حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْأَنْمَاطِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَوْنٍ الْخَرَّازُ، ثنا دَاوُدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ، ثنا لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، حَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ عُتَيْبَةَ، وَعَبْدُ الْكَرِيمِ أَبُو أُمَيَّةَ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي رَجُلٍ غَشِي امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ قَالَ: «يَتَصَدَّقُ بِدِينَارٍ أَوْ بِنِصْفِ دِينَارٍ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس آدمی کے بارے میں جس نے اپنی بیوی سے حیض کی حالت میں مباشرت کی فرمایا: ”وہ ایک دینار یا آدھا دینار صدقہ کرے۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ، وَابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَا: أَنَا عَبْدُ الْكَرِيمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَتَى امْرَأَتَهُ فِي حَيْضِهَا فَلْيَتَصَدَّقْ بِدِينَارٍ، وَمَنْ أَتَاهَا وَقَدْ أَدْبَرَ الدَّمُ عَنْهَا وَلَمْ تَغْتَسِلْ فَبِنِصْفِ دِينَارٍ» كُلُّ ذَلِكَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو اپنی بیوی کے پاس اس کے حیض کے دوران جائے وہ ایک دینار صدقہ کرے، اور جو اس کے پاس اس وقت جائے جب خون رک چکا ہو مگر اس نے غسل نہ کیا ہو تو آدھا دینار صدقہ کرے۔“ یہ سب نبی کریم ﷺ سے مروی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أَخْبَرَنِي أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ أَبِي الْمُخَارِقِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَجُلٍ جَامِعَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ قَالَ: «إِنْ كَانَ دَمًا عَبِيطًا فَلْيَتَصَدَّقْ بِدِينَارٍ، وَإِنْ كَانَ صُفْرَةً فَبِنِصْفِ دِينَارٍ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اس آدمی کے بارے میں جس نے اپنی بیوی سے حیض کی حالت میں جماع کیا فرمایا: ”اگر خون تازہ سرخ ہو تو ایک دینار صدقہ کرے، اور اگر زرد رنگ کا ہو تو آدھا دینار۔“
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ الْوَكِيعِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُرَيْمُ بْنُ سُفْيَانَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَنَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «يُصَلِّي الصَّلَاةَ، وَالْحُمُرُ تَعْتَرِكُ بَيْنَ يَدَيْهِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو نماز پڑھتے دیکھا جبکہ گدھے آپ ﷺ کے سامنے آپس میں لڑ رہے تھے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «احْتَجَمَ وَهُوَ صَائِمٌ مُحْرِمٌ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے روزے اور احرام دونوں کی حالت میں پچھنے لگوائے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ السَّقَطِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «احْتَجَمَ وَهُوَ صَائِمٌ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے روزے کی حالت میں پچھنے لگوائے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدُوسِ بْنِ كَامِلٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «احْتَجَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ صَائِمٌ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے احرام اور روزے دونوں کی حالت میں پچھنے لگوائے۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَائِلَةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «تَزَوَّجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ وَاحْتَجَمَ وَهُوَ صَائِمٌ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے احرام کی حالت میں نکاح کیا، اور روزے کی حالت میں پچھنے لگوائے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُلَيْدٍ الْعَبْدِيُّ الْكُوفِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ، ثنا أَبِي، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «احْتَجَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے احرام کی حالت میں پچھنے لگوائے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ أَيُّوبَ الْأَهْوَازِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَفَعَهُ قَالَ: «إِذَا حَضَرَ الْعَشَاءُ وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً روایت ہے: ”جب کھانا حاضر ہو اور نماز کھڑی ہو جائے تو پہلے کھانا کھاؤ۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الدُّولابِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، ح وَحَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى زَحْمَوَيْهِ، ثنا صَالِحُ بْنُ عُمَرَ، كِلَاهُمَا، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَهْدَى الصَّعْبُ بْنُ جَثَّامَةَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارَ وَحْشٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رُدُّوهُ فَإِنَّا مُحْرِمُونَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کو ایک نیل گائے (جنگلی گدھا) تحفے میں دیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسے واپس کر دو، ہم احرام کی حالت میں