کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: ثمامہ بن عقبہ محلمی کی سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا أَبَا الْقَاسِمِ، تَزْعُمُ أَنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ يَأْكُلُونَ وَيَشْرَبُونَ، فَإِنَّ الَّذِي يَأْكُلُ وَيَشْرَبُ تَكُونُ لَهُ الْحَاجَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «حَاجَةُ أَحَدِهِمْ عَرَقٌ يُفِيضُ مِنْ جِلْدِهِ، فَإِذَا بَطْنُهُ قَدْ ضَمُرَ»
ترجمہ
(کسی نے رسول اللہ ﷺ سے) عرض کیا: اے ابوالقاسم! آپ کہتے ہیں کہ جنتی کھائیں پیئیں گے، جبکہ جو کھائے پیئے اسے حاجت بھی ہوتی ہے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ان میں سے ہر ایک کی حاجت پسینہ ہے جو اس کی جلد سے نکلے گا، پھر اس کا پیٹ سکڑ جائے گا۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا أَبِي، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّكُمْ تَزْعُمُونَ أَنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ يَأْكُلُونَ وَيَشْرَبُونَ، فَقَالَ: «إِيْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ الرَّجُلَ مِنْهُمْ لِيُؤْتَى قُوَّةَ مِائَةِ رَجُلٍ فِي الْأَكْلِ وَالشُّرْبِ وَالْجِمَاعِ وَالشَّهْوَةِ» ، فَقَالَ: إِنَّ الَّذِي يَأْكُلُ وَيَشْرَبُ تَكُونُ لَهُ الْحَاجَةُ، فَقَالَ: «عَرَقٌ، فَإِذَا كَانَ كَذَلِكَ ضَمُرَ لَهُ بَطْنُهُ»
ترجمہ
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ایک شخص نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور کہا: آپ لوگ کہتے ہیں کہ جنتی کھائیں پیئیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جنتی کو کھانے، پینے، جماع اور خواہش (پوری کرنے) میں سو آدمیوں کی طاقت دی جائے گی۔“ اس نے کہا: مگر جو کھاتا پیتا ہے اسے حاجت بھی ہوتی ہے؟ فرمایا: ”پسینہ کی صورت میں، اور جب ایسا ہوگا تو اس کا پیٹ سکڑ جائے گا۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عُقْبَةَ الْمُحَلِّمِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الرَّجُلَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ لَيُعْطَى قُوَّةَ مِائَةِ رَجُلٍ فِي الْأَكْلِ وَالشُّرْبِ وَالشَّهْوَةِ وَالْجِمَاعِ» ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ: فَإِنَّ الَّذِي يَأْكُلُ وَيَشْرَبُ تَكُونُ لَهُ الْحَاجَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «حَاجَةُ أَحَدِهِمْ عَرَقٌ يُفِيضُ مِنْ جِلْدِهِ فَإِذَا بَطْنُهُ قَدْ ضَمُرَ»
ترجمہ
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جنتی کو کھانے، پینے، خواہش اور جماع میں سو آدمیوں کی طاقت دی جائے گی۔“ تو یہود میں سے ایک شخص نے کہا: مگر جو کھاتا پیتا ہے اسے حاجت بھی ہوتی ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ان میں سے ہر ایک کی حاجت پسینہ ہے جو اس کی جلد سے نکلے گا، پھر اس کا پیٹ سکڑ جائے گا۔“
حَدَّثَنَا أَبُو حُصَيْنٍ الْقَاضِي، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ شُعَيْبٍ النَّسَائِيُّ، أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ، عَنْ دَاوُدَ الطَّائِيِّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ: يَا أَبَا الْقَاسِمِ، تَزْعُمُ أَنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ يَأْكُلُونَ وَيَشْرَبُونَ، قَالَ: «نَعَمْ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ أَحَدَهُمْ لَيُعْطَى قُوَّةَ مِائَةِ رَجُلٍ فِي الْأَكْلِ وَالشُّرْبِ وَالْجِمَاعِ وَالشَّهْوَةِ» قَالَ: فَإِنَّ الَّذِي يَأْكُلُ تَكُونُ لَهُ الْحَاجَةُ، قَالَ: «حَاجَةُ أَحَدِهِمْ عَرَقٌ كَرِيحِ الْمِسْكِ فَيُضْمِرُ بَطْنَهُ»
