❮
❯
حدیث نمبر: 10088
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ حَمَّادٍ قَالَ: حَسِبْتُ أَنَّهُ عَنْ أَبِي وَائِلٍ، أَوْ عَنْ إِبْرَاهِيمَ، شَكَّ مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كَانَ النَّاسُ يَرُدُّ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ السَّلَامَ فِي الصَّلَاةِ، حَتَّى سَلَّمَ ابْنُ مَسْعُودٍ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ، فَقَعَدَ حَزِينًا يُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ قَدْ نَزَلَ فِيهِ شَيْءٌ، فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ ذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ ابْنُ مَسْعُودٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ فِي الصَّلَاةِ لَشُغْلًا، وَكَفَى بِالصَّلَاةِ شُغْلًا»
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ لوگ نماز میں ایک دوسرے کے سلام کا جواب دیا کرتے تھے، یہاں تک کہ (ایک دن) سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ کو سلام کیا تو آپ نے ان کے سلام کا جواب نہ دیا، چنانچہ وہ غمگین ہو کر بیٹھ گئے، انہیں خیال ہوا کہ شاید ان کے بارے میں کچھ نازل ہوا ہے، پھر جب نبی کریم ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے آپ سے اس کا ذکر کیا، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”بے شک نماز میں ایک مشغولیت ہے، اور نماز بذاتِ خود ایک کافی مشغولیت ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 10088
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 110، حدیث 10124