حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا أَيُّوبُ، ثنا عَمْرُو بْنُ سَلَمَةَ أَبُو يَزِيدَ الْجَرْمِيُّ، قَالَ: كُنَّا بِحَضْرَةِ مَاءٍ مَمَرِّ النَّاسِ، فَكُنَّا نَسْأَلُهُمْ: مَا هَذَا الْأَمْرُ؟ فَيَقُولُونَ: رَجُلٌ يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ , وَأَنَّ اللهَ أَرْسَلَهُ , وَأَنَّ اللهَ أَوْحَى إِلَيْهِ كَذَا وَكَذَا، فَجَعَلْتُ لَا أَسْمَعُ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ إِلَّا حَفِظْتُهُ , كَأَنَّمَا يُغْرَى فِي صَدْرِي بِغِرَاءٍ , حَتَّى جَمَعْتُ مِنْهُ قُرْآنًا كَثِيرًا، قَالَ: فَكَانَتِ الْعَرَبُ تُلَوَّمُ بِإِسْلَامِهَا الْفَتْحَ، وَيَقُولُونَ: انْظُرُوا , فَإِنْ ظَهَرَهُ عَلَيْهِمْ فَهُوَ صَادِقٌ، وَهُوَ نَبِيٌّ، فَلَمَّا جَاءَتْنَا وَقْعَةُ الْفَتْحِ بَادَرَ كُلُّ قَوْمٍ بِإِسْلَامِ قَوْمِهِمْ، فَانْطَلَقَ أَبِي بِإِسْلَامِ أَهْلِ حِوَائِنَا ذَلِكَ، فَأَقَامَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يُقِيمَ، ثُمَّ أَقْبَلَ، فَلَمَّا دَنَا مِنَّا تَلَقَّيْنَاهُ، فَلَمَّا رَأَيْنَاهُ قَالَ: جِئْتُكُمْ وَاللهِ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقًّا، قَالَ: ثُمَّ قَالَ: «إِنَّهُ يَأْمُرُكُمْ بِكَذَا وَكَذَا، وَيَنْهَاكُمْ عَنْ كَذَا وَكَذَا، وَأَنْ تُصَلُّوا صَلَاةَ كَذَا فِي حِينِ كَذَا، فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَلْيُؤَذِّنْ أَحَدُكُمْ، وَلْيَؤُمَّكُمْ أَكْثَرُكُمْ قُرْآنًا» قَالَ: فَنَظَرُوا إِلَى أَهْلِ حِوَائِنَا فَمَا وَجَدُوا أَحَدًا أَكْثَرَ مِنِّي قُرْآنًا لِلَّذِي كُنْتُ أَحْفَظُ مِنَ الرُّكْبَانِ، فَقَدَّمُونِي بَيْنَ أَيْدِيهِمْ، فَكُنْتُ أُصَلِّي بِهِمْ، وَأَنَا ابْنُ سِتِّ سِنِينَ , قَالَ: فَكَانَتْ عَلَيَّ بُرْدَةٌ، كُنْتُ إِذَا سَجَدْتُ تَقَلَّصَتْ عَنِّي، قَالَ: فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الْحَيِّ: أَلَا تُغَطُّوا عَنَّا اسْتَ قَارِئِكُمْ قَالَ: فَكَسَوْنِي قَمِيصًا مِنْ مَعْقِدِ الْبَحْرَيْنِ، فَمَا فَرِحْتُ بِشَيْءٍ أَشَدَّ مِنْ فَرَحِي بِذَلِكَ الْقَمِيصِ
ترجمہ
سیدنا عمرو بن سلمہ ابو یزید جرمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم ایک پانی کے پاس رہتے تھے جو لوگوں کی گزرگاہ تھا، تو ہم ان سے پوچھتے: یہ کیا معاملہ ہے؟ وہ کہتے: ایک آدمی ہے جو دعویٰ کرتا ہے کہ وہ نبی ہے، اللہ نے اسے بھیجا ہے، اور اللہ نے اس کی طرف فلاں فلاں وحی کی ہے۔ تو میں اس میں سے جو کچھ سنتا اسے یاد کر لیتا، گویا وہ میرے سینے میں گوند سے چپکا دیا جاتا ہو، یہاں تک کہ میں نے اس میں سے بہت سا قرآن جمع کر لیا۔ راوی کہتے ہیں: عرب اپنے اسلام کے لیے فتح (مکہ) کا انتظار کر رہے تھے اور کہتے تھے: دیکھتے رہو، اگر وہ ان پر غالب آ گیا تو وہ سچا ہے اور وہ نبی ہے۔ جب ہمارے پاس فتح کے واقعہ کی خبر آئی تو ہر قوم نے اپنی قوم کے اسلام میں جلدی کی، چنانچہ میرے والد ہماری اس بستی والوں کا اسلام لے کر گئے، اور نبی کریم ﷺ کے پاس جتنا اللہ نے چاہا ٹھہرے، پھر واپس آئے، جب وہ ہمارے قریب پہنچے تو ہم نے ان کا استقبال کیا، جب ہم نے انہیں دیکھا تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم، میں تمہارے پاس واقعی رسول اللہ ﷺ کے پاس سے آیا ہوں۔ راوی کہتے ہیں: پھر انہوں نے کہا: ”وہ تمہیں فلاں فلاں باتوں کا حکم دیتے ہیں، اور فلاں فلاں باتوں سے منع کرتے ہیں، اور یہ کہ تم فلاں نماز فلاں وقت پر پڑھو، اور جب نماز کا وقت آئے تو تم میں سے کوئی اذان دے، اور تم میں سے جو سب سے زیادہ قرآن جانتا ہو وہ امامت کرے۔“ راوی کہتے ہیں: تو انہوں نے ہماری بستی والوں کو دیکھا تو مجھ سے زیادہ قرآن جاننے والا کوئی نہ پایا، کیونکہ میں سواروں سے سن کر بہت کچھ یاد کر چکا تھا، تو انہوں نے مجھے سب کے آگے کر دیا، چنانچہ میں ان کی امامت کرتا تھا جبکہ میں چھ سال کا تھا۔ راوی کہتے ہیں: مجھ پر ایک دھاری دار چادر تھی، جب میں سجدہ کرتا تو وہ سمٹ کر مجھ سے ہٹ جاتی۔ راوی کہتے ہیں: تو قبیلے کی ایک عورت نے کہا: کیا تم ہمارے قاری کی شرمگاہ ہم سے چھپا نہیں سکتے؟ راوی کہتے ہیں: تو انہوں نے مجھے بحرین کے بنے ہوئے کپڑے کا ایک قمیص پہنایا، تو مجھے کسی چیز پر اتنی خوشی نہ ہوئی جتنی اس قمیص پر ہوئی۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ سَلَمَةَ قَالَ: كُنَّا بِحَاضِرٍ يَمُرُّ بِنَا مَنْ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانُوا يَقُولُونَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَذَا، وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَذَا، فَحَفِظْتُ مِنْ ذَلِكَ قُرْآنًا كَثِيرًا، فَانْطَلَقَ أَبِي وَافِدًا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَفَرٍ مِنْ قَوْمِهِ، فَعَلَّمَهُمُ الصَّلَاةَ، فَقَالَ: «لِيَؤُمَّكُمْ أَقْرَؤُكُمْ» ، قَالَ: فَكُنْتُ أَقْرَأَهُمْ لِمَا كُنْتُ أَحْفَظُ، فَكُنْتُ أَؤُمُّهُمْ، وَعَلَيَّ بُرْدَةٌ , إِذَا سَجَدْتُ تَكَشَّفَتْ عَنِّي، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الْقَوْمِ: وَارُوا عَنَّا عَوْرَةَ قَارِئِكُمْ , فَاشْتَرَوْا لِي قَمِيصًا عُمَانِيًّا، فَمَا فَرِحْتُ بِشَيْءٍ بَعْدَ الْإِسْلَامِ مَا فَرِحْتُ بِهِ، فَكُنْتُ أَؤُمُّهُمْ، وَأَنَا ابْنُ سَبْعِ سِنِينَ , أَوْ ثَمَانِ سِنِينَ
ترجمہ
