کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: اعمش سے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں اختلاف: کہ میں کعبہ کے پردوں سے لپٹا ہوا تھا
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارُ، وَأَبُو خَلِيفَةَ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَا: ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ وَهْبِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: " إِنِّي لَمُسْتَتِرٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ إِذْ جَاءَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ؛ ثَقَفِيٌّ وَخَتَنَاهُ قُرَشِيَّانِ، كَثِيرٌ شَحْمُ بُطُونِهِمْ، قَلِيلٌ فِقْهُهُمْ، فَتَحَدَّثُوا الْحَدِيثَ بَيْنَهُمْ، فَقَالَ أَحَدُهُمْ: تَرَى اللهَ يَسْمَعُ مَا قُلْنَا؟ قَالَ الْآخَرُ: إِذَا رَفَعْنَا يَسْمَعُ، وَإِذَا خَفَضْنَا لَمْ يَسْمَعْ، فَقَالَ الْآخَرُ: إِنْ كَانَ يَسْمَعُ إِذَا رَفَعْنَا فَإِنَّهُ يَسْمَعُ إِذَا خَفَضْنَا، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَمَا كُنْتُمُ تَسْتَتِرُونَ أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلَا أَبْصَارُكُمْ وَلَا جُلُودُكُمْ وَلَكِنْ ظَنَنْتُمْ أَنَّ اللهَ لَا يَعْلَمُ كَثِيرًا مِمَّا تَعْمَلُونَ} [فصلت: ٢٢] إِلَى قَوْلِهِ {مِنَ الْخَاسِرِينَ} [فصلت: ٢٣] ". هَكَذَا رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَخَالَفَهُ أَبُو مُعَاوِيَةَ وَأَصْحَابُ الْأَعْمَشِ .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”میں کعبہ کے پردوں کے پیچھے چھپا ہوا تھا کہ تین آدمی آئے؛ ایک ثقفی اور اس کے دو داماد قریشی تھے، جن کے پیٹ چربی سے بھرے ہوئے تھے مگر سمجھ بوجھ کم تھی، انہوں نے آپس میں باتیں کیں، تو ان میں سے ایک نے کہا: کیا تمہارا خیال ہے کہ اللہ ہماری باتیں سنتا ہے؟ دوسرے نے کہا: جب ہم بلند آواز سے بولتے ہیں تو سنتا ہے، اور جب آہستہ بولتے ہیں تو نہیں سنتا، تو تیسرے نے کہا: اگر وہ بلند آواز سے بولنے پر سنتا ہے تو آہستہ بولنے پر بھی سن لے گا۔ چنانچہ میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور آپ سے اس کا ذکر کیا، تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ”اور تم اس بات سے تو پردہ نہیں کرتے تھے کہ تمہارے خلاف تمہارے کان، تمہاری آنکھیں اور تمہاری کھالیں گواہی دیں گی، بلکہ تم نے یہ گمان کیا تھا کہ اللہ تمہارے بہت سے اعمال کو نہیں جانتا“ [سورۃ فصلت: 22] سے لے کر ”خسارہ پانے والوں میں سے“ [سورۃ فصلت: 23] تک۔“
اس طرح اسے سفیان ثوری نے روایت کیا ہے، جبکہ ابومعاویہ اور اعمش کے دیگر شاگردوں نے ان کی مخالفت کی ہے۔
اس طرح اسے سفیان ثوری نے روایت کیا ہے، جبکہ ابومعاویہ اور اعمش کے دیگر شاگردوں نے ان کی مخالفت کی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا قَبِيصَةُ، عَنْ قُطْبَةَ قَالَ: قَالَ فُلَانٌ لِلْأَعْمَشِ: حَدِّثْ بِحَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ اللهِ: كُنْتُ مُسْتَتِرًا بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ، إِنَّ سُفْيَانَ يُحَدِّثُ بِهِ عَنْكَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ وَهْبِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ: فَهَمْهَمَ الْأَعْمَشُ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ: هُوَ كَمَا قَالَ سُفْيَانُ
ترجمہ