ہیں۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدٌ الْعِجْلُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْأَجْلَحِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَأْذَنُ امْرَأَةٌ فِي بَيْتِ زَوْجِهَا إِلَّا بِإِذْنِهِ، وَلَا تَقُومُ مِنْ فِرَاشِهَا فَتُصَلِّيَ تَطَوُّعًا إِلَّا بِإِذْنِهِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کوئی عورت اپنے شوہر کے گھر میں اس کی اجازت کے بغیر کسی کو اجازت نہ دے، اور اپنے بستر سے اٹھ کر اس کی اجازت کے بغیر نفل نماز نہ پڑھے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ السَّقَطِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ صَالِحِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «كُفِّنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ نَجْرَانِيَّةٍ كَانَ يَلْبَسُهَا، وَقَمِيصٍ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ کو ایک سرخ نجرانی چادر میں کفنایا گیا جسے آپ ﷺ پہنا کرتے تھے، اور ایک قمیص میں۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " كُفِّنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ: فِي قَمِيصِهِ الَّذِي مَاتَ، وَحُلَّةٍ أَنْبِجَانِيَّةٍ "
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ کو تین کپڑوں میں کفنایا گیا: اس قمیص میں جس میں آپ ﷺ کی وفات ہوئی، اور ایک انبجانی چادر میں۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدُوسٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «كُفِّنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حُلَّةٍ كَانَ يَلْبَسُهَا وَقَمِيصٍ، غَسَّلَهُ الْفَضْلُ وَرَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَكَانَ الْأَنْصَارِيُّ يَصُبُّ عَلَيْهِمُ الْمَاءَ، وَيَغْسِلُ تَحْتَ الثَّوْبِ، وَغُسِّلَ وَعَلَيْهِ قَمِيصٌ لَمْ يُنْزَعْ عَنْهُ حَتَّى غُسِّلَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ کو ایک چادر جسے آپ ﷺ پہنا کرتے تھے اور ایک قمیص میں کفنایا گیا، فضل اور انصار کے ایک آدمی نے آپ ﷺ کو غسل دیا، اور وہ انصاری ان پر پانی ڈالتا اور کپڑے کے نیچے سے دھوتا رہا، اور آپ ﷺ کو اس حال میں غسل دیا گیا کہ آپ ﷺ پر قمیص تھی جو غسل مکمل ہونے تک نہیں اتاری گئی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ، ثنا عِمْرَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «لَعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُخَنَّثِينَ مِنَ الرِّجَالِ، وَالْمُتَرَجِّلَاتِ مِنَ النِّسَاءِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے مردوں میں سے زنانہ پن اپنانے والوں، اور عورتوں میں سے مردانہ پن اپنانے والیوں پر لعنت فرمائی۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْأَنْمَاطِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اللهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ» فَقَالَ رَجُلٌ: وَلِلْمُقَصِّرِينَ، قَالَ: «اللهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ» فَقَالَ رَجُلٌ: وَلِلْمُقَصِّرِينَ، فَقَالَ فِي الثَّالِثَةِ، أَوِ الرَّابِعَةِ: «وَلِلْمُقَصِّرِينَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! سر منڈوانے والوں کو بخش دے۔“ ایک آدمی نے کہا: اور بال کتروانے والوں کو بھی۔ آپ ﷺ نے پھر فرمایا: ”اے اللہ! سر منڈوانے والوں کو بخش دے۔“ اس آدمی نے پھر کہا: اور بال کتروانے والوں کو بھی۔ تو تیسری یا چوتھی بار آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور بال کتروانے والوں کو بھی۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَيْبَةَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنَا شَرِيكٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَفَعَهُ قَالَ: «مَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ قَطُّ، وَمَا مَدَّ عَبْدٌ يَدَهُ بِصَدَقَةٍ إِلَّا أُلْقِيَتْ بِيَدِ اللهِ قَبْلَ أَنْ تَقَعَ فِي يَدِ السَّائِلِ، وَلَا فَتْحَ عَبْدٌ بَابَ مَسْأَلَةٍ لَهُ عَنْهَا غِنًى إِلَّا فَتَحَ اللهُ عَلَيْهِ بَابَ فَقْرٍ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً روایت ہے: ”صدقہ مال کو کبھی کم نہیں کرتا، اور جو بندہ صدقے کے لیے اپنا ہاتھ بڑھاتا ہے تو وہ سائل کے ہاتھ میں پہنچنے سے پہلے اللہ کے ہاتھ میں رکھ دیا جاتا ہے، اور جو بندہ بےضرورت مانگنے کا دروازہ کھولتا ہے، اللہ اس پر فقر کا دروازہ کھول دیتا ہے۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ عُثْمَانَ الْجَزَرِيِّ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ عَلِيٌّ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”سب سے پہلے اسلام لانے والے علی تھے۔“
وَبِهِ مِثْلُهُ سَوَاءٌ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، «قُتِلَ حَمْزَةُ يَوْمَ أُحُدٍ، وَقُتِلَ مَعَهُ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَجَاءَتْهُ صَفِيَّةُ بِنْتُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بِثَوْبَيْنِ لِيُكَفَّنَ فِيهِمَا حَمْزَةُ، فَلَمْ يَكُنْ لِلْأَنْصَارِيِّ كَفَنٌ فَأَسْهَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الثَّوْبَيْنِ، ثُمَّ كُفِّنَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا فِي ثَوْبٍ»
