں نے حج نہیں کیا تھا، کیا میں ان کی طرف سے حج کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بتاؤ اگر تمہاری والدہ پر قرض ہوتا اور تم اسے ادا کرتیں تو کیا یہ ان کی طرف سے کافی ہوتا؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اللہ کا قرض ادا کیے جانے کا زیادہ حق دار ہے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْعَبَّاسِ الْبَجَلِيُّ الْكُوفِيُّ، وَزَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، قَالَا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى السُّدِّيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سَوَّارٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «تَسَمَّوْا بِاسْمِي، وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”میرے نام پر نام رکھو، لیکن میری کنیت پر کنیت نہ رکھو۔“
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ أَبُو يَحْيَى، ثنا صَدَقَةُ بْنُ سَابِقٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ قَرْمٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا بَعَثَ اللهُ نَبِيًّا إِلَى قَوْمٍ، فَقَبَضَهُ إِلَّا جَعَلَ بَعْدَهُ فَتْرَةً، ثُمَّ يَمْلَأُ مِنْ تِلْكَ الْفَتْرَةِ جَهَنَّمَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”اللہ تعالیٰ نے کسی قوم کی طرف کوئی نبی نہیں بھیجا اور پھر اسے اٹھا لیا مگر اس کے بعد ایک فترت (وقفے کا دور) رکھا، پھر اسی فترت میں سے جہنم کو بھرتا ہے۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنِ الْجَرَّاحِ بْنِ الْمِنْهَالِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: كُنْتُ فِي حَلْقَةٍ فِيهَا ابْنُ عَبَّاسٍ، فَذَكَرْنَا الْقَدَرَ فَغَضِبَ ابْنُ عَبَّاسٍ غَضَبًا شَدِيدًا، وَقَالَ: لَوْ أَعْلَمُ أَنَّ فِي الْقَوْمِ أَحَدًا مِنْهُمْ لَأَخَذْتُهُ؛ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا بَعَثَ اللهُ نَبِيًّا فِي قَوْمٍ ثُمَّ يَقْبِضُهُ إِلَّا جَعَلَ بَعْدَهُ فَتْرَةً، وَمَلَأَ مِنْ تِلْكَ الْفَتْرَةِ جَهَنَّمَ»
ترجمہ
راوی بیان کرتے ہیں: ہم نے تقدیر کا ذکر کیا تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سخت غصے میں آ گئے اور فرمایا: اگر مجھے معلوم ہو جائے کہ اس مجلس میں ان (تقدیر کے منکرین) میں سے کوئی موجود ہے تو میں اسے پکڑ لوں۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”اللہ تعالیٰ نے کسی قوم میں کوئی نبی نہیں بھیجا اور پھر اسے اٹھایا مگر اس کے بعد ایک فترت رکھا، اور اسی فترت میں سے جہنم کو بھر دیا۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «جَمَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فِي الْمَدِينَةِ فِي غَيْرِ سَفَرٍ، وَلَا خَوْفٍ» قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: لِمَ تَرَاهُ فَعَلَ ذَلِكَ؟ قَالَ: «أَرَادَ أَنْ لَا يُحْرِجَ أَحَدًا مِنْ أُمَّتِهِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے مدینہ میں ظہر اور عصر کی نمازیں اکٹھی پڑھیں، حالانکہ نہ سفر تھا اور نہ خوف۔ (راوی سعید بن جبیر کہتے ہیں:) میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: آپ کے خیال میں آپ ﷺ نے ایسا کیوں کیا؟ انہوں نے فرمایا: ”آپ ﷺ چاہتے تھے کہ اپنی امت میں سے کسی کو تنگی میں نہ ڈالیں۔“
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «جَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَجَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِالْمَدِينَةِ وَهُوَ مُقِيمٌ عَلَى غَيْرِ خَوْفٍ، وَلَا شَيْءٍ اضْطَرَّهُ إِلَى ذَلِكَ» فَقَالُوا: فَلِمَ يَا أَبَا عَبَّاسٍ؟ قَالَ: «أَرَادَ أَنْ لَا يُحْرِجَ أُمَّتَهُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ میں مقیم رہتے ہوئے، بغیر کسی خوف اور بغیر کسی مجبوری کے، ظہر اور عصر کی نمازیں اکٹھی پڑھیں، اور مغرب اور عشاء کی نمازیں بھی اکٹھی پڑھیں۔ لوگوں نے پوچھا: اے ابوعباس! پھر کیوں (ایسا کیا)؟ انہوں نے فرمایا: ”آپ ﷺ چاہتے تھے کہ اپنی امت کو تنگی میں نہ ڈالیں۔“
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَلَّى الظُّهْرَ، وَالْعَصْرَ بِالْمَدِينَةِ جَمِيعًا فِي غَيْرِ خَوْفٍ، وَلَا سَفَرٍ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے مدینہ میں ظہر اور عصر کی نمازیں اکٹھی پڑھیں، حالانکہ نہ خوف تھا اور نہ سفر۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَوَّاسُ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «جَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ظہر اور عصر، اور مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھیں۔
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ كِلَاهُمَا عَنْ قُرَّةَ بْنِ خَالِدٍ، ثنا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «جَمَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ فِي سَفْرَةٍ أَوْ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ایک سفر میں، یا غزوہ تبوک میں، ظہر اور عصر، اور مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى السُّدِّيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سَوَّارٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «جَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَبَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ فِي السَّفَرِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سفر میں ظہر اور عصر، اور مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامِ بْنِ أَبِي الدَّمِيكِ الْمُسْتَمْلِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ زِيَادٍ سَبَلَانُ، ثنا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ الطَّائِفِيِّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ لِبَنِيهِ: يَا بَنِيَّ , اخْرُجُوا مِنْ مَكَّةَ حَاجِّينَ مُشَاةً، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ لِلْحَاجِّ الرَّاكِبِ بِكُلِّ خُطْوَةٍ تَخْطُوهَا رَاحِلَتُهُ سَبْعِينَ حَسَنَةً، وَالْمَاشِي بِكُلِّ خُطْوَةٍ سَبْعَ مِائَةِ حَسَنَةٍ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے بیٹوں سے فرمایا: اے میرے بیٹو! مکہ سے پیدل حج کے لیے نکلا کرو، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے: ”سوار حاجی کے لیے اس کی سواری کے ہر قدم پر ستر نیکیاں ہیں، اور پیدل چلنے والے کے لیے ہر قدم پر سات سو نیکیاں ہیں۔“