فلاں شخص نے اعمش سے کہا: عبدالرحمٰن بن یزید کی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے وہ حدیث بیان کیجیے: ”میں کعبہ کے پردوں کے پیچھے چھپا ہوا تھا“، کیونکہ سفیان اسے آپ کے واسطے سے، عمارہ بن عمیر کے واسطے سے، وہب بن ربیعہ سے بیان کرتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں: تو اعمش کچھ دیر کھنکارتے رہے، پھر کہا: بات ویسی ہی ہے جیسے سفیان نے کہی۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: " كُنْتُ مُسْتَتِرًا بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ، فَجَاءَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ، كَثِيرٌ شَحْمُ بُطُونِهِمْ، قَلِيلٌ فِقْهُ قُلُوبِهِمْ، قُرَشِيٌّ وَخَتَنَاهُ ثَقَفِيَّانِ، أَوْ ثَقَفِيٌّ وَخَتَنَاهُ قُرَشِيَّانِ، فَتَكَلَّمُوا بِكَلَامٍ لَمْ أَفْقَهْهُ، فَقَالَ أَحَدُهُمْ: تَرَى اللهَ يَسْمَعُ كَلَامَنَا، وَقَالَ الْآخَرُ: إِذَا رَفَعْنَا أَصْوَاتَنَا سَمِعَهَا، فَإِذَا لَمْ نَرْفَعْ لَمْ يَسْمَعْهَا، وَقَالَ الْآخَرُ: إِنْ سَمِعَ مِنْهُ شَيْئًا سَمِعَهُ كُلَّهُ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلَا أَبْصَارُكُمْ} [فصلت: ٢٢] الْآيَةَ ".
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”میں کعبہ کے پردوں کے پیچھے چھپا ہوا تھا، تو تین آدمی آئے، جن کے پیٹ چربی سے بھرے ہوئے تھے مگر ان کے دلوں میں سمجھ بوجھ کم تھی، ایک قریشی تھا اور اس کے دو داماد ثقفی تھے، یا ایک ثقفی تھا اور اس کے دو داماد قریشی تھے، انہوں نے ایسی بات کی جو میں سمجھ نہ سکا، تو ان میں سے ایک نے کہا: کیا تمہارا خیال ہے کہ اللہ ہماری بات سنتا ہے؟ دوسرے نے کہا: جب ہم اپنی آوازیں بلند کرتے ہیں تو سن لیتا ہے، اور جب بلند نہ کریں تو نہیں سنتا، تیسرے نے کہا: اگر وہ اس میں سے کچھ سنتا ہے تو سب کچھ سنتا ہے۔ چنانچہ میں نے یہ بات رسول اللہ ﷺ سے ذکر کی، تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ”اور تم اس بات سے تو پردہ نہیں کرتے تھے کہ تمہارے خلاف تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں گواہی دیں گی“ [سورۃ فصلت: 22] مکمل آیت۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَتَّاتُ الْكُوفِيُّ، ثنا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: «كُنْتُ مُسْتَتِرًا بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ، فَجَاءَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ» ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ. رَوَاهُ زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ، فَخَالَفَ الثَّوْرِيَّ وَأَصْحَابَ الْأَعْمَشِ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”میں کعبہ کے پردوں کے پیچھے چھپا ہوا تھا، تو تین آدمی آئے“، پھر راوی نے ابومعاویہ کی حدیث کی طرح بیان کیا۔
اسے زید بن ابی انیسہ نے روایت کیا ہے، جس میں انہوں نے سفیان ثوری اور اعمش کے دیگر شاگردوں کی مخالفت کی ہے۔
اسے زید بن ابی انیسہ نے روایت کیا ہے، جس میں انہوں نے سفیان ثوری اور اعمش کے دیگر شاگردوں کی مخالفت کی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَرُوبَةَ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَرَّانِيُّ، وَأَبُو عَقِيلٍ أَنَسُ بْنُ سَلْمٍ الْخَوْلَانِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو الْمُعَافَى مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ الْحَرَّانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: " كُنْتُ مُسْتَتِرًا بِحِجَابِ الْكَعْبَةِ، وَفِي الْمَسْجِدِ رَجُلٌ مِنْ ثَقِيفٍ وَخَتَنَاهُ قُرَشِيَّانِ، فَقَالَ: تَرَوْنَ اللهَ يَسْمَعُ دَنْدَنَتَنَا؟ فَقَالَ أَحَدُهُمَا: أَنْ يَسْمَعَ إِذَا رَفَعْنَا، فَقَالَ الْآخَرُ: إِنْ كَانَ يَسْمَعُ إِذَا رَفَعْنَا لَيَسْمَعَنَّ إِذَا خَفَضْنَا "، قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: " فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ بِقَوْلِهِمْ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلَا أَبْصَارُكُمْ وَلَا جُلُودُكُمْ} [فصلت: ٢٢] " إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، وَخَالَفَهُمُ الْمَسْعُودِيُّ.
