حدیث نمبر: 6321
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ سَلَمَةَ قَالَ: كُنَّا بِحَاضِرٍ يَمُرُّ بِنَا مَنْ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانُوا يَقُولُونَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَذَا، وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَذَا، فَحَفِظْتُ مِنْ ذَلِكَ قُرْآنًا كَثِيرًا، فَانْطَلَقَ أَبِي وَافِدًا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَفَرٍ مِنْ قَوْمِهِ، فَعَلَّمَهُمُ الصَّلَاةَ، فَقَالَ: «لِيَؤُمَّكُمْ أَقْرَؤُكُمْ» ، قَالَ: فَكُنْتُ أَقْرَأَهُمْ لِمَا كُنْتُ أَحْفَظُ، فَكُنْتُ أَؤُمُّهُمْ، وَعَلَيَّ بُرْدَةٌ , إِذَا سَجَدْتُ تَكَشَّفَتْ عَنِّي، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الْقَوْمِ: وَارُوا عَنَّا عَوْرَةَ قَارِئِكُمْ , فَاشْتَرَوْا لِي قَمِيصًا عُمَانِيًّا، فَمَا فَرِحْتُ بِشَيْءٍ بَعْدَ الْإِسْلَامِ مَا فَرِحْتُ بِهِ، فَكُنْتُ أَؤُمُّهُمْ، وَأَنَا ابْنُ سَبْعِ سِنِينَ , أَوْ ثَمَانِ سِنِينَ
ترجمہ

سیدنا عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: تو میں نے اس سے کافی قرآن یاد کر لیا، پھر میرے والد اپنی قوم کے کچھ لوگوں کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے پاس وفد بن کر گئے، آپ ﷺ نے انہیں نماز سکھائی اور فرمایا: ”تمہاری امامت تم میں سے سب سے زیادہ قرآن پڑھنے والا کرے۔“ راوی کہتے ہیں: تو میں ان میں سب سے زیادہ قرآن جاننے والا تھا کیونکہ میں نے زیادہ یاد کر رکھا تھا، تو میں ان کی امامت کرتا تھا، اور مجھ پر ایک دھاری دار چادر تھی، جب میں سجدہ کرتا تو وہ مجھ سے ہٹ جاتی، تو قوم کی ایک عورت نے کہا: ہمارے قاری کی شرمگاہ ہم سے چھپا دو۔ تو انہوں نے میرے لیے عُمانی کپڑے کا ایک قمیص خرید لیا، تو مجھے اسلام کے بعد کسی چیز پر اتنی خوشی نہ ہوئی جتنی اس پر ہوئی، تو میں ان کی امامت کرتا رہا جبکہ میں سات یا آٹھ سال کا تھا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 6321
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 7، صفحہ 49، حدیث 6350