سیدنا عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم ایک بستی میں رہتے تھے جہاں سے وہ لوگ گزرتے جو نبی کریم ﷺ کے پاس سے آتے تھے، وہ کہتے: رسول اللہ ﷺ نے یوں فرمایا، اور رسول اللہ ﷺ نے یوں فرمایا، تو میں نے اس سے کافی قرآن یاد کر لیا، پھر میرے والد اپنی قوم کے کچھ لوگوں کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے پاس وفد بن کر گئے، آپ ﷺ نے انہیں نماز سکھائی اور فرمایا: ”تمہاری امامت تم میں سے سب سے زیادہ قرآن پڑھنے والا کرے۔“ راوی کہتے ہیں: تو میں ان میں سب سے زیادہ قرآن جاننے والا تھا کیونکہ میں نے زیادہ یاد کر رکھا تھا، تو میں ان کی امامت کرتا تھا، اور مجھ پر ایک دھاری دار چادر تھی، جب میں سجدہ کرتا تو وہ مجھ سے ہٹ جاتی، تو قوم کی ایک عورت نے کہا: ہمارے قاری کی شرمگاہ ہم سے چھپا دو۔ تو انہوں نے میرے لیے عُمانی کپڑے کا ایک قمیص خرید لیا، تو مجھے اسلام کے بعد کسی چیز پر اتنی خوشی نہ ہوئی جتنی اس پر ہوئی، تو میں ان کی امامت کرتا رہا جبکہ میں سات یا آٹھ سال کا تھا۔
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ، قَالَ: كُنَّا عَلَى حَاضِرِ مَاءٍ، مَمَرِّ النَّاسِ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ
ترجمہ
سیدنا عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم پانی کے ایک ٹھکانے پر تھے جہاں سے لوگ گزرتے تھے، پھر راوی نے اسی طرح کی حدیث بیان کی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّافِعِيُّ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنَّا بِحَاضِرِ مَاءٍ عَظِيمٍ عَلَى ظَهْرِ الطَّرِيقِ، فَيَأْتِينَا الرُّكْبَانُ، فَنَسْأَلُهُمْ: مَا يَقُولُ هَذَا الرَّجُلُ؟ يَعْنُونَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَقُولُونَ: يَقُولُ كَذَا، وَيَأْمُرُهُمْ بِكَذَا، وَيَنْهَاكُمْ عَنْ كَذَا، وَأَنَا غُلَامٌ ابْنُ سِتِّ سِنِينَ، لَا أَسْمَعُ شَيْئًا إِلَّا كَأَنَّمَا كُتِبَ فِي قَلْبِي، وَكَانَ النَّاسُ يَقُولُونَ: انْظُرُوا مَا يَصْنَعُ قَوْمُ الرَّجُلِ، فَلَمَّا فُتِحَتْ مَكَّةُ بَعَثَ النَّاسُ وُفُودَهُمْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ أَبِي وَافِدَ قَوْمِهِ، فَأَتَاهُمْ , فَقَالَ: «أَتَيْتُكُمْ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللهِ , يَأْمُرُكُمْ بِكَذَا، وَيَنْهَاكُمْ عَنْ كَذَا، وَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَلْيَؤُمَّكُمْ أَكْثَرُكُمْ قُرْآنًا» فَنَظَرُوا فَلَمْ يَجِدُوا أَكْثَرَ قُرْآنًا مِنِّي، فَقَدَّمُونِي فَصَلَّيْتُ بِهِمْ , عَلَيَّ بُرْدَةٌ لِي , أَوْ شَمْلَةٌ لِي , فَقَالَتْ عَجُوزٌ: أَلَا تُغَطُّونَ عَنَّا اسْتَ قَارِئِكُمْ؟ فَاشْتُرِيَ ثَوْبٌ مِنْ مَقْعَدَةِ الْبَحْرَيْنِ، فَقَطَعَتْهُ لِيَ امْرَأَةٌ مِنَ الْحَيِّ قَمِيصًا، فَمَا فَرِحْتُ بِشَيْءٍ قَطُّ بَعْدَ الْإِسْلَامِ فَرَحِي بِذَلِكَ الْقَمِيصِ
