حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي ثنا بَكْرُ بْنُ عِيسَى الرَّاسِبِيُّ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: «كَانَ خِضَابُنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَرْسُ وَالزَّعْفَرَانُ»
ترجمہ
ابومالک اشجعی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں: ”رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ہمارا خضاب ورس اور زعفران ہوتا تھا۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارُ الْبَصْرِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَا: ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ: سَأَلْتُ أَبِي عَنِ الْقُنُوتِ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ، فَقَالَ: «أَيْ بُنَيَّ، صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَلَمْ أَرْ أَحَدًا مِنْهُمْ يَقْنُتْ، أَيْ بُنَيَّ بِدْعَةٌ» قَالَهَا ثَلَاثًا
ترجمہ
ابومالک اشجعی بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے فجر کی نماز میں قنوت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ”بیٹا، میں نے رسول اللہ ﷺ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے پیچھے نماز پڑھی ہے، مگر میں نے ان میں سے کسی کو قنوت پڑھتے نہیں دیکھا، بیٹا، یہ بدعت ہے۔“ یہ بات انہوں نے تین بار کہی۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: «صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، وَعَلِيٌّ هَاهُنَا بِالْكُوفَةِ نَحْوًا مِنْ خَمْسِ سِنِينَ، وَكَانُوا لَا يَقْنُتُونَ فِي الْفَجْرِ» ثُمَّ قَالَ: «يَا بُنَيَّ، مُحْدَثٌ»
ترجمہ
ابومالک اشجعی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ ﷺ، ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے پیچھے، اور علی رضی اللہ عنہ کے پیچھے یہاں کوفہ میں قریباً پانچ سال نماز پڑھی، اور وہ فجر میں قنوت نہیں پڑھتے تھے۔“ پھر فرمایا: ”بیٹا، یہ نئی بات ہے۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، وَابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا طارق بن اشیم رضی اللہ عنہ سے بھی اسی جیسی حدیث نبی کریم ﷺ سے مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ، فَقَدْ رَآنِي»
ترجمہ
ابومالک اشجعی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے مجھے خواب میں دیکھا، اس نے واقعی مجھے دیکھا۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْبَرْبَهَارِيُّ، ثنا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ»
ترجمہ
ابومالک اشجعی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھا، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدُوسِ بْنِ كَامِلٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَوْصِلِيُّ، ثنا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «كَانَ نَبِيذٌ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تَوْرٍ مِنْ حِجَارَةٍ»
ترجمہ
ابومالک اشجعی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں: ”رسول اللہ ﷺ کی نبیذ ایک پتھر کے برتن میں ہوتی تھی۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُعَلَّى بْنُ مَهْدِيٍّ الْمَوْصِلِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقَزَّازُ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، قَالَا: ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كُنَّا نَغْدُو إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَجِيءُ الرَّجُلُ وَتَجِيءُ الْمَرْأَةُ، فَيَقُولُ: يَا رَسُولَ اللهِ، كَيْفَ أَقُولُ إِذَا صَلَّيْتُ؟ فَيَقُولُ: «اللهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي، فَقَدْ جَمَعْنَ لَكَ دُنْيَاكَ وَآخِرَتَكَ»
ترجمہ
ابومالک اشجعی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں: ہم صبح نبی کریم ﷺ کے پاس جایا کرتے تھے، تو کوئی آدمی یا عورت آ کر عرض کرتی: اے اللہ کے رسول، جب میں نماز پڑھوں تو کیا کہوں؟ تو آپ ﷺ فرماتے: ”کہو: اے اللہ، مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، مجھے ہدایت دے، اور مجھے رزق عطا فرما، یہ کلمات تمہارے لیے دنیا اور آخرت دونوں کو سمیٹ دیتے ہیں۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُ مَنْ أَسْلَمَ، يَقُولُ: «قُلِ اللهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَارْزُقْنِي» ثُمَّ قَالَ: «هَؤُلَاءِ جَمَعْنَ خَيْرَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ»
ترجمہ
ابومالک اشجعی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو نو مسلم کو یہ سکھاتے سنا، آپ ﷺ فرماتے تھے: ”کہو: اے اللہ، مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، اور مجھے رزق عطا فرما۔“ پھر فرمایا: ”یہ کلمات دنیا اور آخرت کی بھلائی کو سمیٹ دیتے ہیں۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، كَيْفَ أَقُولُ حِينَ أَسْأَلُ رَبِّي؟ فَقَالَ: «قُلِ اللهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَعَافِنِي وَارْزُقْنِي» ، وَجَمَعَ أَصَابِعَهُ الْأَرْبَعَ إِلَّا الْإِبْهَامَ، «فَإِنَّ هَؤُلَاءِ يَجْمَعْنَ لَكَ دِينَكَ وَدُنْيَاكَ»
