حدیث نمبر: 10096
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارُ، وَأَبُو خَلِيفَةَ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَا: ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ وَهْبِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: " إِنِّي لَمُسْتَتِرٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ إِذْ جَاءَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ؛ ثَقَفِيٌّ وَخَتَنَاهُ قُرَشِيَّانِ، كَثِيرٌ شَحْمُ بُطُونِهِمْ، قَلِيلٌ فِقْهُهُمْ، فَتَحَدَّثُوا الْحَدِيثَ بَيْنَهُمْ، فَقَالَ أَحَدُهُمْ: تَرَى اللهَ يَسْمَعُ مَا قُلْنَا؟ قَالَ الْآخَرُ: إِذَا رَفَعْنَا يَسْمَعُ، وَإِذَا خَفَضْنَا لَمْ يَسْمَعْ، فَقَالَ الْآخَرُ: إِنْ كَانَ يَسْمَعُ إِذَا رَفَعْنَا فَإِنَّهُ يَسْمَعُ إِذَا خَفَضْنَا، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَمَا كُنْتُمُ تَسْتَتِرُونَ أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلَا أَبْصَارُكُمْ وَلَا جُلُودُكُمْ وَلَكِنْ ظَنَنْتُمْ أَنَّ اللهَ لَا يَعْلَمُ كَثِيرًا مِمَّا تَعْمَلُونَ} [فصلت: ٢٢] إِلَى قَوْلِهِ {مِنَ الْخَاسِرِينَ} [فصلت: ٢٣] ". هَكَذَا رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَخَالَفَهُ أَبُو مُعَاوِيَةَ وَأَصْحَابُ الْأَعْمَشِ .
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”میں کعبہ کے پردوں کے پیچھے چھپا ہوا تھا کہ تین آدمی آئے؛ ایک ثقفی اور اس کے دو داماد قریشی تھے، جن کے پیٹ چربی سے بھرے ہوئے تھے مگر سمجھ بوجھ کم تھی، انہوں نے آپس میں باتیں کیں، تو ان میں سے ایک نے کہا: کیا تمہارا خیال ہے کہ اللہ ہماری باتیں سنتا ہے؟ دوسرے نے کہا: جب ہم بلند آواز سے بولتے ہیں تو سنتا ہے، اور جب آہستہ بولتے ہیں تو نہیں سنتا، تو تیسرے نے کہا: اگر وہ بلند آواز سے بولنے پر سنتا ہے تو آہستہ بولنے پر بھی سن لے گا۔ چنانچہ میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور آپ سے اس کا ذکر کیا، تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ”اور تم اس بات سے تو پردہ نہیں کرتے تھے کہ تمہارے خلاف تمہارے کان، تمہاری آنکھیں اور تمہاری کھالیں گواہی دیں گی، بلکہ تم نے یہ گمان کیا تھا کہ اللہ تمہارے بہت سے اعمال کو نہیں جانتا“ [سورۃ فصلت: 22] سے لے کر ”خسارہ پانے والوں میں سے“ [سورۃ فصلت: 23] تک۔“
اس طرح اسے سفیان ثوری نے روایت کیا ہے، جبکہ ابومعاویہ اور اعمش کے دیگر شاگردوں نے ان کی مخالفت کی ہے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 10096
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 112، حدیث 10132