المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سعيد بن جبير، عن ابن عباس باب: سعید بن جبیر کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 12464
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «جَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَجَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِالْمَدِينَةِ وَهُوَ مُقِيمٌ عَلَى غَيْرِ خَوْفٍ، وَلَا شَيْءٍ اضْطَرَّهُ إِلَى ذَلِكَ» فَقَالُوا: فَلِمَ يَا أَبَا عَبَّاسٍ؟ قَالَ: «أَرَادَ أَنْ لَا يُحْرِجَ أُمَّتَهُ»ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ میں مقیم رہتے ہوئے، بغیر کسی خوف اور بغیر کسی مجبوری کے، ظہر اور عصر کی نمازیں اکٹھی پڑھیں، اور مغرب اور عشاء کی نمازیں بھی اکٹھی پڑھیں۔ لوگوں نے پوچھا: اے ابوعباس! پھر کیوں (ایسا کیا)؟ انہوں نے فرمایا: ”آپ ﷺ چاہتے تھے کہ اپنی امت کو تنگی میں نہ ڈالیں۔“