کتب حدیث › المعجم الكبير للطبراني › ابواب › باب: طلحہ بن یزید ابوحمزہ، قرظہ انصاری کے آزاد کردہ غلام، کی سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایات
❮
❯
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا أَبُو عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَمْزَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ، يَقُولُ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَنْتُمْ جُزْءٌ مِنْ مِائَةِ أَلْفِ جُزْءٍ مِمَّنْ يَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ» قُلْتُ: كَمْ كُنْتُمْ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: «سَبْعُمِائَةِ رَجُلٍ أَوْ ثَمَانِمِائَةٍ رَجُلٍ»
ترجمہ
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم حوض پر مجھ سے آنے والوں کے ایک لاکھ حصوں میں سے ایک حصہ ہو۔“ (ابو حمزہ کہتے ہیں:) میں نے (سیدنا زید رضی اللہ عنہ سے) پوچھا: اس دن آپ لوگ کتنے تھے؟ انہوں نے کہا: سات سو یا آٹھ سو آدمی۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 4978
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 175، حدیث 4997
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ رَاهَوَيْهِ، ثنا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: ثنا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: قَالَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنْتُمْ جُزْءٌ مِنْ مِائَةِ أَلْفِ جُزْءٍ مِمَّنْ يَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ» قُلْتُ: كَمْ كُنْتُمُ أَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: «سِتَّمِائَةٍ أَوْ سَبْعَمِائَةٍ»
ترجمہ
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم حوض پر مجھ سے آنے والوں کے ایک لاکھ حصوں میں سے ایک حصہ ہو۔“ (طلحہ بن یزید کہتے ہیں:) میں نے (سیدنا زید رضی اللہ عنہ سے) پوچھا: اس دن آپ لوگ کتنے تھے؟ انہوں نے کہا: چھ سو یا سات سو۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 4979
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 175، حدیث 4998
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا أَبُو الشَّعْثَاءِ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ طَلْحَةَ، مَوْلَى قَرَظَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فِي غَزَاةٍ، فَقَالَ: «مَا أَنْتُمْ جُزْءٌ مِنْ مِائَةِ أَلْفِ جُزْءٍ مِمَّنْ يَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» قَالُوا لِزَيْدٍ: كَمْ أَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: «مَا بَيْنَ الثَّمَانِ مِائَةٍ إِلَى السَّبْعِمِائَةٍ»
ترجمہ
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم ایک غزوہ کے سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم قیامت کے دن حوض پر مجھ سے آنے والوں کے ایک لاکھ حصوں میں سے ایک حصہ بھی نہیں ہو۔“ لوگوں نے زید سے پوچھا: اس دن تم کتنے تھے؟ انہوں نے کہا: ”سات سو سے آٹھ سو کے درمیان۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 4980
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 176، حدیث 4999
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنِي أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو حُصَيْنٍ الْقَاضِي، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أَنْتُمْ جُزْءٌ مِنْ مِائَةِ أَلْفِ جُزْءٍ مِمَّنْ يَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ» قُلْنَا لِزَيْدٍ: كَمْ أَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: «مَا بَيْنَ السِّتِّ مِائَةِ إِلَى السَّبْعِمِائَةٍ»
ترجمہ
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ہم سے فرمایا: ”تم حوض پر مجھ سے آنے والوں کے ایک لاکھ حصوں میں سے ایک حصہ بھی نہیں ہو۔“ ہم نے زید سے پوچھا: اس دن تم کتنے تھے؟ انہوں نے کہا: ”چھ سو سے سات سو کے درمیان۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 4981
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 176، حدیث 5000
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أَنْتُمُ الْيَوْمَ بِجُزْءٍ مِنْ مِائَةِ أَلْفِ جُزْءٍ مِمَّنْ يَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ» قُلْتُ: كَمْ كُنْتُمْ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: «سَبْعَمِائَةٍ، أَوْ ثَمَانِمِائَةٍ»
ترجمہ
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آج تم حوض پر مجھ سے آنے والوں کے ایک لاکھ حصوں میں سے ایک حصہ بھی نہیں ہو۔“ (طلحہ بن یزید کہتے ہیں:) میں نے (سیدنا زید رضی اللہ عنہ سے) پوچھا: اس دن آپ لوگ کتنے تھے؟ انہوں نے کہا: سات سو یا آٹھ سو۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 4982
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 176، حدیث 5001
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَمْزَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ، يَقُولُ: «أَوَّلُ مَنْ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيٌّ» فَحَدَّثْتُ بِذَلِكَ إِبْرَاهِيمَ، فَأَنْكَرَ ذَلِكَ، وَقَالَ: «أَوَّلُ مَنْ صَلَّى أَبُو بَكْرٍ»
ترجمہ
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم ﷺ کے ساتھ سب سے پہلے نماز پڑھنے والے علی رضی اللہ عنہ تھے۔ (راوی کہتے ہیں) میں نے یہ بات ابراہیم کو بتائی تو انہوں نے اس کا انکار کیا اور کہا: سب سے پہلے نماز پڑھنے والے ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 4983
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 176، حدیث 5002
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ أُبَيٍّ ابْنِ سَلُولَ، يَقُولُ: لَا تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ حَتَّى يَنْفَضُّوا، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ وَأَتَاهُ ابْنُ أُبِيٍّ فَحَلَفَ لَهُ أَنَّهُ لَمْ يَقُلْ ذَلِكَ، وَأَتَانِي أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَامُونِي، فَأَتَيْتُ مَنْزِلِي فَنِمْتُ قَالَ: كَأَنَّهُ كَئِيبٌ، فَأَرْسَلَ إِلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُهُ، أَوْ قَالَ: فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «إِنَّ اللهَ قَدْ صَدَّقَكَ وَعَذَرَكَ» وَتَلَا هَاتَيْنِ الْآتَيْنِ {هُمُ الَّذِينَ يَقُولُونَ لَا تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ} [المنافقون: ٧] حَتَّى خَتَمَ الْآيَتَيْنِ
ترجمہ
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عبداللہ بن اُبَی بن سلول کو کہتے سنا: رسول اللہ ﷺ کے پاس موجود لوگوں پر خرچ مت کرو یہاں تک کہ وہ منتشر ہو جائیں۔ میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور آپ کو بتایا۔ ابن اُبَی بھی آپ ﷺ کے پاس آیا اور قسم کھا کر کہا کہ اس نے ایسا نہیں کہا۔ نبی کریم ﷺ کے صحابہ میرے پاس آئے اور مجھے ملامت کرنے لگے، تو میں اپنے گھر گیا اور سو گیا، گویا میں غمگین تھا۔ تو نبی کریم ﷺ نے مجھے بلا بھیجا، میں آپ ﷺ کے پاس گیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ نے تمہیں سچا ثابت کر دیا اور تمہیں معذور قرار دیا۔“ اور آپ ﷺ نے یہ دونوں آیات پڑھیں: ”یہی وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ رسول اللہ کے پاس رہنے والوں پر خرچ نہ کرو یہاں تک کہ وہ منتشر ہو جائیں، حالانکہ آسمانوں اور زمین کے خزانے تو اللہ ہی کے پاس ہیں، لیکن منافق سمجھتے نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر ہم مدینہ کو واپس لوٹے تو عزت والا ذلیل کو ضرور نکال دے گا“ [المنافقون: 7-8]، یہاں تک کہ دونوں آیات مکمل پڑھیں۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 4984
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 177، حدیث 5003