حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْبَاقِي الْمِصِّيصِيُّ، ثنا أَبُو عُمَيْرِ بْنُ النَّحَّاسِ، ثنا ضَمْرَةُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي حَمَلَةَ، وَالْأَوْزَاعِيِّ، قَالَا: كَانَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ يَسْجُدُ كُلَّ يَوْمٍ أَلْفَ سَجْدَةٍ
ترجمہ
علی بن ابی حملہ اور اوزاعی رحمہما اللہ بیان کرتے ہیں کہ علی بن عبداللہ بن عباس روزانہ ایک ہزار سجدے کیا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا الْمِنْهَالُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَمَرَنِي الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ: بِتْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْطَلَقْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ صَلَاةَ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ، حَتَّى لَمْ يَبْقَ فِي الْمَسْجِدِ أَحَدٌ غَيْرُهُ، قَالَ: ثُمَّ مَرَّ بِي فَقَالَ: «مَنْ هَذَا؟» قُلْتُ: عَبْدُ اللهِ، قَالَ: «فَمَهْ؟» قُلْتُ: أَمَرَنِي الْعَبَّاسُ أَنْ أَبِيتَ بِكُمُ اللَّيْلَةَ، قَالَ: «فَالْحَقْ» ، قَالَ: فَلَمَّا انْصَرَفَ دَخَلَ فَقَالَ: «أَفْرِشُوا عَبْدَ اللهِ» ، فَأُتِيتُ بِوِسَادَةٍ مِنْ مُسُوحٍ، قَالَ: وَتَقَدَّمَ إِلَيَّ الْعَبَّاسُ: لَا تَنَمْ حَتَّى تَحْفَظَ صَلَاتَهُ، قَالَ: فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَامَ حَتَّى سَمِعْتُ غَطِيطَهُ، فَاسْتَوَى عَلَى فِرَاشِهِ فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَقَالَ: «سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ» ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ مِنْ آخِرِ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ حَتَّى خَتَمَهَا {إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ} ، ثُمَّ قَامَ، ثُمَّ اسْتَنَّ بِسِوَاكِهِ وَتَوَضَّأَ، ثُمَّ دَخَلَ فِي مُصَلَّاهُ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَيْسَتَا بِقَصِيرَتَيْنِ وَلَا بِطَوِيلَتَيْنِ، ثُمَّ عَادَ إِلَى فِرَاشِهِ فَنَامَ حَتَّى سَمِعْتُ غَطِيطَهُ، ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى فِرَاشِهِ فَفَعَلَ كَمَا فَعَلَ فِي الْمَرَّةِ الْأُولَى، ثُمَّ اسْتَنَّ بِسِوَاكِهِ وَتَوَضَّأَ، ثُمَّ دَخَلَ مُصَلَّاهُ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَيْسَتَا بِطَوِيلَتَيْنِ وَلَا قَصِيرَتَيْنِ، ثُمَّ عَادَ إِلَى فِرَاشِهِ فَنَامَ حَتَّى سَمِعْتُ غَطِيطَهُ، ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى فِرَاشِهِ فَفَعَلَ كَمَا فَعَلَ، فَصَلَّى ثُمَّ أَوْتَرَ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ سَمِعْتُهُ يَقُولُ: «اللهُمَّ اجْعَلْ فِي بَصَرِي نُورًا، وَاجْعَلْ فِي سَمْعِي نُورًا، وَاجْعَلْ فِي لِسَانِي نُورًا، وَاجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا، وَاجْعَلْ عَنْ يَمِينِي نُورًا، وَاجْعَلْ عَنْ شِمَالِي نُورًا، وَاجْعَلْ لِي مِنْ أَمَامِي نُورًا، وَاجْعَلْ مِنْ خَلْفِي نُورًا، وَاجْعَلْ مِنْ فَوْقِي نُورًا، وَاجْعَلْ مِنْ أَسْفَلِي نُورًا، وَاجْعَلْ لِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ نُورًا، وَأَعْظِمْ لِي نُورًا»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں مسجد کی طرف گیا، تو رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو عشاء کی نماز پڑھائی، یہاں تک کہ مسجد میں آپ ﷺ کے سوا کوئی نہ رہا۔ پھر آپ ﷺ میرے پاس سے گزرے تو فرمایا: ”یہ کون ہے؟“ میں نے کہا: عبداللہ۔ فرمایا: ”پھر کیا بات ہے؟“ میں نے کہا: عباس نے مجھے حکم دیا ہے کہ آج رات آپ کے ساتھ رہوں۔ فرمایا: ”تو ساتھ ہو جاؤ۔“ کہتے ہیں: جب آپ ﷺ واپس گھر تشریف لائے تو فرمایا: ”عبداللہ کے لیے بستر بچھاؤ۔“ چنانچہ میرے لیے ٹاٹ کا ایک تکیہ لایا گیا۔ کہتے ہیں: عباس نے مجھ سے پہلے ہی کہہ دیا تھا: سو مت جانا یہاں تک کہ آپ ﷺ کی نماز یاد رکھو۔ کہتے ہیں: پھر رسول اللہ ﷺ لیٹے اور سو گئے یہاں تک کہ میں نے آپ ﷺ کی سانس کی آواز سنی، پھر آپ ﷺ بستر پر سیدھے بیٹھے اور اپنا سر آسمان کی طرف اٹھا کر تین بار فرمایا: ”سبحان الملک القدوس“ (پاک ہے وہ بادشاہ جو ہر عیب سے منزہ ہے)، پھر سورۃ آل عمران کے آخر کی یہ آیت ”إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ“ سے لے کر آخر تک تلاوت کی۔ پھر کھڑے ہوئے، مسواک کی، وضو کیا، پھر اپنی جائے نماز میں جا کر دو رکعتیں پڑھیں، نہ چھوٹی نہ لمبی۔ پھر بستر پر واپس آ کر سو گئے یہاں تک کہ میں نے آپ ﷺ کی سانس کی آواز سنی، پھر بستر پر سیدھے بیٹھے اور پہلی بار کی طرح کیا، پھر مسواک کی، وضو کیا، پھر جائے نماز میں جا کر دو رکعتیں پڑھیں، نہ لمبی نہ چھوٹی۔ پھر بستر پر واپس آ کر سو گئے یہاں تک کہ میں نے آپ ﷺ کی سانس کی آواز سنی، پھر بستر پر سیدھے بیٹھے اور ویسے ہی کیا جیسے پہلے کیا تھا، پھر نماز پڑھی، پھر وتر پڑھے۔ جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے آپ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”اے اللہ! میری آنکھ میں نور رکھ دے، میرے کان میں نور رکھ دے، میری زبان میں نور رکھ دے، میرے دل میں نور رکھ دے، میرے دائیں طرف نور رکھ دے، میرے بائیں طرف نور رکھ دے، میرے آگے نور رکھ دے، میرے پیچھے نور رکھ دے، میرے اوپر نور رکھ دے، میرے نیچے نور رکھ دے، قیامت کے دن میرے لیے نور رکھ دے، اور میرے لیے نور کو عظیم بنا دے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ عِيسَى النَّخَعِيُّ، عَنْ مَنْصُورٍ بنِ الْمُعْتَمِرِ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، أَنَّ أَبَاهُ بَعَثَهُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ، قَالَ: فَوَجَدْتُهُ جَالِسًا فِي أَصْحَابِهِ فِي الْمَسْجِدِ، فَلَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ أُكَلِّمَهُ، فَلَمَّا صَلَّى الْمَغْرِبَ قَامَ يَرْكَعُ حَتَّى أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ لِصَلَاةِ الْعِشَاءِ، وَثَّابَ النَّاسُ، ثُمَّ صَلَّى الصَّلَاةَ فَقَامَ يَرْكَعُ، حَتَّى انْصَرَفَ مَنْ بَقِيَ فِي الْمَسْجِدِ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى مَنْزِلِهِ، وَتَبِعْتُهُ، فَلَمَّا سَمِعَ حِسِّي قَالَ: «مَنْ هَذَا؟» وَالْتَفَتَ إِلَيَّ، فَقُلْتُ: ابْنُ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: «ابْنُ عَمِّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟» قُلْتُ: ابْنُ عَمِّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَرْحَبًا بِابْنِ عَمِّ رَسُولِ اللهِ، مَا جَاءَ بِكَ؟» فَقُلْتُ: بَعَثَنِي أَبِي بِكَذَا وَكَذَا، فَقَالَ: «السَّاعَةَ جِئْتَ؟» فَقُلْتُ: لَا، فَقَالَ: «إِذْ لَمْ تَنْصَرِفْ إِلَى سَاعَتِكَ هذِهِ فَلَسْتَ مُنْصَرِفًا» ، فَدَخَلَ مَنْزِلَهُ وَدَخَلْتُ مَعَهُ، فَقُلْتُ: لَأَنْظُرَنَّ صَلَاةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَامَ حَتَّى سَمِعْتُ غَطِيطَهُ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ فَرَمَى بِبَصَرِهِ إِلَى السَّمَاءِ، وَتَلَا هَذِهِ الْآيَاتِ الَّتِي فِي سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ {إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ} إِلَى آخِرِهَا الْآيَاتِ الْخَمْسَ، حَتَّى انْتَهَى إِلَى {إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ} [آل عمران: ١٩٤] ، ثُمَّ قَالَ: «اللهُمَّ اجْعَلْ فِي سَمْعِي نُورًا، وَفِي بَصَرِي نُورًا، وَمِنْ تَحْتِي نُورًا، وَاجْعَلْ لِي عِنْدَكَ نُورًا» ، وَإِلَى جَانِبِهِ مِخْضَبٌ مِنْ بِرَامٍ مُطْبَقٌ عَلَيْهِ سِوَاكٌ، فَاسْتَنَّ ثُمَّ تَوَضَّأَ ثُمَّ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ، وَعَادَ فَنَامَ أَيْضًا حَتَّى سَمِعْتُ غَطِيطَهُ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ فَتَلَا الْآيَاتِ وَدَعَا الدَّعْوَةَ، ثُمَّ اسْتَنَّ ثُمَّ تَوَضَّأَ ثُمَّ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ نَامَ حَتَّى سَمِعْتُ غَطِيطَهُ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ فَتَلَا الْآيَاتِ وَدَعَا الدَّعْوَةَ، ثُمَّ اسْتَنَّ ثُمَّ تَوَضَّأَ ثُمَّ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ نَامَ حَتَّى سَمِعْتُ غَطِيطَهُ، فَتَلَا الْآيَاتِ، ثُمَّ دَعَا بِالدَّعْوَةِ، ثُمَّ اسْتَنَّ ثُمَّ تَوَضَّأَ ثُمَّ صَلَّى صَلَاةً عَرَفْتُ أَنَّهُ يُوتِرُ فِيهَا، فَجِئْتُ إِلَى رُكْنِهِ الْأَيْسَرِ، فَأَخَذَ بِأُصْبُعِهِ فِي أُذُنِي، فَأَدَارَنِي حَتَّى أَقَامَنِي إِلَى رُكْنِهِ الْأَيْمَنِ، ثُمَّ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ الْفَجْرَ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ "
ترجمہ
(اسی روایت کا تسلسل:) لوگ جلدی سے کھڑے ہو گئے، پھر آپ ﷺ نے نماز پڑھائی اور رکوع کے لیے کھڑے ہوئے، یہاں تک کہ جو لوگ مسجد میں باقی رہ گئے تھے وہ بھی چلے گئے۔ پھر آپ ﷺ اپنے گھر کی طرف روانہ ہوئے اور میں آپ ﷺ کے پیچھے چل پڑا۔ جب آپ ﷺ نے میری آہٹ سنی تو فرمایا: ”یہ کون ہے؟“ اور میری طرف متوجہ ہوئے، تو میں نے کہا: ابن عباس۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ کے چچا کا بیٹا؟“ میں نے کہا: جی، رسول اللہ ﷺ کے چچا کا بیٹا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”رسول اللہ کے چچا زاد کو خوش آمدید، تمہیں کیا لایا؟“ میں نے کہا: مجھے میرے والد نے فلاں فلاں بات کے لیے بھیجا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ابھی آئے ہو؟“ میں نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”چونکہ تم ابھی واپس نہیں جا رہے تو اب واپس نہیں جاؤ گے۔“ پھر آپ ﷺ اپنے گھر میں داخل ہوئے اور میں بھی آپ ﷺ کے ساتھ داخل ہوا۔ میں نے دل میں کہا: میں ضرور رسول اللہ ﷺ کی نماز دیکھوں گا۔ چنانچہ آپ ﷺ سو گئے یہاں تک کہ میں نے آپ ﷺ کی سانس کی آواز سنی، پھر بیدار ہوئے اور اپنی نظر آسمان کی طرف کی اور سورۃ آل عمران کی یہ آیات ”إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ“ سے لے کر آخر تک پانچ آیات تلاوت کیں، یہاں تک کہ ”إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ“ [سورۃ آل عمران: 194] پر ختم کیں، پھر فرمایا: ”اے اللہ! میرے کان میں نور رکھ دے، میری آنکھ میں نور رکھ دے، میرے نیچے نور رکھ دے، اور میرے لیے اپنے پاس نور رکھ دے۔“ اور آپ ﷺ کے پہلو میں مٹی کے برتن کی ایک لگن تھی جس پر مسواک رکھی تھی، تو آپ ﷺ نے مسواک کی، پھر وضو کیا، پھر دو رکعتیں پڑھیں۔ پھر دوبارہ سو گئے یہاں تک کہ میں نے آپ ﷺ کی سانس کی آواز سنی، پھر بیدار ہوئے اور آیات تلاوت کیں اور وہی دعا کی، پھر مسواک کی، وضو کیا، پھر دو رکعتیں پڑھیں۔ پھر سو گئے یہاں تک کہ میں نے آپ ﷺ کی سانس کی آواز سنی، پھر بیدار ہوئے اور آیات تلاوت کیں اور وہی دعا کی، پھر مسواک کی، وضو کیا، پھر دو رکعتیں پڑھیں۔ پھر سو گئے یہاں تک کہ میں نے آپ ﷺ کی سانس کی آواز سنی، پھر آیات تلاوت کیں، پھر وہی دعا کی، پھر مسواک کی، وضو کیا، پھر ایسی نماز پڑھی جس کے بارے میں مجھے معلوم ہو گیا کہ آپ ﷺ اس میں وتر پڑھ رہے ہیں۔ میں آپ ﷺ کے بائیں جانب کھڑا ہو گیا تو آپ ﷺ نے اپنی انگلی سے میرا کان پکڑا اور مجھے گھما کر اپنی دائیں جانب کھڑا کر دیا۔ پھر آپ ﷺ نے فجر کی دو رکعتیں پڑھیں، پھر نماز کے لیے باہر تشریف لے گئے۔
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ هَاشِمٍ الْبَيْرُوتِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ الْأَوْزَاعِيَّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ الْمَخْزُومِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ بنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: عُرِضَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا هُوَ مَفْتُوحٌ عَلَى أُمَّتِهِ مِنْ بَعْدِهِ كَفْرًا كَفْرًا، فَسُرَّ بِذَلِكَ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَى} [الضحى: ٥] ، فَأَعْطَاهُ اللهُ فِي الْجَنَّةِ أَلْفَ قَصْرٍ، فِي كُلِّ قَصْرٍ مَا يَنْبَغِي لَهُ مِنَ الْوِلْدَانِ وَالْخَدَمِ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے وہ بستیاں پیش کی گئیں جو آپ ﷺ کے بعد آپ ﷺ کی امت پر بستی بستی فتح ہونے والی تھیں، تو آپ ﷺ اس پر خوش ہوئے، چنانچہ اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ”اور عنقریب آپ کا رب آپ کو (اتنا) عطا فرمائے گا کہ آپ راضی ہو جائیں گے“ [سورۃ الضحیٰ: 5]، اور اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو جنت میں ایک ہزار محل عطا فرمائے، ہر محل میں اتنے خدام اور بچے (خدمت گار) دیے جتنے آپ ﷺ کے شایانِ شان تھے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: صَلَّى بِنَا الْمَهْدِيُّ فَجَهَرَ بِبِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، فَقُلْتُ لَهُ فِي ذَلِكَ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَجْهَرُ بِبِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
ترجمہ
ایک راوی بیان کرتے ہیں کہ خلیفہ مہدی نے ہمیں نماز پڑھائی تو انہوں نے بسم اللہ الرحمن الرحیم بلند آواز سے پڑھی۔ میں نے اس بارے میں ان سے دریافت کیا تو انہوں نے بتایا: مجھے میرے والد نے اپنے والد سے، انہوں نے اپنے دادا سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ بسم اللہ الرحمن الرحیم بلند آواز سے پڑھا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَتَبَ إِلَيَّ الْمَهْدِيُّ بِعَهْدِي، وَأَمَرَنِي أَنْ أَصْلُبَ فِي الْحُكْمِ، وَقَالَ فِي كِتَابِهِ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَالَ رَبُّكُمْ: وَعِزَّتِي وَجَلَالِي، لَأَنْتَقِمَنَّ مِنَ الظَّالِمِ فِي عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ، وَلَأَنْتَقِمَنَّ مِمَّنْ رَأَى مَظْلُومًا فَقَدَرَ أَنْ يَنْصُرَهُ فَلَمْ يَفْعَلْ "
ترجمہ
ایک راوی بیان کرتے ہیں: مہدی نے مجھے میری تقرری کا فرمان لکھ بھیجا اور مجھے حکم دیا کہ میں فیصلوں میں سختی اختیار کروں، اور اپنے فرمان میں لکھا: مجھے میرے والد نے اپنے والد سے، انہوں نے اپنے دادا سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے رب نے فرمایا ہے: مجھے اپنی عزت اور جلال کی قسم! میں ظالم سے دنیا اور آخرت دونوں میں انتقام لوں گا، اور اس شخص سے بھی انتقام لوں گا جو کسی مظلوم کو دیکھے، اس کی مدد پر قادر ہو، پھر بھی مدد نہ کرے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُصَرِّفُ بْنُ عَمْرٍو الْيَامِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَيْقَظَ مِنَ اللَّيْلِ اسْتَاكَ، ثُمَّ يَتَوَضَّأُ وَيَقْرَأُ {إِنَّ فِي اخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ} [يونس: ٦] إِلَى آخِرِ الْآيَتَيْنِ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَنَامَ حَتَّى نَفَخَ فِي النَّوْمِ، ثُمَّ قَامَ فَفَعَلَ مِثْلَهَا، ثُمَّ أَتَى مَضْجَعَهُ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ كَمَا فَعَلَ أَوَّلَ مَرَّةٍ، ثُمَّ أَوْتَرَ بِثَلَاثٍ .
