حدیث نمبر: 10086
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ: قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ فَيَرُدَّ عَلَيْنَا، فَلَمَّا جِئْتُ مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ سَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْنَا، فَأَخَذَنِي مَا تَقَدَّمَ وَمَا تَأَخَّرَ، ثُمَّ انْتَظَرْتُهُ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: " إِنَّ اللهَ يُحَدِثُ مِنْ أَمْرِهِ مَا شَاءَ، وَإِنَّهُ قَضَى - أَوْ قَالَ: أَحْدَثَ - أَنْ لَا تَكَلَّمُوا فِي الصَّلَاةِ "
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ﷺ کو نماز کی حالت میں سلام کیا کرتے تھے تو آپ ہمارے سلام کا جواب دیتے تھے، پھر جب میں حبشہ کی سرزمین سے آیا تو میں نے آپ کو سلام کیا مگر آپ نے میرے سلام کا جواب نہ دیا، تو مجھے اگلی پچھلی سب باتیں یاد آنے لگیں، پھر میں نے آپ کا انتظار کیا، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے آپ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ نے فرمایا: ”اللہ اپنے امر میں سے جو چاہے نیا حکم نازل فرماتا ہے، اور اس نے مقرر فرما دیا ہے“ -یا فرمایا: ”نیا حکم دیا ہے“- ”کہ نماز میں بات نہ کرو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 10086
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 110، حدیث 10122