حدیث نمبر: 10084
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، وَيُوسُفُ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أنا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ قَالَ: «إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحْدِثُ لِنَبِيِّهِ مَا شَاءَ، وَإِنَّهُ مِمَّا أَحْدَثَ لَهُ أَنْ لَا تَكَلَّمُوا فِي الصَّلَاةِ»
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا جبکہ آپ نماز پڑھ رہے تھے، میں نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے میرے سلام کا جواب نہ دیا، پھر جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”اللہ عزوجل اپنے نبی کے لیے جو چاہے نیا حکم نازل فرماتا ہے، اور جو نئے احکام میں سے اس نے مقرر فرمایا ہے ان میں سے یہ بھی ہے کہ نماز میں بات نہ کرو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 10084
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 109، حدیث 10120