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ جب رات کو بیدار ہوتے تو مسواک کرتے، پھر وضو فرماتے اور یہ آیت پڑھتے: ”بے شک رات اور دن کے بدلتے رہنے میں...“ [سورۃ یونس: 6] دو آیتوں کے آخر تک، پھر کھڑے ہو کر دو رکعتیں پڑھتے، پھر لیٹ کر سو جاتے یہاں تک کہ نیند میں سانس کی آواز آنے لگتی، پھر کھڑے ہو کر پہلے جیسی نماز پڑھتے، پھر اپنے بستر پر آتے، پھر کھڑے ہو کر دو رکعتیں پڑھتے، پھر پہلی بار کی طرح کرتے، پھر تین رکعت وتر پڑھتے۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ حَمْزَةَ الزَّيَّاتِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ، وَلَمْ يَقُلْ: عَنْ أَبِيهِ
ترجمہ
اسی طرح کی حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما کے واسطے سے نبی کریم ﷺ سے مروی ہے۔
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الصَّبَّاحِ الرَّقِّيُّ، ثنا الْعَلَاءُ بْنُ هِلَالٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، حَدَّثَنِي حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّهَارِ مَثْنَى مَثْنَى
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ دن میں دو دو رکعت کر کے نماز پڑھا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ، وَعَلَى الْكَعْبَةِ ثَلَاثُمِائَةِ صَنَمٍ وَسِتُّونَ صَنَمًا، قَدْ شَدَّ لَهُمْ إِبْلِيسُ أَقْدَامَهُمْ بِالرَّصَاصِ، فَجَاءَ وَمَعَهُ قَضِيبُهُ، فَجَعَلَ يَهْوِي بِهِ إِلَى كُلِّ صَنَمٍ مِنْهَا فَيَخِرُّ لِوَجْهِهِ، وَيَقُولُ: «جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ، إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا» ، حَتَّى أَمَرَّ بِهِ عَلَيْهَا كُلِّهَا
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: کعبہ پر تین سو ساٹھ بت رکھے ہوئے تھے، جنہیں ابلیس نے سیسے سے ان کے پاؤں (زمین میں) جما رکھا تھا۔ تو رسول اللہ ﷺ اپنی چھڑی لیے آئے اور ہر بت پر اسے مارنے لگے، تو وہ اوندھے منہ گر پڑتا، اور آپ ﷺ فرماتے جاتے: ”حق آ گیا اور باطل مٹ گیا، بے شک باطل مٹنے ہی والا تھا“ [سورۃ الاسراء: 81]، یہاں تک کہ آپ ﷺ نے سب بتوں پر یہی عمل دہرایا۔
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَهِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ كَتِفًا أَوْ لَحْمًا، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَمَضْمَضْ وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دستی یا (کسی اور جگہ کا) گوشت کھایا، پھر بغیر کلی کیے اور بغیر پانی چھوئے نماز پڑھ لی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ عُضْوًا، وَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے (بکری کے) ایک عضو کا گوشت کھایا اور بغیر وضو کیے نماز پڑھ لی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمٍ الرَّازِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: أَكَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ ضُبَاعَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ كَتِفًا عَرْقًا، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ضباعہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے گھر ہڈی سمیت بھنی ہوئی دستی کا گوشت کھایا، پھر بغیر پانی چھوئے نماز پڑھ لی۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، ثنا ابْنُ ثَوْبَانَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: أَكَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَحْمًا، وَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے گوشت کھایا اور بغیر وضو کیے نماز پڑھ لی۔
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَكَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ ضُبَاعَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ كَتِفًا
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ضباعہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے گھر دستی کا گوشت کھایا۔
حَدَّثَنَا إِدْرِيسُ بْنُ جَعْفَرٍ الْعَطَّارُ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ح وَحَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ حَمْدَانَ الْحَنَفِيُّ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ كَتِفًا، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يُحْدِثْ وُضُوءًا
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے دستی کا گوشت کھایا، پھر نیا وضو کیے بغیر نماز کے لیے نکل گئے۔
حَدَّثَنَا إِدْرِيسُ بْنُ جَعْفَرٍ الْعَطَّارُ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ خَالَوَيْهِ الْوَاسِطِيُّ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ الْحَنْظَلِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ رَأَى نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ مِنْ كَتِفٍ مَشْوِيَّةٍ، ثُمَّ صَلَّى وَمَا تَوَضَّأَ مِنْ ذَلِكَ
