المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
الاختلاف على الأعمش في حديث عبد الله: بينا أنا متعلق بأستار الكعبة باب: اعمش سے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں اختلاف: کہ میں کعبہ کے پردوں سے لپٹا ہوا تھا
حدیث نمبر: 10102
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: " جَلَسَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ عِنْدَ بَابِ الْكَعْبَةِ، قُرَشِيَّانِ وَثَقَفِيٌّ أَوْ ثَقَفِيَّانِ وَقُرَشِيٌّ، فَأَسَرَّ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ بِأَمْرٍ، فَقَالَ أَحَدُهُمْ: أَتَرَوْنَ اللهَ يَسْمَعُ مَا نَقُولُ؟ فَقَالَ بَعْضُهُمْ: أَمَّا مَا جَهَرْنَا فَإِنَّهُ يَسْمَعُ، وَقَالَ الْآخَرُ: إِنْ كَانَ يَسْمَعُ مَا جَهَرْنَا بِهِ، فَإِنَّهُ يَسْمَعُ مَا أَسْرَرْنَا، فَأَنْزَلَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى {وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُونَ} [فصلت: ٢٢] الْآيَةَ " .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”تین آدمی کعبہ کے دروازے کے پاس بیٹھے، دو قریشی تھے اور ایک ثقفی، یا دو ثقفی تھے اور ایک قریشی، تو ان میں سے بعض نے بعض کو ایک بات چپکے سے کہی، تو ان میں سے ایک نے کہا: کیا تمہارا خیال ہے کہ اللہ ہماری بات سنتا ہے؟ تو ان میں سے کسی نے کہا: جو ہم بلند آواز سے کہیں وہ تو سنتا ہے، اور دوسرے نے کہا: اگر وہ بلند آواز سے کہی گئی بات سنتا ہے تو چپکے سے کہی گئی بات بھی سنتا ہے، تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ”اور تم اس بات سے تو پردہ نہیں کرتے تھے“ [سورۃ فصلت: 22] مکمل آیت۔“