المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
الاختلاف على الأعمش في حديث عبد الله: بينا أنا متعلق بأستار الكعبة باب: اعمش سے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں اختلاف: کہ میں کعبہ کے پردوں سے لپٹا ہوا تھا
حدیث نمبر: 10097
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا قَبِيصَةُ، عَنْ قُطْبَةَ قَالَ: قَالَ فُلَانٌ لِلْأَعْمَشِ: حَدِّثْ بِحَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ اللهِ: كُنْتُ مُسْتَتِرًا بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ، إِنَّ سُفْيَانَ يُحَدِّثُ بِهِ عَنْكَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ وَهْبِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ: فَهَمْهَمَ الْأَعْمَشُ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ: هُوَ كَمَا قَالَ سُفْيَانُترجمہ
فلاں شخص نے اعمش سے کہا: عبدالرحمٰن بن یزید کی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے وہ حدیث بیان کیجیے: ”میں کعبہ کے پردوں کے پیچھے چھپا ہوا تھا“، کیونکہ سفیان اسے آپ کے واسطے سے، عمارہ بن عمیر کے واسطے سے، وہب بن ربیعہ سے بیان کرتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں: تو اعمش کچھ دیر کھنکارتے رہے، پھر کہا: بات ویسی ہی ہے جیسے سفیان نے کہی۔