حدیث نمبر: 7718
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ سُفْيَانَ الرَّقِّيُّ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزَّانُ، ح وحَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الْخَلَّالُ الدِّمَشْقِيُّ، قَالَا: ثنا الْوَلِيدُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا ابْنُ ثَوْبَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ: «لَا يَحِلُّ بَيْعُ الْمُغَنِّيَاتِ وَلَا شِرَاؤُهُنَّ، وَلَا تِجَارَةٌ فِيهِنَّ وَثَمَنُهُنَّ حَرَامٌ» وَقَالَ: «إِنَّمَا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي ذَلِكَ» {وَمَنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ} [لقمان: ٦] حَتَّى فَرَغَ مِنَ الآيَةِ
ثُمَّ أَتْبَعَهَا، «وَالَّذِي بَعَثَنِي بِالْحَقِّ مَا رَفَعَ رَجُلٌ عَقِيرَتَهُ بِالْغِنَاءِ إِلَّا بَعَثَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عِنْدَ ذَلِكَ شَيْطَانَيْنِ يَرْتَقِدَانِ عَلَى عَاتِقَيْهِ، ثُمَّ لَا يَزَالَانِ يَضْرِبَانِ بِأَرْجُلِهِمَا عَلَى صَدْرِهِ - وَأَشَارَ إِلَى صَدْرِ نَفْسِهِ - حَتَّى يَكُونَ هُوَ الَّذِي يَسْكُتُ»
ترجمہ

سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”گانے والی باندیوں کا خریدنا اور بیچنا حلال نہیں، اور نہ ہی ان میں تجارت جائز ہے، اور ان کی قیمت حرام ہے۔“ اور فرمایا: ”یہ آیت اسی بارے میں نازل ہوئی ہے“: ”اور لوگوں میں سے کچھ ایسے ہیں جو لغو باتوں (گانے بجانے) کو خرید لیتے ہیں“ [سورۃ لقمان: 6] یہاں تک کہ پوری آیت پڑھی
پھر فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا! جو آدمی بھی گانے میں اپنی آواز بلند کرتا ہے، اللہ عزوجل اس پر اسی وقت دو شیطان بھیج دیتا ہے جو اس کے دونوں کندھوں پر بیٹھ جاتے ہیں، پھر وہ اپنے پیروں سے اس کے سینے پر مارتے رہتے ہیں“ — اور آپ ﷺ نے اپنے سینے کی طرف اشارہ کیا — ”یہاں تک کہ وہی خاموش ہو جائے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الصاد / حدیث: 7718
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 8، صفحہ 180، حدیث 7749