المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سعيد بن جبير، عن ابن عباس باب: سعید بن جبیر کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 12462
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنِ الْجَرَّاحِ بْنِ الْمِنْهَالِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: كُنْتُ فِي حَلْقَةٍ فِيهَا ابْنُ عَبَّاسٍ، فَذَكَرْنَا الْقَدَرَ فَغَضِبَ ابْنُ عَبَّاسٍ غَضَبًا شَدِيدًا، وَقَالَ: لَوْ أَعْلَمُ أَنَّ فِي الْقَوْمِ أَحَدًا مِنْهُمْ لَأَخَذْتُهُ؛ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا بَعَثَ اللهُ نَبِيًّا فِي قَوْمٍ ثُمَّ يَقْبِضُهُ إِلَّا جَعَلَ بَعْدَهُ فَتْرَةً، وَمَلَأَ مِنْ تِلْكَ الْفَتْرَةِ جَهَنَّمَ»ترجمہ
راوی بیان کرتے ہیں: ہم نے تقدیر کا ذکر کیا تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سخت غصے میں آ گئے اور فرمایا: اگر مجھے معلوم ہو جائے کہ اس مجلس میں ان (تقدیر کے منکرین) میں سے کوئی موجود ہے تو میں اسے پکڑ لوں۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”اللہ تعالیٰ نے کسی قوم میں کوئی نبی نہیں بھیجا اور پھر اسے اٹھایا مگر اس کے بعد ایک فترت رکھا، اور اسی فترت میں سے جہنم کو بھر دیا۔“