المعجم الكبير للطبراني
باب الزاي— حرف زا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عطاء بن أبي رباح، عن زيد بن خالد الجهني باب: عطاء بن ابی رباح کی سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 5255
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرٌ، وَعَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا كُتِبَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ فِي أَنَّهُ لَا يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِ الصَّائِمِ شَيْءٌ، وَمَنْ جَهَّزَ غَازِيًا أَوْ خَلَفَهُ فِي أَهْلِهِ كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ فِي أَنَّهُ لَا يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِ الْغَازِي شَيْءٌ»ترجمہ
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے کسی روزہ دار کو افطار کرایا، اس کے لیے اسی کے برابر اجر لکھا جائے گا بغیر اس کے کہ روزہ دار کے اجر میں کوئی کمی ہو، اور جس نے کسی غازی کو سامانِ جنگ فراہم کیا یا اس کے پیچھے اس کے اہل و عیال کی نگہداشت کی، اسے اسی کے برابر اجر ملے گا بغیر اس کے کہ غازی کے اجر میں کوئی کمی ہو۔“