ترجمہ
ابومالک اشجعی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا، اور ایک آدمی آیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول، میں اپنے رب سے مانگتے وقت کیا کہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کہو: اے اللہ، مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، مجھے عافیت دے، اور مجھے رزق عطا فرما۔“ اور آپ ﷺ نے انگوٹھے کے سوا اپنی چاروں انگلیاں اکٹھی کیں: ”یہ کلمات تمہارے لیے تمہارا دین اور تمہاری دنیا سمیٹ دیتے ہیں۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامِ بْنِ أَبِي الدُّمَيْكِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ثنا أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: «كَانَ الرَّجُلُ إِذَا أَسْلَمَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَّمُوهُ الصَّلَاةَ»
ترجمہ
ابومالک اشجعی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں: ”نبی کریم ﷺ کے زمانے میں جب کوئی آدمی مسلمان ہوتا تو اسے نماز سکھائی جاتی تھی۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، وَعَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، وَمُوسَى بْنُ هَارُونَ، قَالُوا: ثنا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ قُدَامَةَ، ثنا سَعْدُ بْنُ طَارِقٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَطُوفُ حَوْلَ الْبَيْتِ، فَإِذَا ازْدَحَمَ النَّاسُ عَلَى الْحَجَرِ اسْتَلَمَهُ بِمِحْجَنٍ بِيَدِهِ»
ترجمہ
سعد بن طارق اپنے والد سے روایت کرتے ہیں: ”میں نے رسول اللہ ﷺ کو بیت اللہ کا طواف کرتے دیکھا، جب لوگ حجرِ اسود پر رش کرتے تو آپ ﷺ اسے اپنی لاٹھی سے اپنے ہاتھ میں استلام کر لیتے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ الْيَمَانِ الرَّازِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ صَلَّى الْفَجْرَ فَهُوَ فِي ذِمَّةِ اللهِ وَحِسَابُهُ عَلَى اللهِ»
ترجمہ
ابومالک اشجعی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے فجر کی نماز پڑھی وہ اللہ کی ذمہ داری میں ہے، اور اس کا حساب اللہ کے ذمے ہے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا عِمْرَانُ بْنُ مَيْسَرَةَ الْأَدِمِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ دَلُّوَيْهِ، قَالَا: ثنا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ الْمُزَنِيُّ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: «صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَخَلْفَ أَبِي بَكْرٍ، وَخَلْفَ عُمَرَ، وَخَلْفَ عَلِيٍّ، فَلَمْ يَكُنْ أَحَدٌ مِنْهُمْ أَخَفَّ صَلَاةً مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تَمَامٍ»
ترجمہ
ابومالک اشجعی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں: ”میں نے رسول اللہ ﷺ کے پیچھے، سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر اور سیدنا علی رضی اللہ عنہم کے پیچھے نماز پڑھی، تو ان میں سے کوئی بھی رسول اللہ ﷺ سے زیادہ، مکمل ہوتے ہوئے بھی، ہلکی نماز پڑھانے والا نہ تھا۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ، سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَكَفَرَ بِمَا يُعْبَدُ مِنْ دُونِ اللهِ حَرَّمَ اللهُ مَالَهُ وَدَمَهُ، وَحِسَابُهُ عَلَى اللهِ»
ترجمہ
ابومالک اشجعی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”جس نے ’لا الہ الا اللہ‘ کہا، اور اللہ کے سوا جو کچھ پوجا جاتا ہے اس کا انکار کیا، تو اللہ نے اس کا مال اور خون حرام کر دیا، اور اس کا حساب اللہ کے ذمے ہے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْبَزَّارُ، ثنا عَمَّارُ بْنُ خَالِدٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ الْمُزَنِيُّ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، فَإِذَا قَالُوهَا عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهِ وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللهِ»
ترجمہ
ابومالک اشجعی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے اس وقت تک قتال کروں جب تک وہ ’لا الہ الا اللہ‘ نہ کہیں، پس جب وہ یہ کہہ دیں تو انہوں نے اپنا خون اور مال مجھ سے محفوظ کر لیا، سوائے اس کے حق کے، اور ان کا حساب اللہ کے ذمے ہے۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ وَحَّدَ اللهُ، وَكَفَرَ بِمَا يُعْبَدُ مِنْ دُونِ اللهِ، حَرَّمَ اللهُ مَالَهُ وَدَمَهُ وَحِسَابُهُ عَلَى اللهِ»
ترجمہ
ابومالک اشجعی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”جس نے اللہ کو ایک مانا، اور اللہ کے سوا جو کچھ پوجا جاتا ہے اس کا انکار کیا، تو اللہ نے اس کا مال اور خون حرام کر دیا، اور اس کا حساب اللہ کے ذمے ہے۔“
