حدیث نمبر: 6325
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي مِسْعَرٌ الْجَرْمِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ سَلَمَةَ، أَنَّ أَبَاهُ، وَأُنَاسًا مِنْ قَوْمِهِ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَسْلَمَ النَّاسُ، وَتَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ، وَقَضَوْا حَوَائِجَهُمْ، ثُمَّ سَأَلُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ يُصَلِّي بِنَا؟ أَوْ مَنْ يُصَلِّي لَنَا؟ قَالَ: " يُصَلِّي بِكُمْ , أَوْ يُصَلِّي لَكُمْ أَكْثَرُكُمْ أَخْذًا، أَوْ قَالَ: أَكْثَرُكُمْ جَمْعًا لِلْقُرْآنِ "، فَرَجَعُوا إِلَى قَوْمِهِمْ، فَسَأَلُوهُمْ، فَلَمْ يَجِدُوا أَحَدًا جَمَعَ أَكْثَرَ مِمَّا جَمَعْتُ، وَأَنَا غُلَامٌ عَلَيَّ شَمْلَةٌ، فَقَدَّمُونِي بَيْنَ أَيْدِيهِمْ، فَصَلَّيْتُ بِهِمْ، أَوْ قَالَ: فَصَلَّيْتُ لَهُمْ , فَلَمْ أَزَلْ إِمَامَ جَرْمٍ إِلَى يَوْمِي هَذَا وَكَانَ يَؤُمُّهُمْ فِي مَسْجِدِهِمْ، وَيُصَلِّي عَلَى جَنَائِزِهِمْ
ترجمہ

سیدنا عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد اور ان کی قوم کے کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس اس وقت آئے جب لوگوں نے اسلام قبول کر لیا تھا، انہوں نے قرآن سیکھا اور اپنی حاجات پوری کیں، پھر نبی کریم ﷺ سے پوچھا: ہمیں کون نماز پڑھائے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں وہی نماز پڑھائے گا جو تم میں سب سے زیادہ حفظ کرنے والا ہو، یا فرمایا: قرآن جمع کرنے والا ہو۔“ تو وہ اپنی قوم کے پاس واپس آئے اور ان سے پوچھا، تو ان میں کوئی مجھ سے زیادہ حفظ کرنے والا نہ ملا، جبکہ میں ایک بچہ تھا اور مجھ پر ایک چادر تھی، تو انہوں نے مجھے آگے کر دیا، تو میں نے ان کی امامت کی، یا فرمایا: ان کے لیے نماز پڑھائی، تو میں آج تک بنی جرم کا امام رہا۔ وہ ان کی مسجد میں امامت کرتے اور ان کے جنازوں پر نماز پڑھاتے تھے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 6325
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 7، صفحہ 50، حدیث 6354