حدیث نمبر: 4991
حَدَّثَنَا أَسْلَمُ بْنُ سَهْلٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ، ثنا يَحْيَى بْنُ رَاشِدٍ، ثنا عَبْدُ النُّورِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ هَارُونَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عُقْبَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ: أَتَزْعُمُ أَنَّ فِي الْجَنَّةِ طَعَامًا وَشَرَابًا وَأَزْوَاجًا؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَعَمْ» فَقَالَ الْيَهُودِيُّ: إِنَّا نَجِدُهَا طَيْبَةً مُطَيَّبَةً، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتُؤْمِنُ بِشَجَرَةِ الْمِسْكِ وَتَجِدُهَا فِي كِتَابِكُمِ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «فَإِنَّ الْبَوْلَ وَالْجَنَابَةَ عَرَقٌ يَسِيلُ مِنْ ذَوَائِبِهِمْ إِلَى أَقْدَامِهِمْ كَالْمِسْكِ»
ترجمہ

سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھا تھا کہ یہود میں سے ایک شخص نے آپ ﷺ سے پوچھا: کیا آپ کہتے ہیں کہ جنت میں کھانا، پینا اور بیویاں ہوں گی؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“ یہودی نے کہا: ہم اسے پاکیزہ اور خوشبودار پاتے ہیں (تو پھر فضلہ کیسے ہوگا؟)۔ نبی کریم ﷺ نے اس سے فرمایا: ”کیا تم مشک کے درخت پر ایمان رکھتے ہو اور اسے اپنی کتاب میں پاتے ہو؟“ اس نے کہا: ہاں۔ فرمایا: ”تو پیشاب اور جنابت پسینہ ہے جو ان کی چوٹیوں سے ان کے قدموں تک مشک کی طرح بہتا ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 4991
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 178، حدیث 5010