ترجمہ
اسی سند سے مروی ہے: احد کے دن حمزہ رضی اللہ عنہ شہید ہوئے، اور ان کے ساتھ انصار کا ایک آدمی بھی شہید ہوا، تو سیدہ صفیہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہا دو کپڑے لے کر آئیں تاکہ حمزہ رضی اللہ عنہ کو ان میں کفنایا جائے، لیکن اس انصاری کے پاس کفن نہ تھا، تو نبی کریم ﷺ نے دونوں کپڑوں کے درمیان قرعہ ڈالا، پھر ان میں سے ہر ایک کو ایک ایک کپڑے میں کفنایا گیا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عُثْمَانَ الْجَزَرِيِّ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ فَدَعَا فِي نَوَاحِيهِ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ خانہ کعبہ میں داخل ہوئے اور اس کے کونوں میں دعا کی، پھر باہر تشریف لائے اور دو رکعت نماز پڑھی۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي عُثْمَانُ الْجَزَرِيُّ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: فَادَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسَارَى بَدْرٍ، وَكَانَ فِدَاءُ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ أَرْبَعَةَ آلَافٍ، وَقُتِلَ عُقْبَةُ بْنُ أَبِي مُعَيْطٍ قَبْلَ الْفِدَاءِ قَامَ إِلَيْهِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَقَتَلَهُ صَبْرًا فَقَالَ: مَنْ لِلصِّبْيَةِ يَا مُحَمَّدُ؟ قَالَ: «النَّارُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ (بدر کے قیدیوں میں سے) ہر ایک کا فدیہ چار ہزار (درہم) تھا، اور عقبہ بن ابی معیط کو فدیہ لیے جانے سے پہلے ہی قتل کر دیا گیا؛ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اس کی طرف اٹھے اور اسے باندھ کر قتل کیا۔ اس نے کہا: اے محمد! (میرے) بچوں کا کیا ہو گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”آگ۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ الْمُسْتَمْلِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، أَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ عُثْمَانَ الْجَزَرِيِّ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ {وَإِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِيُثْبِتُوكَ} [الأنفال: ٣٠] قَالَ: " تَشَاوَرَتْ قُرَيْشٌ لَيْلَةً بِمَكَّةَ فَقَالَ بَعْضُهُمْ: أَثْبِتُوهُ بِالْوَثَائِقِ يُرِيدُونَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: اقْتُلُوهُ وَقَالَ بَعْضُهُمْ: أَخْرِجُوهُ، فَأَطْلَعَ اللهُ نَبِيَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ذَلِكَ فَبَاتَ عَلِيٌّ عَلَى فِرَاشِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِلْكَ اللَّيْلَةَ، وَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى لَحِقَ بِالْغَارِ، وَبَاتَ الْمُشْرِكُونَ يَحْرُسُونَ عَلِيًّا رَضِي اللهُ عَنْهُ يَحْسِبُونَ أَنَّهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أَصْبَحُوا ثَارُوا إِلَيْهِ فَلَمَّا رَأَوْا عَلِيًّا رَدَّ اللهُ مَكْرَهُمْ، فَقَالُوا: أَيْنَ صَاحِبُكَ؟ قَالَ: لَا أَدْرِي فَاقْتَصُّوا أَثَرَهُ فَلَمَّا بَلَغُوا الْجَبَلَ اخْتَلَطَ عَلَيْهِمْ فَصَعِدُوا الْجَبَلَ فَمَرُّوا بِالْغَارِ فَإِذَا عَلَى بَابِهِ نسيجُ الْعَنْكَبُوتِ فَمَكَثَ فِيهِ ثَلَاثًا "
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے فرمان: ”اور جب کافر لوگ آپ کے خلاف تدبیریں کر رہے تھے تاکہ آپ کو قید کر دیں“ [سورۃ الانفال: 30] کے بارے میں فرماتے ہیں: قریش نے ایک رات مکہ میں مشورہ کیا، ان میں سے بعض نے کہا: اسے (یعنی نبی کریم ﷺ کو) رسیوں سے باندھ کر قید کر دو، بعض نے کہا: اسے قتل کر دو، اور بعض نے کہا: اسے (شہر بدر کر کے) نکال دو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو اس سازش سے آگاہ فرما دیا، تو اس رات سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے بستر پر سو گئے، اور رسول اللہ ﷺ نکل کر غار میں جا پہنچے۔ مشرکین رات بھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی نگرانی کرتے رہے، یہ سمجھتے ہوئے کہ یہ نبی کریم ﷺ ہیں۔ جب صبح ہوئی تو وہ ان پر جھپٹے، مگر جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی چال ناکام کر دی۔ انہوں نے پوچھا: تمہارا ساتھی کہاں ہے؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے نہیں معلوم۔ چنانچہ انہوں نے آپ ﷺ کے نقش قدم کا پیچھا کیا، جب پہاڑ تک پہنچے تو نشان مبہم ہو گیا، وہ پہاڑ پر چڑھے اور غار کے پاس سے گزرے، تو اس کے دروازے پر مکڑی کا جالا تنا ہوا دیکھا۔ آپ ﷺ اس غار میں تین دن ٹھہرے رہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ فُضَيْلِ بْنِ عِيَاضٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ الصَّنْعَانِيُّ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عُثْمَانَ الْجَزَرِيِّ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُرْوَةَ بْنَ مَسْعُودٍ إِلَى الطَّائِفِ فَرَمَاهُ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فَقَتَلَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أَشْبَهُ هَذَا بِصَاحِبِ يس»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو طائف بھیجا، تو ایک شخص نے انہیں تیر مار کر شہید کر دیا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”یہ صاحبِ یٰسین سے کتنا ملتا جلتا ہے۔“