حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، وَيُوسُفُ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أنا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ قَالَ: «إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحْدِثُ لِنَبِيِّهِ مَا شَاءَ، وَإِنَّهُ مِمَّا أَحْدَثَ لَهُ أَنْ لَا تَكَلَّمُوا فِي الصَّلَاةِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا جبکہ آپ نماز پڑھ رہے تھے، میں نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے میرے سلام کا جواب نہ دیا، پھر جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”اللہ عزوجل اپنے نبی کے لیے جو چاہے نیا حکم نازل فرماتا ہے، اور جو نئے احکام میں سے اس نے مقرر فرمایا ہے ان میں سے یہ بھی ہے کہ نماز میں بات نہ کرو۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، ثنا عَاصِمُ بْنُ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: كُنَّا نَتَكَلَّمُ فِي الصَّلَاةِ يُسَلِّمُ بَعْضُنَا عَلَى بَعْضٍ، وَيُومِئُ أَحَدُنَا بِالْحَاجَةِ، فَجِئْتُ ذَاتَ يَوْمٍ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ، فَأَخَذَنِي مَا قَدُمَ وَمَا حَدُثَ، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ: «إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحْدِثُ مِنْ أَمْرِهِ مَا شَاءَ، وَإِنَّهُ قَدْ أَحْدَثَ أَنْ لَا تَتَكَلَّمُوا فِي الصَّلَاةِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: … اور ہم میں سے کوئی اشارے سے اپنی ضرورت بتا دیتا تھا، ایک دن میں آیا جبکہ نبی کریم ﷺ نماز پڑھ رہے تھے، میں نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے میرے سلام کا جواب نہ دیا، تو مجھے اگلی پچھلی سب باتیں یاد آنے لگیں، پھر جب آپ فارغ ہوئے تو فرمایا: ”اللہ عزوجل اپنے امر میں سے جو چاہے نیا حکم نازل فرماتا ہے، اور اس نے یہ نیا حکم نازل فرمایا ہے کہ نماز میں بات نہ کرو۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ: قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ فَيَرُدَّ عَلَيْنَا، فَلَمَّا جِئْتُ مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ سَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْنَا، فَأَخَذَنِي مَا تَقَدَّمَ وَمَا تَأَخَّرَ، ثُمَّ انْتَظَرْتُهُ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: " إِنَّ اللهَ يُحَدِثُ مِنْ أَمْرِهِ مَا شَاءَ، وَإِنَّهُ قَضَى - أَوْ قَالَ: أَحْدَثَ - أَنْ لَا تَكَلَّمُوا فِي الصَّلَاةِ "
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ﷺ کو نماز کی حالت میں سلام کیا کرتے تھے تو آپ ہمارے سلام کا جواب دیتے تھے، پھر جب میں حبشہ کی سرزمین سے آیا تو میں نے آپ کو سلام کیا مگر آپ نے میرے سلام کا جواب نہ دیا، تو مجھے اگلی پچھلی سب باتیں یاد آنے لگیں، پھر میں نے آپ کا انتظار کیا، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے آپ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ نے فرمایا: ”اللہ اپنے امر میں سے جو چاہے نیا حکم نازل فرماتا ہے، اور اس نے مقرر فرما دیا ہے“ -یا فرمایا: ”نیا حکم دیا ہے“- ”کہ نماز میں بات نہ کرو۔“
حَدَّثَنَا أَسْلَمُ بْنُ سَهْلٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ الْبُرْجُلَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: كُنَّا نَتَكَلَّمُ فِي الصَّلَاةِ وَيُسَلِّمُ بَعْضُنَا عَلَى بَعْضٍ، وَيُومِئُ أَحَدُنَا لِصَاحِبِهِ بِالْحَاجَةِ، فَجِئْتُ ذَاتَ يَوْمٍ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ، فَأَخَذَنِي مَا قَدُمَ وَمَا حَدُثَ، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ اللهَ يُحْدِثُ مِنْ أَمْرِهِ مَا يَشَاءُ، وَقَدْ أَحْدَثَ أَنْ لَا تَكَلَّمُوا فِي الصَّلَاةِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: … ایک دن میں آیا جبکہ رسول اللہ ﷺ نماز پڑھ رہے تھے، میں نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے میرے سلام کا جواب نہ دیا، تو مجھے اگلی پچھلی سب باتیں یاد آنے لگیں، پھر جب رسول اللہ ﷺ فارغ ہوئے تو فرمایا: ”اللہ اپنے امر میں سے جو چاہے نیا حکم نازل فرماتا ہے، اور اس نے یہ نیا حکم نازل فرمایا ہے کہ نماز میں بات نہ کرو۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ حَمَّادٍ قَالَ: حَسِبْتُ أَنَّهُ عَنْ أَبِي وَائِلٍ، أَوْ عَنْ إِبْرَاهِيمَ، شَكَّ مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كَانَ النَّاسُ يَرُدُّ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ السَّلَامَ فِي الصَّلَاةِ، حَتَّى سَلَّمَ ابْنُ مَسْعُودٍ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ، فَقَعَدَ حَزِينًا يُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ قَدْ نَزَلَ فِيهِ شَيْءٌ، فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ ذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ ابْنُ مَسْعُودٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ فِي الصَّلَاةِ لَشُغْلًا، وَكَفَى بِالصَّلَاةِ شُغْلًا»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے متعلق بیان ہوا کہ وہ غمگین ہو کر بیٹھ گئے، انہیں خیال ہوا کہ شاید ان کے بارے میں کچھ نازل ہوا ہے، پھر جب نبی کریم ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے آپ سے اس کا ذکر کیا، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”بے شک نماز میں ایک مشغولیت ہے، اور نماز بذاتِ خود ایک کافی مشغولیت ہے۔“