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ دُحَيْمٍ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا طارق بن اشیم رضی اللہ عنہ سے بھی اسی جیسی حدیث نبی کریم ﷺ سے مروی ہے۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ سَعْدُ بْنُ طَارِقٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ وَحَّدَ اللهَ، وَكَفَرَ بِمَا يُعْبَدُ مِنْ دُونِ اللهِ حَرَّمَ اللهُ مَالَهُ وَدَمَهُ، وَحِسَابُهُ عَلَى اللهِ»
ترجمہ
ابومالک اشجعی سعد بن طارق اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”جس نے اللہ کو ایک مانا، اور اللہ کے سوا جو کچھ پوجا جاتا ہے اس کا انکار کیا، تو اللہ نے اس کا مال اور خون حرام کر دیا، اور اس کا حساب اللہ کے ذمے ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ شَبِيبٍ الْعَسَّالُ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، كِلَاهُمَا عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «بِحَسْبِ أَصْحَابِي الْقَتْلُ»
ترجمہ
ابومالک اشجعی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”میرے صحابہ کے لیے قتل ہی کافی ہے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيِّ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ حَسَنِ بْنِ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيُّ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بِحَسْبِ أَصْحَابِي الْقَتْلُ»
ترجمہ
ابومالک اشجعی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میرے صحابہ کے لیے قتل ہی کافی ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَيْثَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَنَانٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْجُدُ فَيَقُولُ رَبِّ اغْفِرْ لِي ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، إِلَّا غُفِرَ لَهُ قَبْلَ أَنْ يَرْفَعَ رَأْسَهُ»
ترجمہ
ابومالک اشجعی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو بندہ سجدہ کرے اور تین بار کہے: میرے رب، مجھے بخش دے، تو اس کا سر اٹھانے سے پہلے ہی اسے بخش دیا جاتا ہے۔“
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُقْبِلٍ الْبَصْرِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ رَاشِدٍ الْأَدَمِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَابَهْرَامَ الْأَيْذَجِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ زِيَادٍ الْعَطَّارُ، قَالَا: ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ زَكَرِيَّا، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيُّ، ثنا أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: «كُنَّا نَجْلِسُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَحْنُ غِلْمَانٌ، فَلَمْ أَرَ رَجُلًا كَانَ أَطْوَلَ صَمْتًا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ إِذَا تَكَلَّمَ أَصْحَابُهُ، فَأَكْثَرُوا الْكَلَامَ، تَبَسَّمَ»
ترجمہ
ابومالک اشجعی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں: ”ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھا کرتے تھے جبکہ ہم نوجوان لڑکے تھے، میں نے رسول اللہ ﷺ سے زیادہ خاموش رہنے والا کوئی آدمی نہیں دیکھا، اور جب آپ ﷺ کے صحابہ بات چیت کرتے اور زیادہ باتیں کرنے لگتے تو آپ ﷺ مسکرا دیتے تھے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مَنْدَهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ خَالِدٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَزِيدَ الْخَوَّاصُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِيهِ طَارِقٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الضِّيَافَةُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ، فَمَا كَانَ فَوْقَ ذَلِكَ فَهُوَ مَعْرُوفٌ»
ترجمہ
ابومالک اشجعی اپنے والد طارق رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”مہمان نوازی تین دن ہے، اس سے زیادہ جو کچھ ہو وہ نیکی ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مَنْدَهْ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا يَزِيدُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ»
ترجمہ
ابومالک اشجعی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ہر نیکی کا کام صدقہ ہے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَدَقَةَ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا عَمَّارُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَخَفِّ النَّاسِ صَلَاةً فِي تَمَامٍ»
ترجمہ
ابومالک اشجعی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں: ”رسول اللہ ﷺ مکمل ہوتے ہوئے سب لوگوں سے زیادہ ہلکی نماز پڑھانے والے تھے۔“