کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: عطاء بن ابی رباح کی سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أَجْرِهِ شَيْءٌ، وَمَنْ جَهَّزَ حَاجًّا أَوْ جَهَّزَ غَازِيًا أَوْ خَلَفَهُ فِي أَهْلِهِ، فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أَجْرِهِ شَيْءٌ»
ترجمہ
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے کسی روزہ دار کو افطار کرایا اسے اس کے برابر اجر ملے گا، بغیر اس کے کہ روزہ دار کے اجر میں کوئی کمی ہو۔ اور جس نے کسی حاجی کو سامان فراہم کیا، یا کسی غازی کو سامانِ جنگ فراہم کیا، یا اس کے پیچھے اس کے اہل و عیال کی نگہداشت کی، اسے بھی اسی کے برابر اجر ملے گا، بغیر اس کے کہ اس کے اجر میں کوئی کمی ہو۔“
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ، وَسُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا أَوْ جَهَّزَ غَازِيًا أَوْ جَهَّزَ حَاجًّا فَإِنْ لَهُ مِثْلَ أُجُورِهِمْ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْءٌ»
ترجمہ
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے کسی روزہ دار کو افطار کرایا، یا کسی غازی کو سامانِ جنگ فراہم کیا، یا کسی حاجی کو سامان فراہم کیا، تو اسے ان کے اجر جتنا اجر ملے گا، بغیر اس کے کہ ان کے اجر میں کوئی کمی ہو۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا أَطْعَمَهُ وَسَقَاهُ كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أَجْرِهِ شَيْءٌ»
ترجمہ
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے کسی روزہ دار کو افطار کرایا، اسے کھلایا اور پلایا، تو اسے اس کے برابر اجر ملے گا، بغیر اس کے کہ اس کے اجر میں کوئی کمی ہو۔“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا أَوْ أَحَجَّ رَجُلًا أَوْ جَهَّزَ غَازِيًا أَوْ خَلَفَهُ فِي أَهْلِهِ فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ»
ترجمہ
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے کسی روزہ دار کو افطار کرایا، یا کسی کو حج کرایا، یا کسی غازی کو سامانِ جنگ فراہم کیا، یا اس کے پیچھے اس کے اہل و عیال کی نگہداشت کی، اسے اس کے برابر اجر ملے گا۔“
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا أَوْ حَاجًّا أَوْ خَلَفَهُ فِي أَهْلِهِ أَوفَطَّرَ صَائِمًا، كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَهُ ذَلِكَ»
ترجمہ
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے کسی غازی کو سامانِ جنگ فراہم کیا، یا کسی حاجی کو سامان فراہم کیا، یا اس کے پیچھے اس کے اہل و عیال کی نگہداشت کی، یا کسی روزہ دار کو افطار کرایا، اسے اس کے برابر اجر ملے گا، بغیر اس کے کہ اس کے اجر میں کوئی کمی ہو۔“
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ الصَّائِمِ، وَإِنَّهُ لَا يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِ الصَّائِمِ شَيْءٌ، وَمَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللهِ أَوْ خَلَفَهُ فِي أَهْلِهِ فَإِنَّ لَهُ مِثْلَ أَجْرِ الْغَازِي فِي أَنَّهُ لَا يَنْقُصُ مِنَ الْغَازِي شَيْءٌ»
ترجمہ
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے کسی روزہ دار کو افطار کرایا اسے روزہ دار کے برابر اجر ملے گا، اور اس سے روزہ دار کے اجر میں کوئی کمی نہیں ہو گی۔ اور جس نے اللہ کی راہ میں کسی غازی کو سامانِ جنگ فراہم کیا یا اس کے پیچھے اس کے اہل و عیال کی نگہداشت کی، اسے غازی کے برابر اجر ملے گا اور اس سے غازی کے اجر میں کوئی کمی نہیں ہو گی۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ، ثنا ابْنُ عَائِشَةَ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا كُتِبَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ فِي أَنَّهُ لَا يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِ الصَّائِمِ شَيْءٌ، وَمَنْ جَهَّزَ غَازِيًا أَوْ خَلَفَهُ فِي أَهْلِهِ كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ فِي أَنَّهُ لَا يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِ الْغَازِي شَيْءٌ»
ترجمہ
