المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
الاختلاف على الأعمش في حديث عبد الله: بينا أنا متعلق بأستار الكعبة باب: اعمش سے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں اختلاف: کہ میں کعبہ کے پردوں سے لپٹا ہوا تھا
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: " كُنْتُ مُسْتَتِرًا بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ، فَجَاءَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ، كَثِيرٌ شَحْمُ بُطُونِهِمْ، قَلِيلٌ فِقْهُ قُلُوبِهِمْ، قُرَشِيٌّ وَخَتَنَاهُ ثَقَفِيَّانِ، أَوْ ثَقَفِيٌّ وَخَتَنَاهُ قُرَشِيَّانِ، فَتَكَلَّمُوا بِكَلَامٍ لَمْ أَفْقَهْهُ، فَقَالَ أَحَدُهُمْ: تَرَى اللهَ يَسْمَعُ كَلَامَنَا، وَقَالَ الْآخَرُ: إِذَا رَفَعْنَا أَصْوَاتَنَا سَمِعَهَا، فَإِذَا لَمْ نَرْفَعْ لَمْ يَسْمَعْهَا، وَقَالَ الْآخَرُ: إِنْ سَمِعَ مِنْهُ شَيْئًا سَمِعَهُ كُلَّهُ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلَا أَبْصَارُكُمْ} [فصلت: ٢٢] الْآيَةَ ".سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”میں کعبہ کے پردوں کے پیچھے چھپا ہوا تھا، تو تین آدمی آئے، جن کے پیٹ چربی سے بھرے ہوئے تھے مگر ان کے دلوں میں سمجھ بوجھ کم تھی، ایک قریشی تھا اور اس کے دو داماد ثقفی تھے، یا ایک ثقفی تھا اور اس کے دو داماد قریشی تھے، انہوں نے ایسی بات کی جو میں سمجھ نہ سکا، تو ان میں سے ایک نے کہا: کیا تمہارا خیال ہے کہ اللہ ہماری بات سنتا ہے؟ دوسرے نے کہا: جب ہم اپنی آوازیں بلند کرتے ہیں تو سن لیتا ہے، اور جب بلند نہ کریں تو نہیں سنتا، تیسرے نے کہا: اگر وہ اس میں سے کچھ سنتا ہے تو سب کچھ سنتا ہے۔ چنانچہ میں نے یہ بات رسول اللہ ﷺ سے ذکر کی، تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ”اور تم اس بات سے تو پردہ نہیں کرتے تھے کہ تمہارے خلاف تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں گواہی دیں گی“ [سورۃ فصلت: 22] مکمل آیت۔“