ترجمہ
سیدنا عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم راستے کے کنارے ایک بڑے پانی کے پاس رہتے تھے، ہمارے پاس سوار آتے تو ہم ان سے پوچھتے: یہ آدمی کیا کہتا ہے؟ ان کی مراد نبی کریم ﷺ تھے، وہ کہتے: وہ یوں کہتے ہیں، انہیں فلاں بات کا حکم دیتے ہیں اور تمہیں فلاں بات سے منع کرتے ہیں۔ میں اس وقت چھ سال کا لڑکا تھا، میں جو بات بھی سنتا گویا وہ میرے دل پر لکھ دی جاتی۔ اور لوگ کہا کرتے تھے: دیکھو اس شخص کی قوم کیا کرتی ہے۔ جب مکہ فتح ہوا تو لوگوں نے اپنے وفود رسول اللہ ﷺ کے پاس بھیجے، اور میرے والد اپنی قوم کے وفد تھے، تو وہ ان کے پاس آئے اور کہا: ”میں تمہارے پاس رسول اللہ ﷺ کی طرف سے آیا ہوں، وہ تمہیں فلاں فلاں کا حکم دیتے ہیں اور فلاں فلاں سے منع فرماتے ہیں، اور جب نماز کا وقت ہو تو تم میں سے سب سے زیادہ قرآن جاننے والا امامت کرے۔“ تو انہوں نے دیکھا تو مجھ سے زیادہ قرآن جاننے والا کوئی نہ پایا، تو انہوں نے مجھے آگے کر دیا، تو میں نے ان کی امامت کی جبکہ مجھ پر میری ایک دھاری دار چادر یا ایک شملہ تھا، تو ایک بوڑھی عورت نے کہا: کیا تم ہمارے قاری کی شرمگاہ ہم سے چھپا نہیں سکتے؟ تو بحرین کی بنی ہوئی ایک چادر خریدی گئی، قبیلے کی ایک عورت نے اسے کاٹ کر میرے لیے قمیص بنا دی، تو اسلام کے بعد مجھے اس قمیص جیسی خوشی کبھی نہ ہوئی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ، قَالَ: جَاءَ نَفَرٌ مِنَ الْحَيِّ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَمِعُوهُ يَقُولُ: «لِيَؤُمَّكُمْ أَكْثَرُكُمْ قُرْآنًا» فَقَدَّمُونِي بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَأَنَا غُلَامٌ، فَكُنْتُ أَؤُمُّهُمْ فِي بُرْدَةٍ مَوْصُولَةٍ، فَكَانَ فِيهَا فَتْقٌ، فَكُنْتُ إِذَا سَجَدْتُ خَرَجَتِ اسْتِي، فَقَالُوا لِأَبِي: أَلَا تُغَطِّي عَنَّا اسْتَهُ؟ وَكُنْتُ أُرَغِّبُهُمْ فِي تَعْلِيمِ الْقُرْآنِ قَالَ زُهَيْرٌ: فَلَمْ يَزَلْ إِمَامَ قَوْمِهِ فِي الصَّلَاةِ , وَعَلَى جَنَائِزِهِمْ
ترجمہ
سیدنا عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: قبیلے کے کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، تو انہوں نے آپ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”تمہاری امامت تم میں سے سب سے زیادہ قرآن جاننے والا کرے۔“ تو انہوں نے مجھے سب کے آگے کر دیا جبکہ میں ایک بچہ تھا، تو میں ایک جڑی ہوئی دھاری دار چادر میں ان کی امامت کرتا تھا، اس میں ایک شگاف تھا، تو جب میں سجدہ کرتا تو میری شرمگاہ کھل جاتی، تو انہوں نے میرے والد سے کہا: کیا تم ہماری خاطر اس کی شرمگاہ نہیں چھپاتے؟ اور میں انہیں قرآن سیکھنے کی ترغیب دیا کرتا تھا۔ زہیر کہتے ہیں: تو وہ ہمیشہ اپنی قوم کی نماز اور جنازوں کے امام رہے۔
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي مِسْعَرٌ الْجَرْمِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ سَلَمَةَ، أَنَّ أَبَاهُ، وَأُنَاسًا مِنْ قَوْمِهِ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَسْلَمَ النَّاسُ، وَتَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ، وَقَضَوْا حَوَائِجَهُمْ، ثُمَّ سَأَلُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ يُصَلِّي بِنَا؟ أَوْ مَنْ يُصَلِّي لَنَا؟ قَالَ: " يُصَلِّي بِكُمْ , أَوْ يُصَلِّي لَكُمْ أَكْثَرُكُمْ أَخْذًا، أَوْ قَالَ: أَكْثَرُكُمْ جَمْعًا لِلْقُرْآنِ "، فَرَجَعُوا إِلَى قَوْمِهِمْ، فَسَأَلُوهُمْ، فَلَمْ يَجِدُوا أَحَدًا جَمَعَ أَكْثَرَ مِمَّا جَمَعْتُ، وَأَنَا غُلَامٌ عَلَيَّ شَمْلَةٌ، فَقَدَّمُونِي بَيْنَ أَيْدِيهِمْ، فَصَلَّيْتُ بِهِمْ، أَوْ قَالَ: فَصَلَّيْتُ لَهُمْ , فَلَمْ أَزَلْ إِمَامَ جَرْمٍ إِلَى يَوْمِي هَذَا وَكَانَ يَؤُمُّهُمْ فِي مَسْجِدِهِمْ، وَيُصَلِّي عَلَى جَنَائِزِهِمْ
ترجمہ
سیدنا عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد اور ان کی قوم کے کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس اس وقت آئے جب لوگوں نے اسلام قبول کر لیا تھا، انہوں نے قرآن سیکھا اور اپنی حاجات پوری کیں، پھر نبی کریم ﷺ سے پوچھا: ہمیں کون نماز پڑھائے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں وہی نماز پڑھائے گا جو تم میں سب سے زیادہ حفظ کرنے والا ہو، یا فرمایا: قرآن جمع کرنے والا ہو۔“ تو وہ اپنی قوم کے پاس واپس آئے اور ان سے پوچھا، تو ان میں کوئی مجھ سے زیادہ حفظ کرنے والا نہ ملا، جبکہ میں ایک بچہ تھا اور مجھ پر ایک چادر تھی، تو انہوں نے مجھے آگے کر دیا، تو میں نے ان کی امامت کی، یا فرمایا: ان کے لیے نماز پڑھائی، تو میں آج تک بنی جرم کا امام رہا۔ وہ ان کی مسجد میں امامت کرتے اور ان کے جنازوں پر نماز پڑھاتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ، قَالَ كُنْتُ غُلَامًا، وَكُنْتُ أَتَلَقَّى الرُّكْبَانَ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَسْتَقْرِئُهُمْ، فَأَخْبَرُونِي أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لِيَؤُمَّكُمْ أَكْثَرُكُمْ قُرْآنًا» ، فَكُنْتُ أَؤُمُّهُمْ
ترجمہ
سیدنا عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں ایک بچہ تھا، اور میں رسول اللہ ﷺ کے پاس سے آنے والے سواروں سے ملا کرتا اور ان سے قرآن پڑھواتا تھا، تو انہوں نے مجھے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہاری امامت تم میں سب سے زیادہ قرآن جاننے والا کرے۔“ تو میں ان کی امامت کرتا تھا۔