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اللہ ﷺ کو بھنی ہوئی دستی کا گوشت کھاتے دیکھا، پھر آپ ﷺ نے نماز پڑھی اور اس کی وجہ سے وضو نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ سُلَيْمَانَ النَّوْفَلِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْعَبَّاسِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَحِبُّوا اللهَ لِمَا يَغْذُوكُمْ مِنْ نِعَمِهِ، وَأَحِبُّونِي لِحُبِّ اللهِ، وَأَحَبُّوا أَهْلَ بَيْتِي لِحُبِّي»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ سے اس کی ان نعمتوں کی وجہ سے محبت کرو جن سے وہ تمہیں پالتا ہے، اور مجھ سے اللہ کی محبت کی وجہ سے محبت کرو، اور میرے اہلِ بیت سے میری محبت کی وجہ سے محبت کرو۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ، ثنا مَهْدِيُّ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّمْلِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَا: ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ مُصْعَبٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ لَزِمَ الِاسْتِغْفَارَ جَعَلَ اللهُ لَهُ مِنْ كُلِّ هَمٍّ فَرَجًا، وَمِنْ كُلِّ ضِيقٍ مَخْرَجًا، وَرَزَقَهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص استغفار کو لازم پکڑے، اللہ تعالیٰ ہر پریشانی سے نکلنے کی راہ بنا دیتا ہے، ہر تنگی سے کشادگی عطا فرماتا ہے، اور اسے ایسی جگہ سے رزق دیتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہ ہو۔“
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ هَاشِمٍ الطُّوسِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ يَقْظَانَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْمُؤْمِنَ خُلِقَ مُفَتَّنًا تَوَّابًا نَسَّاءً، إِذَا ذُكِّرَ ذَكَرَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک مومن آزمائش میں پڑنے والا، بار بار توبہ کرنے والا، اور بھول جانے والا پیدا کیا گیا ہے، جب اسے یاد دلایا جائے تو وہ یاد کر لیتا ہے۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدٌ الْعِجْلُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرُّوذِيُّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ قَرْمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِطَيْرٍ فَقَالَ: «اللهُمَّ ائْتِنِي بِأَحَبِّ خَلْقِكَ إِلَيْكَ» ، فَجَاءَ عَلِيٌّ، فَقَالَ: «اللهُمَّ وَإِلَيَّ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: نبی کریم ﷺ کے پاس ایک پرندہ لایا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! اپنی مخلوق میں سے اپنے سب سے محبوب بندے کو میرے پاس لے آ۔“ چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! اسے بھی محبوب بنا۔“
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: بَعَثَنِي الْعَبَّاسُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْتُهُ مُمْسِيًا، وَهُوَ فِي بَيْتِ خَالَتِي مَيْمُونَةَ، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ، فَلَمَّا صَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ قَالَ: «اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ رَحْمَةً مِنْ عِنْدِكَ تَهْدِي بِهَا قَلْبِي، وَتَجْمَعُ بِهَا شَمْلِي، وَتَلُمَّ بِهَا شَعَثِي، وَتُرَدَّ بِهَا أُلْفَتِي، وَتُصْلِحُ بِهَا دِينِي، وَتَحْفَظُ بِهَا غَائِبِي، وَتَرْفَعُ بِهَا شَاهِدِي، وَتُزَكِّي بِهَا عَمَلِي، وَتُبَيِّضُ بِهَا وَجْهِي، وَتُلْهِمُنِي بِهَا رُشْدِي، وَتَعْصِمُنِي بِهَا مِنْ كُلِّ سُوءٍ، اللهُمَّ أَعْطِنِي إِيمَانًا صَادِقًا، وَيَقِينًا لَيْسَ بَعْدَهُ كُفْرٌ، وَرَحْمَةً أَنَالُ بِهَا شَرَفَ كَرَامَتِكَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْفَوْزَ عِنْدَ الْقَضَاءِ، وَنُزُلَ الشُّهَدَاءِ، وَعَيْشَ السُّعَدَاءِ، وَمُرَافَقَةَ الْأَنْبِيَاءِ، وَالنَّصْرَ عَلَى الْأَعْدَاءِ، اللهُمَّ أَنْزَلْتُ بِكَ حَاجَتِي، وَإِنْ قَصُرَ رَأْيِي، وَضَعُفَ عَمَلِي، وَافْتَقَرْتُ إِلَى رَحْمَتِكَ، فَأَسْأَلُكَ يَا قَاضِيَ الْأُمُورِ، وَيَا شَافِيَ الصُّدُورِ، كَمَا تُجِيرُ بَيْنَ الْبُحُورِ أَنْ تُجِيرَنِي مِنْ عَذَابِ السَّعِيرِ، وَمِنْ دَعْوَةِ الثُّبُورِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْقُبُورِ، اللهُمَّ مَا قَصُرَ عَنْهُ رَأْيِي، وَضَعُفَ عَنْهُ عَمَلِي، وَلَمْ تَبْلُغْهُ أُمْنِيَتِي مِنْ خَيْرٍ وَعَدْتَهُ أَحَدًا مِنْ عِبَادِكَ، أَوْ خَيْرٍ أَنْتَ مُعْطِيهِ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ؛ فَإِنِّي أَرْغَبُ إِلَيْكَ فِيهِ، وَأَسْأَلُكَ يَا رَبَّ الْعَالَمِينَ، اللهُمَّ اجْعَلْنَا هَادِينَ مَهْدِيِّينَ، غَيْرَ ضَالِّينَ وَلَا مُضِلِّينَ، حَرْبًا لِأَعْدَائِكَ، وَسِلْمًا لِأَوْلِيَائِكَ، نُحِبُّ بِحُبِّكَ النَّاسَ، وَنُعَادِي بِعَدَاوَتِكَ مَنْ خَالَفَكَ مِنْ خَلْقِكَ، اللهُمَّ هَذَا الدُّعَاءُ، وَعَلَيْكَ الَاسْتِجَابَةُ، اللهُمَّ وَهَذَا الْجُهْدُ، وَعَلَيْكَ التُّكْلَانُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ، اللهُمَّ ذَا الْحَبْلِ الشَّدِيدِ، وَالْأَمْرِ الرَّشِيدِ، أَسْأَلُكَ الْأَمْنَ يَوْمَ الْوَعِيدِ، وَالْجَنَّةَ يَوْمَ الْخُلُودِ، مَعَ الْمُقَرَّبِينَ الشُّهُودِ، وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ، وَالْمُوفِينَ بِالْعُهُودِ، إِنَّكَ رَحِيمٌ وَدُودٌ، وَإِنَّكَ تَفْعَلُ مَا تُرِيدُ، سُبْحَانَ الَّذِي تَعَطَّفَ الْعِزَّ وَقَالَ بِهِ، سُبْحَانَ الَّذِي لَا يَنْبَغِي الْحَمْدُ إِلَّا لَهُ، سُبْحَانَ ذِي الْعَرْشِ وَالْبَهَاءِ، سُبْحَانَ ذِي الْمَقْدِرَةِ وَالْكَرَمِ، سُبْحَانَ الَّذِي أَحْصَى كُلَّ شَيْءٍ بِعِلْمِهِ، اللهُمَّ اجْعَلْ لِي نُورًا فِي قَلْبِي، وَنُورًا فِي قَبْرِي، وَنُورًا فِي سَمْعِي، وَنُورًا فِي بَصَرِي، وَنُورًا فِي شَعْرِي، وَنُورًا فِي بَشَرِي، وَنُورًا فِي لَحْمِي، وَنُورًا فِي دَمِي، وَنُورًا فِي عِظَامِي، وَنُورًا مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ، وَنُورًا مِنْ خَلْفِي، وَنُورًا عَنْ يَمِينِي، وَنُورًا عَنْ شِمَالِي، وَنُورًا مِنْ فَوْقِي، وَنُورًا مِنْ تَحْتِي، اللهُمَّ زِدْنِي نُورًا، وَأَعْظِمْ لِي نُورًا، وَاجْعَلْ لِي نُورًا»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں شام کے وقت آپ ﷺ کے پاس پہنچا، اور آپ ﷺ میری خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھے۔ رسول اللہ ﷺ رات کو نماز کے لیے کھڑے ہوئے، جب آپ ﷺ نے فجر سے پہلے کی دو رکعتیں پڑھ لیں تو فرمایا: ”اے اللہ! میں تجھ سے اپنے پاس سے ایسی رحمت مانگتا ہوں جس سے تو میرے دل کی رہنمائی کرے، اس سے میری پراگندگی سمیٹے، میری منتشر حالت جمع کرے، میری الفت لوٹائے، میرے دین کی اصلاح کرے، میری غیر موجودگی کی حفاظت کرے، میرا مقام بلند کرے، میرے عمل کو پاکیزہ بنائے، میرا چہرہ روشن کرے، مجھے اس سے ہدایت کا الہام دے، اور مجھے ہر برائی سے محفوظ رکھے۔ اے اللہ! مجھے سچا ایمان عطا فرما، اور ایسا یقین جس کے بعد کفر نہ ہو، اور ایسی رحمت جس سے میں دنیا اور آخرت میں تیری عزت و کرامت کا شرف پاؤں۔ اے اللہ! میں تجھ سے فیصلے کے وقت کامیابی، شہیدوں کی منزل، خوش نصیبوں کی زندگی، انبیاء کی رفاقت، اور دشمنوں پر فتح مانگتا ہوں۔ اے اللہ! میں نے اپنی حاجت تیرے سامنے رکھ دی ہے، اگرچہ میری رائے کمزور اور میرا عمل ناقص ہے، اور میں تیری رحمت کا محتاج ہوں۔ اے تمام معاملات کا فیصلہ کرنے والے، اے سینوں کو شفا دینے والے! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ جیسے تو سمندروں کے درمیان پناہ دیتا ہے، مجھے بھڑکتی آگ کے عذاب سے، ہلاکت کی پکار سے، اور قبر کی آزمائش سے پناہ دے۔ اے اللہ! جو چیز میری رائے سے قاصر رہی، اور میرا عمل جس تک نہ پہنچ سکا، اور میری آرزو جس خیر تک نہ پہنچی جو تو نے اپنے کسی بندے سے وعدہ کیا ہے، یا کوئی ایسی بھلائی جو تو اپنی مخلوق میں سے کسی کو دینے والا ہے، تو میں اس کی بھی تجھ سے رغبت رکھتا ہوں، اور اے تمام جہانوں کے رب! تجھ ہی سے سوال کرتا ہوں۔ اے اللہ! ہمیں ہدایت دینے والا اور ہدایت یافتہ بنا، نہ گمراہ ہونے والا نہ گمراہ کرنے والا، تیرے دشمنوں کے لیے جنگ اور تیرے دوستوں کے لیے صلح والا بنا، ہم تیری محبت کی وجہ سے لوگوں سے محبت کرتے ہیں، اور تیری دشمنی کی وجہ سے تیری مخلوق میں سے جو تیری مخالفت کرے اس سے دشمنی رکھتے ہیں۔ اے اللہ! یہ دعا ہے، اور قبول فرمانا تیرے ذمے ہے، اے اللہ! یہ ہماری کوشش ہے، اور بھروسا تجھی پر ہے، اور گناہوں سے بچنے اور نیکی کرنے کی طاقت صرف اللہ کی توفیق سے ہے۔ اے مضبوط رسی والے، اور درست فیصلے والے! میں تجھ سے وعید کے دن امن، اور ہمیشگی کے دن جنت مانگتا ہوں، مقرب حاضرین، رکوع و سجدہ کرنے والوں، اور وعدے پورے کرنے والوں کے ساتھ، بے شک تو رحم کرنے والا، محبت کرنے والا ہے، اور تو جو چاہے کرتا ہے۔ پاک ہے وہ ذات جس نے عزت کو اوڑھا اور اسے فرمایا، پاک ہے وہ ذات جس کے سوا کسی کے لیے حمد سزاوار نہیں، پاک ہے عرش اور بزرگی والا، پاک ہے قدرت اور کرم والا، پاک ہے وہ ذات جس نے ہر چیز کو اپنے علم سے شمار کر رکھا ہے۔ اے اللہ! میرے دل میں نور رکھ دے، میری قبر میں نور رکھ دے، میرے کان میں نور رکھ دے، میری آنکھ میں نور رکھ دے، میرے بالوں میں نور رکھ دے، میری جلد میں نور رکھ دے، میرے گوشت میں نور رکھ دے، میرے خون میں نور رکھ دے، میری ہڈیوں میں نور رکھ دے، میرے آگے نور رکھ دے، میرے پیچھے نور رکھ دے، میرے دائیں طرف نور رکھ دے، میرے بائیں طرف نور رکھ دے، میرے اوپر نور رکھ دے، میرے نیچے نور رکھ دے۔ اے اللہ! میرا نور بڑھا دے، میرے لیے نور کو عظیم بنا دے، اور میرے لیے نور بنا دے۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْعَلَاءِ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلِّقُوا السَّوْطَ حَيْثُ يَرَاهُ أَهْلُ الْبَيْتِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کوڑا وہاں لٹکا کر رکھو جہاں گھر والے اسے دیکھ سکیں۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلِّقُوا السَّوْطَ حَيْثُ يَرَاهُ أَهْلُ الْبَيْتِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کوڑا وہاں لٹکا کر رکھو جہاں گھر والے اسے دیکھ سکیں۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ بَكَّارٍ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الْخَلَّالُ، ثنا سَلَّامُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عِيسَى وَعَبْدُ الصَّمَدِ ابْنَا عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِمَا، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلِّقُوا السَّوْطَ حَيْثُ يَرَاهُ أَهْلُ الْبَيْتِ؛ فَإِنَّهُ لَهُمْ أَدَبٌ»
ترجمہ
