حدیث نمبر: 12462
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنِ الْجَرَّاحِ بْنِ الْمِنْهَالِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: كُنْتُ فِي حَلْقَةٍ فِيهَا ابْنُ عَبَّاسٍ، فَذَكَرْنَا الْقَدَرَ فَغَضِبَ ابْنُ عَبَّاسٍ غَضَبًا شَدِيدًا، وَقَالَ: لَوْ أَعْلَمُ أَنَّ فِي الْقَوْمِ أَحَدًا مِنْهُمْ لَأَخَذْتُهُ؛ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا بَعَثَ اللهُ نَبِيًّا فِي قَوْمٍ ثُمَّ يَقْبِضُهُ إِلَّا جَعَلَ بَعْدَهُ فَتْرَةً، وَمَلَأَ مِنْ تِلْكَ الْفَتْرَةِ جَهَنَّمَ»
ترجمہ

راوی بیان کرتے ہیں: ہم نے تقدیر کا ذکر کیا تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سخت غصے میں آ گئے اور فرمایا: اگر مجھے معلوم ہو جائے کہ اس مجلس میں ان (تقدیر کے منکرین) میں سے کوئی موجود ہے تو میں اسے پکڑ لوں۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”اللہ تعالیٰ نے کسی قوم میں کوئی نبی نہیں بھیجا اور پھر اسے اٹھایا مگر اس کے بعد ایک فترت رکھا، اور اسی فترت میں سے جہنم کو بھر دیا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12462
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 73، حدیث 12515