❮
❯
حدیث نمبر: 10092
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ دُحَيْمٍ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، ثنا ابْنُ جَابِرٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّهُ كَانَ يُسَلِّمُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي، فَيَرُدُّ عَلَيْهِ السَّلَامَ، ثُمَّ إِنَّهُ سَلَّمَ عَلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ، فَظَنَّ عَبْدُ اللهِ أَنَّ ذَلِكَ مِنْ مَوْجِدَةٍ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، كُنْتُ أُسَلِّمُ عَلَيْكَ وَأَنْتَ تُصَلِّي فَتُرَدُّ عَلَيَّ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْكَ فَلَمْ تُرَدَّ عَلَيَّ، فَظَنَنْتُ أَنَّ ذَلِكَ مِنْ مَوْجِدَةٍ عَلَيَّ، فَقَالَ: «لَا، وَلَكِنَّا نُهِينَا عَنِ الْكَلَامِ فِي الصَّلَاةِ إِلَّا بِالْقُرْآنِ وَالذِّكْرِ»
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کو نماز کی حالت میں سلام کیا کرتے تھے تو آپ ان کے سلام کا جواب دیتے تھے، پھر (ایک بار) انہوں نے آپ کو نماز کی حالت میں سلام کیا تو آپ نے جواب نہ دیا، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے گمان کیا کہ یہ رسول اللہ ﷺ کی کسی ناراضگی کی وجہ سے ہے، پھر جب آپ ﷺ فارغ ہوئے تو انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں آپ کو نماز کی حالت میں سلام کیا کرتا تھا تو آپ میرے سلام کا جواب دیتے تھے، اس بار میں نے آپ کو سلام کیا مگر آپ نے جواب نہ دیا، تو میں نے گمان کیا کہ یہ مجھ پر کسی ناراضگی کی وجہ سے ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ ہمیں قرآن اور ذکر کے سوا نماز میں کلام کرنے سے روک دیا گیا ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 10092
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 111، حدیث 10128