اسی سند سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کوڑا وہاں لٹکا کر رکھو جہاں گھر والے اسے دیکھ سکیں، کیونکہ یہ ان کے لیے تربیت ہے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَسْعُودٍ الْمَقْدِسِيُّ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ، ثنا مَنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلِّقْ سَوْطَكَ حَيْثُ يَرَاهُ أَهْلُكَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اپنا کوڑا وہاں لٹکا کر رکھو جہاں تمہارے گھر والے اسے دیکھ سکیں۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صُبَيْحٍ الزَّيَّاتُ الْكُوفِيُّ، ثنا مَحْمُودُ بْنُ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا أَبِي، عَنْ عِيسَى بْنِ الْمُخْتَارِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَسْقَى فَقَالَ: «اللهُمَّ اسْقِنَا غَيْثًا مُغِيثًا مَرِيعًا، طَبَقًا عَاجِلًا غَيْرَ رَائِثٍ، نَافِعًا غَيْرَ ضَارٍّ» ، فَمَا لَبِثْنَا أَنْ مُطِرْنَا حَتَّى سَالَ كُلُّ شَيْءٍ، حَتَّى أَتَوْهُ فَقَالُوا: قَدْ غَرِقْنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللهُمَّ حَوَالَيْنَا، وَلَا عَلَيْنَا»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے بارش طلب کرتے ہوئے دعا کی: ”اے اللہ! ہمیں ایسی بارش عطا فرما جو (تنگی سے) نجات دلانے والی، پھل لانے والی، جلد آنے والی، دیر نہ کرنے والی، نفع دینے والی اور نقصان نہ دینے والی ہو۔“ تو ابھی زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ بارش برسنے لگی یہاں تک کہ ہر چیز بہنے لگی، حتیٰ کہ لوگ آپ ﷺ کے پاس آ کر کہنے لگے: ہم ڈوب گئے ہیں! تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! ہمارے اردگرد برسا، ہم پر (زیادہ) نہ برسا۔“
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ الْكُوفِيُّ، ثنا مَنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَلَدُ الزِّنَا شَرُّ الثَّلَاثَةِ إِذَا عَمِلَ بِعَمَلِ أَبَوَيْهِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”زنا سے پیدا ہونے والا (حرامی) تینوں میں بدترین ہے جب وہ اپنے والدین جیسا عمل کرے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ الْمُسَاوِرِ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ النَّطَّاحِ، ثنا حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الشِّخِّيرِ قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى إِسْحَاقَ بْنِ عِيسَى بْنِ عَلِيٍّ دَارَهُ، فَحَدَّثَنَا عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهماُ قَالَ: كَانَ لِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَجْلِسٌ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَقُومُ عَنْهُ إِلَّا لِلْعَبَّاسِ، وَكَانَ يَسُرُّ ذَلِكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَقْبَلَ الْعَبَّاسُ يَوْمًا فَزَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ عَنْ مَجْلِسِهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا لَكَ؟» فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، عَمُّكَ قَدْ أَقْبَلَ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ مُبْتَسِمًا فَقَالَ: هَذَا الْعَبَّاسُ قَدْ أَقْبَلَ وَعَلَيْهِ ثِيَابٌ بَيَاضٌ، وَسَيَلْبَسُ وَلَدُهُ مِنْ بَعْدِهِ السَّوَادَ، وَيَمْلِكُ مِنْهُمُ اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا "
ترجمہ
(سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:) اور یہ بات رسول اللہ ﷺ کو خوش کر دیتی تھی۔ ایک دن عباس رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنی جگہ سے ہٹ کر انہیں جگہ دی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں کیا ہوا؟“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ ﷺ کے چچا تشریف لا رہے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کی طرف دیکھا، پھر مسکراتے ہوئے ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”یہ عباس ہیں، سفید کپڑے پہنے آ رہے ہیں، اور ان کے بعد ان کی اولاد سیاہ لباس پہنے گی، اور ان میں سے بارہ آدمی حکومت کریں گے۔“
حَدَّثَنَا إِدْرِيسُ بْنُ جَعْفَرٍ الْعَطَّارُ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ح وَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْهِلَالِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ، قَالَا: ثنا شَيْبَانُ، عَنْ عِيسَى بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُمْنُ الْخَيْلِ فِي شُقْرِهَا»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”گھوڑوں کی برکت ان کے سرخی مائل رنگ میں ہے۔“
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّلَّالُ الْكُوفِيُّ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الْوَلِيدِ الْبَجَلِيُّ، ثنا فَرَجُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ عِيسَى بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُمْنُ الْخَيْلِ فِي شُقْرِهَا، وَأَيْمَنُهَا نَاصِيَةً مَا كَانَ مِنْهَا أَغَرَّ مُحَجَّلًا مُطْلَقَ الْيَدِ الْيُمْنَى»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”گھوڑوں کی برکت ان کے سرخی مائل رنگ میں ہے، اور ان میں سب سے بابرکت وہ ہے جس کی پیشانی پر سفید نشان ہو، جس کے پاؤں سفید ہوں، اور دایاں اگلا پاؤں سفید نہ ہو۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْمَازِنِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنِي أَبِي سُلَيْمَانُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ عَلِيٍّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَمْسَكَ بِرِكَابِ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ، لَا يَرْجُوهُ وَلَا يَخَافُهُ، غُفِرَ لَهُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی رکاب تھامے، نہ اس سے کسی امید کے لیے نہ کسی خوف سے، اسے بخش دیا جائے گا۔“
