المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سعيد بن جبير، عن ابن عباس باب: سعید بن جبیر کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 12463
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «جَمَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فِي الْمَدِينَةِ فِي غَيْرِ سَفَرٍ، وَلَا خَوْفٍ» قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: لِمَ تَرَاهُ فَعَلَ ذَلِكَ؟ قَالَ: «أَرَادَ أَنْ لَا يُحْرِجَ أَحَدًا مِنْ أُمَّتِهِ»ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے مدینہ میں ظہر اور عصر کی نمازیں اکٹھی پڑھیں، حالانکہ نہ سفر تھا اور نہ خوف۔ (راوی سعید بن جبیر کہتے ہیں:) میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: آپ کے خیال میں آپ ﷺ نے ایسا کیوں کیا؟ انہوں نے فرمایا: ”آپ ﷺ چاہتے تھے کہ اپنی امت میں سے کسی کو تنگی میں نہ ڈالیں۔“