المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سلمة أبو عمرو بن سلمة الجرمي باب: سیدنا سلمہ ابوعمرو بن سلمہ جرمی رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّافِعِيُّ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنَّا بِحَاضِرِ مَاءٍ عَظِيمٍ عَلَى ظَهْرِ الطَّرِيقِ، فَيَأْتِينَا الرُّكْبَانُ، فَنَسْأَلُهُمْ: مَا يَقُولُ هَذَا الرَّجُلُ؟ يَعْنُونَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَقُولُونَ: يَقُولُ كَذَا، وَيَأْمُرُهُمْ بِكَذَا، وَيَنْهَاكُمْ عَنْ كَذَا، وَأَنَا غُلَامٌ ابْنُ سِتِّ سِنِينَ، لَا أَسْمَعُ شَيْئًا إِلَّا كَأَنَّمَا كُتِبَ فِي قَلْبِي، وَكَانَ النَّاسُ يَقُولُونَ: انْظُرُوا مَا يَصْنَعُ قَوْمُ الرَّجُلِ، فَلَمَّا فُتِحَتْ مَكَّةُ بَعَثَ النَّاسُ وُفُودَهُمْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ أَبِي وَافِدَ قَوْمِهِ، فَأَتَاهُمْ , فَقَالَ: «أَتَيْتُكُمْ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللهِ , يَأْمُرُكُمْ بِكَذَا، وَيَنْهَاكُمْ عَنْ كَذَا، وَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَلْيَؤُمَّكُمْ أَكْثَرُكُمْ قُرْآنًا» فَنَظَرُوا فَلَمْ يَجِدُوا أَكْثَرَ قُرْآنًا مِنِّي، فَقَدَّمُونِي فَصَلَّيْتُ بِهِمْ , عَلَيَّ بُرْدَةٌ لِي , أَوْ شَمْلَةٌ لِي , فَقَالَتْ عَجُوزٌ: أَلَا تُغَطُّونَ عَنَّا اسْتَ قَارِئِكُمْ؟ فَاشْتُرِيَ ثَوْبٌ مِنْ مَقْعَدَةِ الْبَحْرَيْنِ، فَقَطَعَتْهُ لِيَ امْرَأَةٌ مِنَ الْحَيِّ قَمِيصًا، فَمَا فَرِحْتُ بِشَيْءٍ قَطُّ بَعْدَ الْإِسْلَامِ فَرَحِي بِذَلِكَ الْقَمِيصِسیدنا عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اور لوگ کہا کرتے تھے: دیکھو اس شخص کی قوم کیا کرتی ہے۔ جب مکہ فتح ہوا تو لوگوں نے اپنے وفود رسول اللہ ﷺ کے پاس بھیجے، اور میرے والد اپنی قوم کے وفد تھے، تو وہ ان کے پاس آئے اور کہا: ”میں تمہارے پاس رسول اللہ ﷺ کی طرف سے آیا ہوں، وہ تمہیں فلاں فلاں کا حکم دیتے ہیں اور فلاں فلاں سے منع فرماتے ہیں، اور جب نماز کا وقت ہو تو تم میں سے سب سے زیادہ قرآن جاننے والا امامت کرے۔“ تو انہوں نے دیکھا تو مجھ سے زیادہ قرآن جاننے والا کوئی نہ پایا، تو انہوں نے مجھے آگے کر دیا، تو میں نے ان کی امامت کی جبکہ مجھ پر میری ایک دھاری دار چادر تھی، تو ایک بوڑھی عورت نے کہا: کیا تم ہمارے قاری کی شرمگاہ ہم سے چھپا نہیں سکتے؟ تو بحرین کی بنی ہوئی ایک چادر خریدی گئی، قبیلے کی ایک عورت نے اسے کاٹ کر میرے لیے قمیص بنا دی، تو اسلام کے بعد مجھے اس قمیص جیسی خوشی کبھی نہ ہوئی۔