حدیث نمبر: 10629
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ الْمُسَاوِرِ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ النَّطَّاحِ، ثنا حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الشِّخِّيرِ قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى إِسْحَاقَ بْنِ عِيسَى بْنِ عَلِيٍّ دَارَهُ، فَحَدَّثَنَا عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهماُ قَالَ: كَانَ لِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَجْلِسٌ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَقُومُ عَنْهُ إِلَّا لِلْعَبَّاسِ، وَكَانَ يَسُرُّ ذَلِكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَقْبَلَ الْعَبَّاسُ يَوْمًا فَزَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ عَنْ مَجْلِسِهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا لَكَ؟» فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، عَمُّكَ قَدْ أَقْبَلَ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ مُبْتَسِمًا فَقَالَ: هَذَا الْعَبَّاسُ قَدْ أَقْبَلَ وَعَلَيْهِ ثِيَابٌ بَيَاضٌ، وَسَيَلْبَسُ وَلَدُهُ مِنْ بَعْدِهِ السَّوَادَ، وَيَمْلِكُ مِنْهُمُ اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا "
ترجمہ

(سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:) اور یہ بات رسول اللہ ﷺ کو خوش کر دیتی تھی۔ ایک دن عباس رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنی جگہ سے ہٹ کر انہیں جگہ دی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں کیا ہوا؟“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ ﷺ کے چچا تشریف لا رہے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کی طرف دیکھا، پھر مسکراتے ہوئے ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”یہ عباس ہیں، سفید کپڑے پہنے آ رہے ہیں، اور ان کے بعد ان کی اولاد سیاہ لباس پہنے گی، اور ان میں سے بارہ آدمی حکومت کریں گے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 10629
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 285، حدیث 10675