المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
الاختلاف على الأعمش في حديث عبد الله: بينا أنا متعلق بأستار الكعبة باب: اعمش سے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں اختلاف: کہ میں کعبہ کے پردوں سے لپٹا ہوا تھا
حَدَّثَنَا أَبُو عَرُوبَةَ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَرَّانِيُّ، وَأَبُو عَقِيلٍ أَنَسُ بْنُ سَلْمٍ الْخَوْلَانِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو الْمُعَافَى مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ الْحَرَّانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: " كُنْتُ مُسْتَتِرًا بِحِجَابِ الْكَعْبَةِ، وَفِي الْمَسْجِدِ رَجُلٌ مِنْ ثَقِيفٍ وَخَتَنَاهُ قُرَشِيَّانِ، فَقَالَ: تَرَوْنَ اللهَ يَسْمَعُ دَنْدَنَتَنَا؟ فَقَالَ أَحَدُهُمَا: أَنْ يَسْمَعَ إِذَا رَفَعْنَا، فَقَالَ الْآخَرُ: إِنْ كَانَ يَسْمَعُ إِذَا رَفَعْنَا لَيَسْمَعَنَّ إِذَا خَفَضْنَا "، قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: " فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ بِقَوْلِهِمْ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلَا أَبْصَارُكُمْ وَلَا جُلُودُكُمْ} [فصلت: ٢٢] " إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، وَخَالَفَهُمُ الْمَسْعُودِيُّ.سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”میں کعبہ کے پردے کے پیچھے چھپا ہوا تھا، اور مسجد میں ثقیف کا ایک آدمی اور اس کے دو داماد قریشی موجود تھے، تو اس نے کہا: کیا تمہارا خیال ہے کہ اللہ ہماری بڑبڑاہٹ سنتا ہے؟ تو ان میں سے ایک نے کہا: جب ہم بلند آواز سے بولیں تو سنتا ہے، دوسرے نے کہا: اگر وہ بلند آواز سے بولنے پر سنتا ہے تو ہمارے آہستہ بولنے پر بھی ضرور سنے گا۔“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”چنانچہ میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور آپ کو ان کی بات بتائی، تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ”اور تم اس بات سے تو پردہ نہیں کرتے تھے کہ تمہارے خلاف تمہارے کان، تمہاری آنکھیں اور تمہاری کھالیں گواہی دیں“ آیت کے آخر تک۔“
اس میں مسعودی نے ان کی مخالفت کی ہے۔