ترجمہ
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: اہل کتاب میں سے ایک شخص نے کہا: اے ابوالقاسم! آپ کہتے ہیں کہ جنتی کھائیں پیئیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! ان میں سے ہر ایک کو کھانے، پینے، جماع اور خواہش میں سو آدمیوں کی طاقت دی جائے گی۔“ اس نے کہا: مگر جو کھاتا ہے اسے حاجت بھی ہوتی ہے؟ فرمایا: ”ان میں سے ہر ایک کی حاجت مشک کی خوشبو جیسا پسینہ ہے جس سے اس کا پیٹ سکڑ جائے گا۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بِشْرٍ الْمَقَارِيضِيُّ الصَّنْعَانِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حُوتِيٍّ الصَّنْعَانِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ صَالِحٍ الْمَكِّيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عُقْبَةَ الْمُحَلِّمِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا أَبَا الْقَاسِمِ، تَزْعُمُ أَنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ يَأْكُلُونَ وَيَشْرَبُونَ، قَالَ: «نَعَمْ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ الرَّجُلَ لَيُعْطَى قُوَّةَ مِائَةِ رَجُلٍ فِي الْأَكْلِ وَالشُّرْبِ وَالْجِمَاعِ وَالشَّهْوَةِ»
ترجمہ
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: اہل کتاب میں سے ایک شخص نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور کہا: اے ابوالقاسم! آپ کہتے ہیں کہ جنتی کھائیں پیئیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! آدمی کو کھانے، پینے، جماع اور خواہش میں سو آدمیوں کی طاقت دی جائے گی۔“
حَدَّثَنَا أَسْلَمُ بْنُ سَهْلٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ، ثنا يَحْيَى بْنُ رَاشِدٍ، ثنا عَبْدُ النُّورِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ هَارُونَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عُقْبَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ: أَتَزْعُمُ أَنَّ فِي الْجَنَّةِ طَعَامًا وَشَرَابًا وَأَزْوَاجًا؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَعَمْ» فَقَالَ الْيَهُودِيُّ: إِنَّا نَجِدُهَا طَيْبَةً مُطَيَّبَةً، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتُؤْمِنُ بِشَجَرَةِ الْمِسْكِ وَتَجِدُهَا فِي كِتَابِكُمِ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «فَإِنَّ الْبَوْلَ وَالْجَنَابَةَ عَرَقٌ يَسِيلُ مِنْ ذَوَائِبِهِمْ إِلَى أَقْدَامِهِمْ كَالْمِسْكِ»
ترجمہ
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھا تھا کہ یہود میں سے ایک شخص نے آپ ﷺ سے پوچھا: کیا آپ کہتے ہیں کہ جنت میں کھانا، پینا اور بیویاں ہوں گی؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“ یہودی نے کہا: ہم اسے پاکیزہ اور خوشبودار پاتے ہیں (تو پھر فضلہ کیسے ہوگا؟)۔ نبی کریم ﷺ نے اس سے فرمایا: ”کیا تم مشک کے درخت پر ایمان رکھتے ہو اور اسے اپنی کتاب میں پاتے ہو؟“ اس نے کہا: ہاں۔ فرمایا: ”تو پیشاب اور جنابت پسینہ ہے جو ان کی چوٹیوں سے ان کے قدموں تک مشک کی طرح بہتا ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ رَاهَوَيْهِ، ثنا أَبِي، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبِي، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيُّ، قَالُوا: ثنا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: " كَانَ رَجُلٌ يَدْخُلُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَقَدَ لَهُ عُقَدًا فَوَضَعَهُ فِي بِئْرِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَأَتَاهُ مَلَكَانِ يَعُودَانِهِ، فَقَعَدَ أَحَدُهُمَا عِنْدَ رَأْسِهِ وَالْآخَرُ عِنْدَ رِجْلَيْهِ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: أَتَدْرِي مَا وَجَعُهُ؟ قَالَ: فُلَانٌ الَّذِي يَدْخُلُ عَلَيْهِ عَقَدَ لَهُ عُقَدًا فَأَلْقَاهُ فِي بِئْرِ فُلَانٍ الْأَنْصَارِيِّ، فَلَوْ أُرْسِلَ رَجُلٌ، وَأَخَذَ الْعُقَدَ لَوَجَدَ الْمَاءَ قَدِ اصْفَرَّ "، قَالَ: «فَبَعَثَ رَجُلًا فَأَخَذَ الْعُقَدَ فَحَلَّهَا فَبَرَأَ، وَكَانَ الرَّجُلُ بَعْدَ ذَلِكَ يَدْخُلُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَذْكُرْ لَهُ شَيْئًا مِنْهُ وَلَمْ يُعَاتِبْهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ»
ترجمہ
(دو فرشتوں میں سے) ایک نے دوسرے سے پوچھا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ ان کی بیماری کیا ہے؟ دوسرے نے کہا: فلاں شخص، جو ان کے پاس آتا جاتا ہے، اس نے ان پر جادو کر کے کچھ گرہیں باندھیں اور انہیں فلاں انصاری کے کنویں میں ڈال دیا، اگر کسی آدمی کو بھیجا جائے اور وہ گرہیں نکال لے تو وہ پانی کو زرد پائے گا۔ (راوی کہتے ہیں) تو آپ ﷺ نے ایک آدمی کو بھیجا، اس نے گرہیں نکالیں اور انہیں کھول دیا تو آپ ﷺ صحت یاب ہو گئے، اور اس کے بعد بھی وہ شخص نبی کریم ﷺ کے پاس آتا جاتا رہا، لیکن آپ ﷺ نے کبھی اس سے اس کا ذکر تک نہ کیا اور نہ اسے ملامت کی۔
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا شَيْبَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، كَمَا قَالَ جَرِيرٌ،
ترجمہ
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے، جیسا کہ جریر کی روایت میں گزری۔
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيُّ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ حَيَّانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، بِنَحْوِهِ خَالَفَ جَرِيرٌ شَيْبَانَ فِي إِسْنَادِهِ
ترجمہ
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے اسی جیسی روایت مروی ہے۔
امام ابوالقاسم (طبرانی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جریر نے اس کی سند میں شیبان سے اختلاف کیا ہے۔
امام ابوالقاسم (طبرانی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جریر نے اس کی سند میں شیبان سے اختلاف کیا ہے۔
حَدَّثَنَا أَسْلَمُ بْنُ سَهْلٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ، ثنا يَحْيَى بْنُ رَاشِدٍ، ثنا عَبْدُ النُّورِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ هَارُونَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: بَيْنَا أَنَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ أَقْبَلَ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ يُقَالُ لَهُ: ثَعْلَبَةُ بْنُ الْحَارِثِ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا مُحَمَّدُ، فَقَالَ: «وَعَلَيْكُمْ»
ترجمہ
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کے پاس تھا کہ یہود میں سے ایک شخص آیا جسے ثعلبہ بن حارث کہا جاتا تھا، اس نے کہا: السلام علیک یا محمد! آپ ﷺ نے فرمایا: ”وعلیکم۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنُ مَنْدَهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، وَجَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سِنَانٍ الْوَاسِطِيُّ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُخْتَارِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ هَارُونَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمَ عَلَيْنَا مِنَ الصَّلَاةِ قُلْنَا: وَعَلَيْكُمُ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ "
ترجمہ
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم ﷺ جب نماز سے ہمیں سلام کہتے تو ہم کہتے: ”وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔“