❮
❯
حدیث نمبر: 6320
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا أَيُّوبُ، ثنا عَمْرُو بْنُ سَلَمَةَ أَبُو يَزِيدَ الْجَرْمِيُّ، قَالَ: كُنَّا بِحَضْرَةِ مَاءٍ مَمَرِّ النَّاسِ، فَكُنَّا نَسْأَلُهُمْ: مَا هَذَا الْأَمْرُ؟ فَيَقُولُونَ: رَجُلٌ يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ , وَأَنَّ اللهَ أَرْسَلَهُ , وَأَنَّ اللهَ أَوْحَى إِلَيْهِ كَذَا وَكَذَا، فَجَعَلْتُ لَا أَسْمَعُ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ إِلَّا حَفِظْتُهُ , كَأَنَّمَا يُغْرَى فِي صَدْرِي بِغِرَاءٍ , حَتَّى جَمَعْتُ مِنْهُ قُرْآنًا كَثِيرًا، قَالَ: فَكَانَتِ الْعَرَبُ تُلَوَّمُ بِإِسْلَامِهَا الْفَتْحَ، وَيَقُولُونَ: انْظُرُوا , فَإِنْ ظَهَرَهُ عَلَيْهِمْ فَهُوَ صَادِقٌ، وَهُوَ نَبِيٌّ، فَلَمَّا جَاءَتْنَا وَقْعَةُ الْفَتْحِ بَادَرَ كُلُّ قَوْمٍ بِإِسْلَامِ قَوْمِهِمْ، فَانْطَلَقَ أَبِي بِإِسْلَامِ أَهْلِ حِوَائِنَا ذَلِكَ، فَأَقَامَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يُقِيمَ، ثُمَّ أَقْبَلَ، فَلَمَّا دَنَا مِنَّا تَلَقَّيْنَاهُ، فَلَمَّا رَأَيْنَاهُ قَالَ: جِئْتُكُمْ وَاللهِ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقًّا، قَالَ: ثُمَّ قَالَ: «إِنَّهُ يَأْمُرُكُمْ بِكَذَا وَكَذَا، وَيَنْهَاكُمْ عَنْ كَذَا وَكَذَا، وَأَنْ تُصَلُّوا صَلَاةَ كَذَا فِي حِينِ كَذَا، فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَلْيُؤَذِّنْ أَحَدُكُمْ، وَلْيَؤُمَّكُمْ أَكْثَرُكُمْ قُرْآنًا» قَالَ: فَنَظَرُوا إِلَى أَهْلِ حِوَائِنَا فَمَا وَجَدُوا أَحَدًا أَكْثَرَ مِنِّي قُرْآنًا لِلَّذِي كُنْتُ أَحْفَظُ مِنَ الرُّكْبَانِ، فَقَدَّمُونِي بَيْنَ أَيْدِيهِمْ، فَكُنْتُ أُصَلِّي بِهِمْ، وَأَنَا ابْنُ سِتِّ سِنِينَ , قَالَ: فَكَانَتْ عَلَيَّ بُرْدَةٌ، كُنْتُ إِذَا سَجَدْتُ تَقَلَّصَتْ عَنِّي، قَالَ: فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الْحَيِّ: أَلَا تُغَطُّوا عَنَّا اسْتَ قَارِئِكُمْ قَالَ: فَكَسَوْنِي قَمِيصًا مِنْ مَعْقِدِ الْبَحْرَيْنِ، فَمَا فَرِحْتُ بِشَيْءٍ أَشَدَّ مِنْ فَرَحِي بِذَلِكَ الْقَمِيصِ
ترجمہ

سیدنا عمرو بن سلمہ ابو یزید جرمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم ایک پانی کے پاس رہتے تھے جو لوگوں کی گزرگاہ تھا، تو ہم ان سے پوچھتے: یہ کیا معاملہ ہے؟ وہ کہتے: ایک آدمی ہے جو دعویٰ کرتا ہے کہ وہ نبی ہے، اللہ نے اسے بھیجا ہے، اور اللہ نے اس کی طرف فلاں فلاں وحی کی ہے۔ تو میں اس میں سے جو کچھ سنتا اسے یاد کر لیتا، گویا وہ میرے سینے میں گوند سے چپکا دیا جاتا ہو، یہاں تک کہ میں نے اس میں سے بہت سا قرآن جمع کر لیا۔ راوی کہتے ہیں: عرب اپنے اسلام کے لیے فتح (مکہ) کا انتظار کر رہے تھے اور کہتے تھے: دیکھتے رہو، اگر وہ ان پر غالب آ گیا تو وہ سچا ہے اور وہ نبی ہے۔ جب ہمارے پاس فتح کے واقعہ کی خبر آئی تو ہر قوم نے اپنی قوم کے اسلام میں جلدی کی، چنانچہ میرے والد ہماری اس بستی والوں کا اسلام لے کر گئے، اور نبی کریم ﷺ کے پاس جتنا اللہ نے چاہا ٹھہرے، پھر واپس آئے، جب وہ ہمارے قریب پہنچے تو ہم نے ان کا استقبال کیا، جب ہم نے انہیں دیکھا تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم، میں تمہارے پاس واقعی رسول اللہ ﷺ کے پاس سے آیا ہوں۔ راوی کہتے ہیں: پھر انہوں نے کہا: ”وہ تمہیں فلاں فلاں باتوں کا حکم دیتے ہیں، اور فلاں فلاں باتوں سے منع کرتے ہیں، اور یہ کہ تم فلاں نماز فلاں وقت پر پڑھو، اور جب نماز کا وقت آئے تو تم میں سے کوئی اذان دے، اور تم میں سے جو سب سے زیادہ قرآن جانتا ہو وہ امامت کرے۔“ راوی کہتے ہیں: تو انہوں نے ہماری بستی والوں کو دیکھا تو مجھ سے زیادہ قرآن جاننے والا کوئی نہ پایا، کیونکہ میں سواروں سے سن کر بہت کچھ یاد کر چکا تھا، تو انہوں نے مجھے سب کے آگے کر دیا، چنانچہ میں ان کی امامت کرتا تھا جبکہ میں چھ سال کا تھا۔ راوی کہتے ہیں: مجھ پر ایک دھاری دار چادر تھی، جب میں سجدہ کرتا تو وہ سمٹ کر مجھ سے ہٹ جاتی۔ راوی کہتے ہیں: تو قبیلے کی ایک عورت نے کہا: کیا تم ہمارے قاری کی شرمگاہ ہم سے چھپا نہیں سکتے؟ راوی کہتے ہیں: تو انہوں نے مجھے بحرین کے بنے ہوئے کپڑے کا ایک قمیص پہنایا، تو مجھے کسی چیز پر اتنی خوشی نہ ہوئی جتنی اس قمیص پر ہوئی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 6320
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 7، صفحہ 48، حدیث 6349