المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
مقسم عن ابن عباس باب: مقسم کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ الْمُسْتَمْلِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، أَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ عُثْمَانَ الْجَزَرِيِّ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ {وَإِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِيُثْبِتُوكَ} [الأنفال: ٣٠] قَالَ: " تَشَاوَرَتْ قُرَيْشٌ لَيْلَةً بِمَكَّةَ فَقَالَ بَعْضُهُمْ: أَثْبِتُوهُ بِالْوَثَائِقِ يُرِيدُونَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: اقْتُلُوهُ وَقَالَ بَعْضُهُمْ: أَخْرِجُوهُ، فَأَطْلَعَ اللهُ نَبِيَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ذَلِكَ فَبَاتَ عَلِيٌّ عَلَى فِرَاشِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِلْكَ اللَّيْلَةَ، وَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى لَحِقَ بِالْغَارِ، وَبَاتَ الْمُشْرِكُونَ يَحْرُسُونَ عَلِيًّا رَضِي اللهُ عَنْهُ يَحْسِبُونَ أَنَّهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أَصْبَحُوا ثَارُوا إِلَيْهِ فَلَمَّا رَأَوْا عَلِيًّا رَدَّ اللهُ مَكْرَهُمْ، فَقَالُوا: أَيْنَ صَاحِبُكَ؟ قَالَ: لَا أَدْرِي فَاقْتَصُّوا أَثَرَهُ فَلَمَّا بَلَغُوا الْجَبَلَ اخْتَلَطَ عَلَيْهِمْ فَصَعِدُوا الْجَبَلَ فَمَرُّوا بِالْغَارِ فَإِذَا عَلَى بَابِهِ نسيجُ الْعَنْكَبُوتِ فَمَكَثَ فِيهِ ثَلَاثًا "سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے فرمان: ”اور جب کافر لوگ آپ کے خلاف تدبیریں کر رہے تھے تاکہ آپ کو قید کر دیں“ [سورۃ الانفال: 30] کے بارے میں فرماتے ہیں: قریش نے ایک رات مکہ میں مشورہ کیا، ان میں سے بعض نے کہا: اسے (یعنی نبی کریم ﷺ کو) رسیوں سے باندھ کر قید کر دو، بعض نے کہا: اسے قتل کر دو، اور بعض نے کہا: اسے (شہر بدر کر کے) نکال دو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو اس سازش سے آگاہ فرما دیا، تو اس رات سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے بستر پر سو گئے، اور رسول اللہ ﷺ نکل کر غار میں جا پہنچے۔ مشرکین رات بھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی نگرانی کرتے رہے، یہ سمجھتے ہوئے کہ یہ نبی کریم ﷺ ہیں۔ جب صبح ہوئی تو وہ ان پر جھپٹے، مگر جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی چال ناکام کر دی۔ انہوں نے پوچھا: تمہارا ساتھی کہاں ہے؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے نہیں معلوم۔ چنانچہ انہوں نے آپ ﷺ کے نقش قدم کا پیچھا کیا، جب پہاڑ تک پہنچے تو نشان مبہم ہو گیا، وہ پہاڑ پر چڑھے اور غار کے پاس سے گزرے، تو اس کے دروازے پر مکڑی کا جالا تنا ہوا دیکھا۔ آپ ﷺ اس غار میں تین دن ٹھہرے رہے۔