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ السِّمْسَارُ الْوَاسِطِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أنا خَالِدٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ خَرَجَ إِلَى أَرْضِ الْحَبَشَةِ وَالنَّاسُ يُسَلِّمُ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ فِي الصَّلَاةِ، فَلَمَّا رَجَعَ عَبْدُ اللهِ سَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَرُدَّ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَعُوذُ بِاللهِ مِنْ غَضَبِ اللهِ وَغَضَبِ رَسُولِهِ، سَلَّمْتُ عَلَيْكَ فَلَمْ تُرَدَّ عَلَيَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ فِي الصَّلَاةِ لَشُغْلًا»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے کہا: میں اللہ کے غضب اور اس کے رسول کے غضب سے پناہ مانگتا ہوں، میں نے آپ کو سلام کیا تھا لیکن آپ نے میرے سلام کا جواب نہیں دیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک نماز میں ایک مشغولیت ہے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمٍ الرَّازِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ فَيَرُدَّ عَلَيْنَا، فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ عِنْدِ النَّجَاشِيِّ سَلَّمْنَا عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْنَا، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَيْكَ فِي الصَّلَاةِ فَتُرَدَّ عَلَيْنَا، قَالَ: «إِنَّ فِي الصَّلَاةِ شُغْلًا»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی بیان کرتے ہیں کہ جب ہم نجاشی کے پاس سے واپس آئے تو ہم نے آپ ﷺ کو سلام کیا مگر آپ نے ہمارے سلام کا جواب نہ دیا، تو ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم آپ کو نماز میں سلام کیا کرتے تھے تو آپ ہمارے سلام کا جواب دیتے تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک نماز میں ایک مشغولیت ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا أَبُو خَالِدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ فِي الصَّلَاةِ شُغْلًا»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک نماز میں ایک مشغولیت ہے۔“
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ دُحَيْمٍ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، ثنا ابْنُ جَابِرٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّهُ كَانَ يُسَلِّمُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي، فَيَرُدُّ عَلَيْهِ السَّلَامَ، ثُمَّ إِنَّهُ سَلَّمَ عَلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ، فَظَنَّ عَبْدُ اللهِ أَنَّ ذَلِكَ مِنْ مَوْجِدَةٍ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، كُنْتُ أُسَلِّمُ عَلَيْكَ وَأَنْتَ تُصَلِّي فَتُرَدُّ عَلَيَّ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْكَ فَلَمْ تُرَدَّ عَلَيَّ، فَظَنَنْتُ أَنَّ ذَلِكَ مِنْ مَوْجِدَةٍ عَلَيَّ، فَقَالَ: «لَا، وَلَكِنَّا نُهِينَا عَنِ الْكَلَامِ فِي الصَّلَاةِ إِلَّا بِالْقُرْآنِ وَالذِّكْرِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب آپ ﷺ فارغ ہوئے تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں آپ کو نماز کی حالت میں سلام کیا کرتا تھا تو آپ میرے سلام کا جواب دیتے تھے، اس بار میں نے آپ کو سلام کیا مگر آپ نے جواب نہ دیا، تو میں نے گمان کیا کہ یہ میرے بارے میں کسی ناراضگی کی وجہ سے ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ ہمیں قرآن اور ذکر کے سوا نماز میں کلام کرنے سے روک دیا گیا ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ، ثنا عَبْثَرُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ أَبِي الْجَهْمِ، عَنِ الرَّضْرَاضِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ فَيَرُدُّ عَلَيْنَا، فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ سَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: «إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحْدِثُ مِنْ أَمْرِهِ مَا شَاءَ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نبی کریم ﷺ کو نماز میں سلام کیا کرتے تھے تو آپ ہمارے سلام کا جواب دیتے تھے، پھر ایک دن میں نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے جواب نہ دیا، تو میں نے آپ سے اس کے بارے میں پوچھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ عزوجل اپنے امر میں سے جو چاہے نیا حکم نازل فرماتا ہے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: كُنَّا نَتَكَلَّمُ فِي الصَّلَاةِ يُسَلِّمُ بَعْضُنَا عَلَى بَعْضٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحْدِثُ مِنْ أَمْرِهِ مَا شَاءَ، وَقَدْ أَحْدَثَ أَنْ لَا تَكَلَّمُوا فِي الصَّلَاةِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نماز میں بات چیت کر لیا کرتے تھے، ہم میں سے ایک دوسرے کو سلام کہہ دیتا تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ عزوجل اپنے امر میں سے جو چاہے نیا حکم نازل فرماتا ہے، اور اس نے یہ نیا حکم نازل فرمایا ہے کہ نماز میں بات نہ کرو۔“
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ حَمْدَانَ الْحَنَفِيُّ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ كَرَامَةَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: خَرَجْتُ فِي حَاجَةٍ وَبَعْضُنَا يُسَلِّمُ عَلَى بَعْضٍ فِي الصَّلَاةِ، ثُمَّ رَجَعْتُ فَسَلَّمْتُ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ وَقَالَ: «إِنَّ فِي الصَّلَاةِ لَشُغْلًا»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں ایک کام کے لیے نکلا جبکہ ہم نماز میں ایک دوسرے کو سلام کہہ دیا کرتے تھے، پھر جب میں واپس آیا تو میں نے سلام کیا تو آپ نے جواب نہ دیا اور فرمایا: ”بے شک نماز میں ایک مشغولیت ہے۔“