المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
علي بن عبد الله بن عباس عن أبيه باب: علی بن عبداللہ بن عباس کی اپنے والد سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا الْمِنْهَالُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَمَرَنِي الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ: بِتْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْطَلَقْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ صَلَاةَ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ، حَتَّى لَمْ يَبْقَ فِي الْمَسْجِدِ أَحَدٌ غَيْرُهُ، قَالَ: ثُمَّ مَرَّ بِي فَقَالَ: «مَنْ هَذَا؟» قُلْتُ: عَبْدُ اللهِ، قَالَ: «فَمَهْ؟» قُلْتُ: أَمَرَنِي الْعَبَّاسُ أَنْ أَبِيتَ بِكُمُ اللَّيْلَةَ، قَالَ: «فَالْحَقْ» ، قَالَ: فَلَمَّا انْصَرَفَ دَخَلَ فَقَالَ: «أَفْرِشُوا عَبْدَ اللهِ» ، فَأُتِيتُ بِوِسَادَةٍ مِنْ مُسُوحٍ، قَالَ: وَتَقَدَّمَ إِلَيَّ الْعَبَّاسُ: لَا تَنَمْ حَتَّى تَحْفَظَ صَلَاتَهُ، قَالَ: فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَامَ حَتَّى سَمِعْتُ غَطِيطَهُ، فَاسْتَوَى عَلَى فِرَاشِهِ فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَقَالَ: «سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ» ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ مِنْ آخِرِ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ حَتَّى خَتَمَهَا {إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ} ، ثُمَّ قَامَ، ثُمَّ اسْتَنَّ بِسِوَاكِهِ وَتَوَضَّأَ، ثُمَّ دَخَلَ فِي مُصَلَّاهُ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَيْسَتَا بِقَصِيرَتَيْنِ وَلَا بِطَوِيلَتَيْنِ، ثُمَّ عَادَ إِلَى فِرَاشِهِ فَنَامَ حَتَّى سَمِعْتُ غَطِيطَهُ، ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى فِرَاشِهِ فَفَعَلَ كَمَا فَعَلَ فِي الْمَرَّةِ الْأُولَى، ثُمَّ اسْتَنَّ بِسِوَاكِهِ وَتَوَضَّأَ، ثُمَّ دَخَلَ مُصَلَّاهُ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَيْسَتَا بِطَوِيلَتَيْنِ وَلَا قَصِيرَتَيْنِ، ثُمَّ عَادَ إِلَى فِرَاشِهِ فَنَامَ حَتَّى سَمِعْتُ غَطِيطَهُ، ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى فِرَاشِهِ فَفَعَلَ كَمَا فَعَلَ، فَصَلَّى ثُمَّ أَوْتَرَ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ سَمِعْتُهُ يَقُولُ: «اللهُمَّ اجْعَلْ فِي بَصَرِي نُورًا، وَاجْعَلْ فِي سَمْعِي نُورًا، وَاجْعَلْ فِي لِسَانِي نُورًا، وَاجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا، وَاجْعَلْ عَنْ يَمِينِي نُورًا، وَاجْعَلْ عَنْ شِمَالِي نُورًا، وَاجْعَلْ لِي مِنْ أَمَامِي نُورًا، وَاجْعَلْ مِنْ خَلْفِي نُورًا، وَاجْعَلْ مِنْ فَوْقِي نُورًا، وَاجْعَلْ مِنْ أَسْفَلِي نُورًا، وَاجْعَلْ لِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ نُورًا، وَأَعْظِمْ لِي نُورًا»سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں مسجد کی طرف گیا، تو رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو عشاء کی نماز پڑھائی، یہاں تک کہ مسجد میں آپ ﷺ کے سوا کوئی نہ رہا۔ پھر آپ ﷺ میرے پاس سے گزرے تو فرمایا: ”یہ کون ہے؟“ میں نے کہا: عبداللہ۔ فرمایا: ”پھر کیا بات ہے؟“ میں نے کہا: عباس نے مجھے حکم دیا ہے کہ آج رات آپ کے ساتھ رہوں۔ فرمایا: ”تو ساتھ ہو جاؤ۔“ کہتے ہیں: جب آپ ﷺ واپس گھر تشریف لائے تو فرمایا: ”عبداللہ کے لیے بستر بچھاؤ۔“ چنانچہ میرے لیے ٹاٹ کا ایک تکیہ لایا گیا۔ کہتے ہیں: عباس نے مجھ سے پہلے ہی کہہ دیا تھا: سو مت جانا یہاں تک کہ آپ ﷺ کی نماز یاد رکھو۔ کہتے ہیں: پھر رسول اللہ ﷺ لیٹے اور سو گئے یہاں تک کہ میں نے آپ ﷺ کی سانس کی آواز سنی، پھر آپ ﷺ بستر پر سیدھے بیٹھے اور اپنا سر آسمان کی طرف اٹھا کر تین بار فرمایا: ”سبحان الملک القدوس“ (پاک ہے وہ بادشاہ جو ہر عیب سے منزہ ہے)، پھر سورۃ آل عمران کے آخر کی یہ آیت ”إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ“ سے لے کر آخر تک تلاوت کی۔ پھر کھڑے ہوئے، مسواک کی، وضو کیا، پھر اپنی جائے نماز میں جا کر دو رکعتیں پڑھیں، نہ چھوٹی نہ لمبی۔ پھر بستر پر واپس آ کر سو گئے یہاں تک کہ میں نے آپ ﷺ کی سانس کی آواز سنی، پھر بستر پر سیدھے بیٹھے اور پہلی بار کی طرح کیا، پھر مسواک کی، وضو کیا، پھر جائے نماز میں جا کر دو رکعتیں پڑھیں، نہ لمبی نہ چھوٹی۔ پھر بستر پر واپس آ کر سو گئے یہاں تک کہ میں نے آپ ﷺ کی سانس کی آواز سنی، پھر بستر پر سیدھے بیٹھے اور ویسے ہی کیا جیسے پہلے کیا تھا، پھر نماز پڑھی، پھر وتر پڑھے۔ جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے آپ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”اے اللہ! میری آنکھ میں نور رکھ دے، میرے کان میں نور رکھ دے، میری زبان میں نور رکھ دے، میرے دل میں نور رکھ دے، میرے دائیں طرف نور رکھ دے، میرے بائیں طرف نور رکھ دے، میرے آگے نور رکھ دے، میرے پیچھے نور رکھ دے، میرے اوپر نور رکھ دے، میرے نیچے نور رکھ دے، قیامت کے دن میرے لیے نور رکھ دے، اور میرے لیے نور کو عظیم بنا دے۔“