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے کسی روزہ دار کو افطار کرایا، اس کے لیے اسی کے برابر اجر لکھا جائے گا بغیر اس کے کہ روزہ دار کے اجر میں کوئی کمی ہو، اور جس نے کسی غازی کو سامانِ جنگ فراہم کیا یا اس کے پیچھے اس کے اہل و عیال کی نگہداشت کی، اسے اسی کے برابر اجر ملے گا بغیر اس کے کہ غازی کے اجر میں کوئی کمی ہو۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرٌ، وَعَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا كُتِبَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ فِي أَنَّهُ لَا يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِ الصَّائِمِ شَيْءٌ، وَمَنْ جَهَّزَ غَازِيًا أَوْ خَلَفَهُ فِي أَهْلِهِ كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ فِي أَنَّهُ لَا يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِ الْغَازِي شَيْءٌ»
ترجمہ
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے کسی روزہ دار کو افطار کرایا، اس کے لیے اسی کے برابر اجر لکھا جائے گا بغیر اس کے کہ روزہ دار کے اجر میں کوئی کمی ہو، اور جس نے کسی غازی کو سامانِ جنگ فراہم کیا یا اس کے پیچھے اس کے اہل و عیال کی نگہداشت کی، اسے اسی کے برابر اجر ملے گا بغیر اس کے کہ غازی کے اجر میں کوئی کمی ہو۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ حَفْصٍ النُّفَيْلِيُّ، ثنا مَعْقِلُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، وَعِكْرِمَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ وَلَا يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِهِ شَيْءٌ، وَمَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللهِ كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ وَلَا يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِهِ شَيْءٌ»
ترجمہ
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے کسی روزہ دار کو افطار کرایا اسے اس کے برابر اجر ملے گا اور اس کے اجر میں کوئی کمی نہیں ہو گی، اور جس نے اللہ کی راہ میں کسی غازی کو سامانِ جنگ فراہم کیا اسے اس کے برابر اجر ملے گا اور اس کے اجر میں کوئی کمی نہیں ہو گی۔“
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ، قَالَا: ثنا هَوْذَةُ بْنُ خَلِيفَةَ، ثنا عُمَرُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللهِ أَوْ خَلَفَهُ فِي أَهْلِهِ بِخَيْرٍ كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ الْغَازِي مِنْ غَيْرِ أَنَّ يَنْقُصَ مِنْ أَجْرِهِ شَيْءٌ، وَمَنْ فَطَّرَ صَائِمًا كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ»
ترجمہ
سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جس نے اللہ کی راہ میں کسی غازی کو سامانِ جنگ فراہم کیا یا اس کے پیچھے اس کے اہل و عیال کی بھلائی کے ساتھ نگہداشت کی، اسے غازی کے برابر اجر ملے گا بغیر اس کے کہ اس کے اجر میں کوئی کمی ہو، اور جس نے کسی روزہ دار کو افطار کرایا اسے اس کے برابر اجر ملے گا۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، ثنا أَبُو إِسْمَاعِيلَ الْمُؤَدِّبُ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا أَوْ جَهَّزَ حَاجًّا أَوْ غَازِيًا كَانَ لَهُ مِثْلُ أُجُورِهِمْ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْءٌ»
ترجمہ
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے کسی روزہ دار کو افطار کرایا، یا کسی حاجی یا غازی کو سامان فراہم کیا، اسے ان کے اجر جتنا اجر ملے گا بغیر اس کے کہ ان کے اجر میں کوئی کمی ہو۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ وَلَا تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا»
ترجمہ
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے گھروں میں نماز پڑھا کرو اور انہیں قبریں مت بناؤ۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «صَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ وَلَا تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا»
ترجمہ
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اپنے گھروں میں نماز پڑھا کرو اور انہیں قبریں مت بناؤ۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرٌ، وَعَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَتَّخِذُوا بُيُوتِكُمْ قُبُورًا وَصَلُّوا فِيهَا»
ترجمہ
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے گھروں کو قبریں مت بناؤ اور ان میں نماز پڑھا کرو۔“