حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ حَسَّانَ بْنَ ثَابِتٍ كَانَ فِي حَلْقَةٍ فِيهِمْ أَبُو هُرَيْرَةَ فَقَالَ لَهُ: أَنْشُدُكَ اللهَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَجِبْ عَنِّي أَيَّدَكَ اللهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ؟» ، قَالَ: اللهُمَّ نَعَمْ
ترجمہ
سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ ایک حلقے میں تھے جس میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے، تو انہوں نے ان سے کہا: اے ابوہریرہ! میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں، کیا تم نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”میری طرف سے جواب دو، اللہ تمہیں روح القدس کے ذریعے تقویت دے“؟ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہاں۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ قَالَ: أنْشَدَ حَسَّانُ فِي الْمَسْجِدِ فَمَرَّ بِهِ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَلَحَظَهُ فَقَالَ: أَفِي الْمَسْجِدِ؟ أَفِي الْمَسْجِدِ؟، فَقَالَ: وَاللهِ لَقَدْ أَنْشَدْتُ فِيهِ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ "، فَخَشِيَ أَنْ يَرْمِيَهُ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَجَازَ وَتَرَكَهُ.
ترجمہ
سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں: سیدنا حسان رضی اللہ عنہ نے مسجد میں اشعار پڑھے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس سے گزرے، انہوں نے ناگواری سے دیکھا اور کہا: کیا مسجد میں؟ کیا مسجد میں؟ تو حسان نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے یہاں اس سے بھی پڑھا ہے جو تم سے بہتر تھا۔ راوی کہتے ہیں: انہیں خدشہ ہوا کہ کہیں وہ رسول اللہ ﷺ کا حوالہ نہ دے دیں، چنانچہ انہوں نے بات کو گزر جانے دیا اور انہیں چھوڑ دیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ قَالَ: مَرَّ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، بِحَسَّانَ وَهُوَ يَنْشُدُ فِي الْمَسْجِدِ فَلَحَظَ إِلَيْهِ ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَهُ
ترجمہ
سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سیدنا حسان رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے جبکہ وہ مسجد میں اشعار پڑھ رہے تھے، تو انہوں نے ناگواری سے دیکھا۔
راوی نے آگے اسی جیسی بات ذکر کی۔
راوی نے آگے اسی جیسی بات ذکر کی۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حُمَيْدٍ الطَّوِيلُ، ثنا صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: أَتَى عُمَرُ عَلَى حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، وَهُوَ يَنْشُدُ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ: هَهُنَا؟ فَقَالَ: قَدْ كُنْتُ أَنْشُدُ فِيهِ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ، فَوَلَّى عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَشْيَةَ أَنْ يَقُولَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَقْبَلَ حَسَّانُ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ، فَقَالَ: أَنْشُدُكَ اللهَ أَتَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَا حَسَّانُ أَجِبْ عَنْ رَسُولِ اللهِ اللهُمَّ أَيِّدْهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ» ؟ قَالَ: نَعَمْ
ترجمہ
