المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سلمة أبو عمرو بن سلمة الجرمي باب: سیدنا سلمہ ابوعمرو بن سلمہ جرمی رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر: 6324
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ، قَالَ: جَاءَ نَفَرٌ مِنَ الْحَيِّ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَمِعُوهُ يَقُولُ: «لِيَؤُمَّكُمْ أَكْثَرُكُمْ قُرْآنًا» فَقَدَّمُونِي بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَأَنَا غُلَامٌ، فَكُنْتُ أَؤُمُّهُمْ فِي بُرْدَةٍ مَوْصُولَةٍ، فَكَانَ فِيهَا فَتْقٌ، فَكُنْتُ إِذَا سَجَدْتُ خَرَجَتِ اسْتِي، فَقَالُوا لِأَبِي: أَلَا تُغَطِّي عَنَّا اسْتَهُ؟ وَكُنْتُ أُرَغِّبُهُمْ فِي تَعْلِيمِ الْقُرْآنِ قَالَ زُهَيْرٌ: فَلَمْ يَزَلْ إِمَامَ قَوْمِهِ فِي الصَّلَاةِ , وَعَلَى جَنَائِزِهِمْترجمہ
سیدنا عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: قبیلے کے کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، تو انہوں نے آپ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”تمہاری امامت تم میں سے سب سے زیادہ قرآن جاننے والا کرے۔“ تو انہوں نے مجھے سب کے آگے کر دیا جبکہ میں ایک بچہ تھا، تو میں ایک جڑی ہوئی دھاری دار چادر میں ان کی امامت کرتا تھا، اس میں ایک شگاف تھا، تو جب میں سجدہ کرتا تو میری شرمگاہ کھل جاتی، تو انہوں نے میرے والد سے کہا: کیا تم ہماری خاطر اس کی شرمگاہ نہیں چھپاتے؟ اور میں انہیں قرآن سیکھنے کی ترغیب دیا کرتا تھا۔ زہیر کہتے ہیں: تو وہ ہمیشہ اپنی قوم کی نماز اور جنازوں کے امام رہے۔