المعجم الكبير للطبراني
باب الزاي— حرف زا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ثمامة بن عقبة المحلمي، عن زيد بن أرقم باب: ثمامہ بن عقبہ محلمی کی سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ رَاهَوَيْهِ، ثنا أَبِي، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبِي، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيُّ، قَالُوا: ثنا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: " كَانَ رَجُلٌ يَدْخُلُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَقَدَ لَهُ عُقَدًا فَوَضَعَهُ فِي بِئْرِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَأَتَاهُ مَلَكَانِ يَعُودَانِهِ، فَقَعَدَ أَحَدُهُمَا عِنْدَ رَأْسِهِ وَالْآخَرُ عِنْدَ رِجْلَيْهِ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: أَتَدْرِي مَا وَجَعُهُ؟ قَالَ: فُلَانٌ الَّذِي يَدْخُلُ عَلَيْهِ عَقَدَ لَهُ عُقَدًا فَأَلْقَاهُ فِي بِئْرِ فُلَانٍ الْأَنْصَارِيِّ، فَلَوْ أُرْسِلَ رَجُلٌ، وَأَخَذَ الْعُقَدَ لَوَجَدَ الْمَاءَ قَدِ اصْفَرَّ "، قَالَ: «فَبَعَثَ رَجُلًا فَأَخَذَ الْعُقَدَ فَحَلَّهَا فَبَرَأَ، وَكَانَ الرَّجُلُ بَعْدَ ذَلِكَ يَدْخُلُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَذْكُرْ لَهُ شَيْئًا مِنْهُ وَلَمْ يُعَاتِبْهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ»سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ایک شخص نبی کریم ﷺ کے پاس آیا جایا کرتا تھا، اس نے آپ ﷺ پر (جادو کی) کچھ گرہیں باندھیں اور انہیں ایک انصاری شخص کے کنویں میں ڈال دیا۔ پھر دو فرشتے آپ ﷺ کی عیادت کے لیے آئے، ان میں سے ایک آپ ﷺ کے سر کے پاس بیٹھ گیا اور دوسرا آپ ﷺ کے پاؤں کے پاس۔ ایک نے دوسرے سے پوچھا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ ان کی بیماری کیا ہے؟ دوسرے نے کہا: فلاں شخص، جو ان کے پاس آتا جاتا ہے، اس نے ان پر کچھ گرہیں باندھیں اور انہیں فلاں انصاری کے کنویں میں ڈال دیا، اگر کسی آدمی کو بھیجا جائے اور وہ گرہیں نکال لے تو وہ پانی کو زرد پائے گا۔ (راوی کہتے ہیں) تو آپ ﷺ نے ایک آدمی کو بھیجا، اس نے گرہیں نکالیں اور انہیں کھول دیا تو آپ ﷺ صحت یاب ہو گئے، اور اس کے بعد بھی وہ شخص نبی کریم ﷺ کے پاس آتا جاتا رہا، لیکن آپ ﷺ نے کبھی اس سے اس کا ذکر تک نہ کیا اور نہ اسے ملامت کی۔