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”میں کعبہ کے پردے کے پیچھے چھپا ہوا تھا، اور مسجد میں ثقیف کا ایک آدمی اور اس کے دو داماد قریشی موجود تھے، تو اس نے کہا: کیا تمہارا خیال ہے کہ اللہ ہماری بڑبڑاہٹ سنتا ہے؟ تو ان میں سے ایک نے کہا: جب ہم بلند آواز سے بولیں تو سنتا ہے، دوسرے نے کہا: اگر وہ بلند آواز سے بولنے پر سنتا ہے تو ہمارے آہستہ بولنے پر بھی ضرور سنے گا۔“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”چنانچہ میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور آپ کو ان کی بات بتائی، تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ”اور تم اس بات سے تو پردہ نہیں کرتے تھے کہ تمہارے خلاف تمہارے کان، تمہاری آنکھیں اور تمہاری کھالیں گواہی دیں“ آیت کے آخر تک۔“
اس میں مسعودی نے ان کی مخالفت کی ہے۔
اس میں مسعودی نے ان کی مخالفت کی ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الدَّقِيقِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا مُسْتَتِرٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”میں کعبہ کے پردوں کے پیچھے چھپا ہوا تھا“، پھر راوی نے زید بن ابی انیسہ کی حدیث کی طرح بیان کیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: " جَلَسَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ عِنْدَ بَابِ الْكَعْبَةِ، قُرَشِيَّانِ وَثَقَفِيٌّ أَوْ ثَقَفِيَّانِ وَقُرَشِيٌّ، فَأَسَرَّ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ بِأَمْرٍ، فَقَالَ أَحَدُهُمْ: أَتَرَوْنَ اللهَ يَسْمَعُ مَا نَقُولُ؟ فَقَالَ بَعْضُهُمْ: أَمَّا مَا جَهَرْنَا فَإِنَّهُ يَسْمَعُ، وَقَالَ الْآخَرُ: إِنْ كَانَ يَسْمَعُ مَا جَهَرْنَا بِهِ، فَإِنَّهُ يَسْمَعُ مَا أَسْرَرْنَا، فَأَنْزَلَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى {وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُونَ} [فصلت: ٢٢] الْآيَةَ " .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”تین آدمی کعبہ کے دروازے کے پاس بیٹھے، دو قریشی تھے اور ایک ثقفی، یا دو ثقفی تھے اور ایک قریشی، تو ان میں سے بعض نے بعض کو ایک بات چپکے سے کہی، تو ان میں سے ایک نے کہا: کیا تمہارا خیال ہے کہ اللہ ہماری بات سنتا ہے؟ تو ان میں سے کسی نے کہا: جو ہم بلند آواز سے کہیں وہ تو سنتا ہے، اور دوسرے نے کہا: اگر وہ بلند آواز سے کہی گئی بات سنتا ہے تو چپکے سے کہی گئی بات بھی سنتا ہے، تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ”اور تم اس بات سے تو پردہ نہیں کرتے تھے“ [سورۃ فصلت: 22] مکمل آیت۔“
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