حدیث نمبر: 12459
حَدَّثَنَا عُبَيْدٌ الْعِجْلُ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ مَاهَانَ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ الْمُزَنِيُّ، ثنا لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَتَتِ امْرَأَةٌ مِنْ جُهَيْنَةَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ , إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ، وَلَمْ تَحُجَّ، أَفَأَحُجُّ عَنْهَا؟ قَالَ: «أَرَأَيْتِ لَوْ كَانَ عَلَى أُمُّكِ دَيْنٌ فَقَضَيْتِهِ أَوَفِي ذَلِكَ عَنْهَا؟» قَالَتْ: نَعَمْ. قَالَ: «فَدَيْنُ اللهِ أَحَقُّ أَنْ يُقْضَى»
ترجمہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: قبیلہ جہینہ کی ایک عورت نبی کریم ﷺ کے پاس آئی اور کہا: یا رسول اللہ! میری والدہ فوت ہو گئیں اور انہوں نے حج نہیں کیا تھا، کیا میں ان کی طرف سے حج کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بتاؤ اگر تمہاری والدہ پر قرض ہوتا اور تم اسے ادا کرتیں تو کیا یہ ان کی طرف سے کافی ہوتا؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اللہ کا قرض ادا کیے جانے کا زیادہ حق دار ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12459
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 72، حدیث 12512