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا شُعَيْثُ بْنُ مُحْرِزٍ، ثنا عُوَيْنُ بْنُ عَمْرٍو الْقَيْسِيُّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اللهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا يَوْمَ خَمِيسِهَا»
ترجمہ
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! میری امت کے لیے جمعرات کے دن ان کی صبح سویرے (کی مصروفیت) میں برکت عطا فرما۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْمَازِنِيُّ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ حَرْبٍ الشَّقَرِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اشْتَرُوا الرَّقِيقَ، وَشَارِكُوهُمْ فِي أَرْزَاقِهِمْ، يَعْنِي كَسْبَهُمْ، وَإِيَّاكُمْ وَالزَّنْجَ؛ فَإِنَّهُ قَصِيرَةٌ أَعْمَارُهُمْ، قَلِيلَةٌ أَرْزَاقُهُمْ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”غلام خریدو اور ان کی کمائی میں ان کے ساتھ شراکت کرو، یعنی ان کے کسب میں، اور زنگیوں (حبشی غلاموں) سے بچو، کیونکہ ان کی عمریں کم اور ان کے رزق میں کمی ہوتی ہے۔“
حَدَّثَنَا مَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ الْعَطَّارُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ عَطَاءٍ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْحَميْد بْنِ عَبْدِ الْرَحْمَن بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنْ صِيَامِ رَجَبٍ كُلِّهِ
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پورے رجب کے مہینے کا روزہ رکھنے سے منع فرمایا۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ النَّحْوِيُّ الصُّورِيُّ، وَجَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، قَالَا: ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ الْبَجَلِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَهْلُ الْجَنَّةِ عِشْرُونَ وَمِائَةُ صَفٍّ، ثَمَانُونَ مِنْهَا أُمَّتِي»
ترجمہ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اہلِ جنت ایک سو بیس صفیں ہوں گی، ان میں سے اسی صفیں میری امت کی ہوں گی۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ الْمِصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْهَاشِمِيُّ، حَدَّثَتْنَا زَيْنَبُ بِنْتُ سُلَيْمَانَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَتْ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَمَّا أُسْرِيَ بِيَ انْتَهَيْتُ إِلَى سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى، فَإِذَا نَبْقُهَا أَمْثَالُ الْقِلَالِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”جب مجھے معراج کرائی گئی تو میں سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچا، تو اس کے بیر (پھل) بڑے بڑے مٹکوں کی مانند تھے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ، ثنا الْمُغِيرَةُ بْنُ جَمِيلٍ الْكِنْدِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الْوَلَاءَ لَيْسَ بِمُنْتَقِلٍ، وَلَا مُتَحَوِّلٍ»
ترجمہ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک ولاء (غلام آزاد کرنے کا وراثتی حق) نہ منتقل ہوتا ہے نہ بدلتا ہے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ، ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ السِّمْطِ، ثنا صَالِحُ بْنُ عَلِيٍّ الْهَاشِمِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَأَنْ يُرَبِّي أَحَدُكُمْ بَعْدَ أَرْبَعٍ وَخَمْسِينَ وَمِائَةٍ جَرْوَ كَلْبٍ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يُرَبِّيَ وَلَدًا لِصُلْبِهِ»
ترجمہ
صالح بن علی ہاشمی اپنے والد سے، وہ اپنے دادا سے، نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کسی کا ایک سو چوّن (154) کے بعد کتے کا پلا پالنا اس کے لیے اپنے سگے بیٹے کو پالنے سے بہتر ہے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يُحَدِّثُ، أَنَّ اللهَ أَرْسَلَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَلَكًا مِنَ الْمَلَائِكَةِ مَعَ الْمَلَكِ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَقَالَ لَهُ الْمَلَكُ: يَا مُحَمَّدُ، إِنَّ اللهَ عَزَّ جَلَّ يُخَيِّرُكَ بَيْنَ أَنْ تَكُونَ نَبِيًّا عَبْدًا، أَوْ نَبِيًّا مَلِكًا، فَالْتَفَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى جِبْرِيلَ كَالْمُسْتَشِيرِ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ أَنْ تَوَاضَعْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَلْ نَبِيًّا عَبْدًا» ، فَمَا رُؤِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ مُتَّكِئًا حَتَّى لَحِقَ بِرَبِّهِ
ترجمہ
(…) یا نبی بادشاہ بنوں؟ تو رسول اللہ ﷺ نے مشورہ طلب کرنے والے کی طرح جبرائیل علیہ السلام کی طرف دیکھا، تو انہوں نے اشارہ کیا کہ عاجزی اختیار کریں۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بلکہ (میں) نبی بندہ (بنوں گا)۔“ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کو کبھی ٹیک لگا کر کھانا کھاتے نہیں دیکھا گیا یہاں تک کہ آپ ﷺ اپنے رب سے جا ملے۔