راوی بیان کرتے ہیں: …سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خدشہ ہوا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کا حوالہ نہ دے دیں، پھر حسان ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا: میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں، کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: ”اے حسان! رسول اللہ کی طرف سے جواب دو، اے اللہ! اسے روح القدس کے ذریعے تقویت دے“؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، قَالَا: ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَعَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، قَالَ حَجَّاجُ، وَسُلَيْمَانُ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، وَقَالَ عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ: أَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ الْبَرَاءِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِحَسَّانَ: «اهْجُهُمْ أَوْ هَاجِهِمْ وَجِبْرِيلُ مَعَكَ»
ترجمہ
سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سیدنا حسان رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”انہیں ہجو کرو - یا: ان کی ہجو کرتے رہو - اور جبریل تمہارے ساتھ ہیں۔“
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَزِيعٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، حَدَّثَنِي الْبَرَاءُ، قَالَ: سَمِعْتُ حَسَّانَ بْنَ ثَابِتٍ، يَقُولُ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اهْجُهُمْ أَوْ هَاجِهِمْ - يَعْنِي الْمُشْرِكِينَ - فَإِنَّ جِبْرِيلَ مَعَكَ»
ترجمہ
سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا: رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”انہیں ہجو کرو - یا ان کی ہجو کرتے رہو - یعنی مشرکین کو - کیونکہ جبریل تمہارے ساتھ ہیں۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ ح، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، قَالَا: ثنا عِيسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، حَدَّثَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَسَّانَ: «إِنَّ رُوحَ الْقُدُسِ مَعَكَ مَا هَاجَيْتَهُمْ» - يَعْنِي الْمُشْرِكِينَ -
ترجمہ
سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا حسان رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”بے شک روح القدس تمہارے ساتھ ہے جب تک تم انہیں ہجو کرتے رہو۔“ یعنی مشرکین کو۔
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الرَّقِّيُّ، ثنا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ ح، وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، قَالَا: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بَهْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَعَنَ زَوَّارَاتِ الْقُبُورِ»
ترجمہ
سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ”قبروں کی کثرت سے زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، وَحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ الْأَوَّلِ، قَالَا: ثنا عُبَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ الْقُرَشِيُّ، ثنا الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بَهْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَعَنَ زَوَّارَاتِ الْقُبُورِ»
ترجمہ
سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ”قبروں کی کثرت سے زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ يَعْنِي الْجَارِيَّ مِنْ أَهْلِ الْجَارِ مِنْ سَاحِلِ الْمَدِينَةِ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُسَيَّبِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ أَبِيهِ حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: " بَدَتْ لَنَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ إِلَى الْوَالِيِ حَاجَةٌ وَكَانَ الَّذِي طَلَبَنَا إِلَيْهِ أَمْرًا صَعْبًا، فَمَشَيْنَا إِلَيْهِ بِرِجَالٍ مِنْ قُرَيْشٍ وَغَيْرِهِمْ فَكَلَّمُوهُ وَذَكَرُوا لَهُ وَصِيَّةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِنَا فَذَكَرَ صُعُوبَةَ الْأَمْرِ فَعَذَرَهُ الْقَوْمُ وَخَرَجُوا وَأَلَحَّ عَلَيْهِ ابْنُ عَبَّاسٍ، فَوَاللهِ مَا وَجَدَ بُدًّا مِنْ قَضَاءِ حَاجَتِنَا، فَخَرَجْنَا حَتَّى دَخَلْنَا الْمَسْجِدَ فَإِذَا الْقَوْمُ أَنْدِيَةٌ قَالَ حَسَّانُ: فَضَحِكْتُ وَأَنَا أَسْمَعَهُمْ إِنَّهُ وَاللهِ كَانَ أَوْلَاكُمْ بِهَا إِنَّهَا وَاللهِ صُبَابَةُ النُّبُوَّةِ وَوِرَاثَةُ أَحْمَدَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وتَهْذِيبُ أَعْرَاقِهِ وَانْتِزَاعُ شِبْهِ طَبائِعِهِ، فَقَالَ الْقَوْمُ: أَجْمِلْ يَا حَسَّانُ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: صَدَقُوا فَأَنْشَأَ حَسَّانُ يَمْدَحُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ فَقَالَ:
[البحر الطويل]
إِذَا مَا ابْنُ عَبَّاسٍ بَدَا لَكَ وَجْهُهُ ... رَأَيْتَ لَهُ فِي كُلِّ مَجْمَعَةٍ فَضْلَا
إِذَا قَالَ لَمْ يَتْرُكْ مَقَالًا لِقَائِلٍ ... بِمُلْتَقَطَاتٍ لَا تَرَى بَيْنَهَا فَضْلَا
كَفَى وَشفَى مَا فِي النُّفُوسِ فَلَمْ يَدَعْ ... لِذِي أَرْبَةٍ فِي الْقَوْلِ جِدًّا وَلَا هَزْلَا
سَمَوْتُ إِلَى الْعُلْيَا بِغَيْرِ مَشَقَّةٍ ... فَنِلْتَ ذُرَاهَا لَا جَبَانًا وَلَا وَغْلَا
خُلِقْتَ حَلِيفًا لِلْمُرُوءَةِ وَالنَّدَى ... بَلِيجًا وَلَمْ تُخْلَقْ كَهَامًا وَلَا خَبْلَا
فَقَالَ الْوَالِي: وَاللهِ مَا أَرَادَ بِالْكَهَامِ الْخَبْلِ غَيْرِي وَاللهُ بَيْنِي وَبَيْنَهُ
[البحر الطويل]
إِذَا مَا ابْنُ عَبَّاسٍ بَدَا لَكَ وَجْهُهُ ... رَأَيْتَ لَهُ فِي كُلِّ مَجْمَعَةٍ فَضْلَا
إِذَا قَالَ لَمْ يَتْرُكْ مَقَالًا لِقَائِلٍ ... بِمُلْتَقَطَاتٍ لَا تَرَى بَيْنَهَا فَضْلَا
كَفَى وَشفَى مَا فِي النُّفُوسِ فَلَمْ يَدَعْ ... لِذِي أَرْبَةٍ فِي الْقَوْلِ جِدًّا وَلَا هَزْلَا
سَمَوْتُ إِلَى الْعُلْيَا بِغَيْرِ مَشَقَّةٍ ... فَنِلْتَ ذُرَاهَا لَا جَبَانًا وَلَا وَغْلَا
خُلِقْتَ حَلِيفًا لِلْمُرُوءَةِ وَالنَّدَى ... بَلِيجًا وَلَمْ تُخْلَقْ كَهَامًا وَلَا خَبْلَا
فَقَالَ الْوَالِي: وَاللهِ مَا أَرَادَ بِالْكَهَامِ الْخَبْلِ غَيْرِي وَاللهُ بَيْنِي وَبَيْنَهُ
ترجمہ
راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: ہمیں، انصار کی جماعت کو، والی کے پاس ایک ضرورت پیش آئی، اور جو ہم نے اس سے مانگا وہ ایک مشکل معاملہ تھا، چنانچہ ہم قریش اور دیگر لوگوں میں سے کچھ افراد کے ساتھ اس کے پاس گئے، انہوں نے اس سے بات کی اور اسے رسول اللہ ﷺ کی ہمارے بارے میں وصیت یاد دلائی، تو اس نے معاملے کی مشکل کا ذکر کیا، لوگوں نے اسے معذور سمجھا اور نکل گئے، لیکن ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس پر اصرار جاری رکھا، اللہ کی قسم! اسے ہماری ضرورت پوری کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ ملا۔ چنانچہ ہم نکلے اور مسجد میں داخل ہوئے تو لوگ حلقے بنائے بیٹھے تھے۔ حسان بیان کرتے ہیں: میں ہنس پڑا اور یہ سنا رہا تھا: اللہ کی قسم! وہ ابن عباس اس کے تم سب سے زیادہ حقدار تھے، اللہ کی قسم یہ نبوت کا بچا کھچا حصہ اور احمد ﷺ کی وراثت اور ان کی خصلتوں کی پاکیزگی اور ان کی طبیعتوں کی مشابہت کا نچوڑ ہے۔ لوگوں نے کہا: اے حسان! کچھ اعتدال سے کام لو۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: انہوں نے سچ کہا۔ تو سیدنا حسان رضی اللہ عنہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کی مدح میں یہ اشعار کہے:
”جب ابن عباس کا چہرہ تمہارے سامنے آئے تو تم ہر مجلس میں ان کے لیے فضیلت دیکھو گے۔
جب وہ بات کریں تو کسی کہنے والے کے لیے کوئی بات باقی نہیں چھوڑتے، ایسی چنی ہوئی باتوں کے ساتھ جن میں کوئی کمی نظر نہیں آتی۔
انہوں نے دلوں میں جو کچھ تھا اسے پورا کر دیا اور شفا دے دی، اور کسی سمجھدار شخص کے لیے بات میں نہ کوئی سنجیدگی باقی چھوڑی نہ مذاق۔
میں بغیر کسی مشقت کے بلندی کی طرف بڑھا، تو تم نے اس کی چوٹی حاصل کر لی، نہ بزدل بن کر نہ کمزور بن کر۔
تم مروت اور سخاوت کے حلیف بنائے گئے، کھلے دل والے، نہ کند ذہن نہ فاتر العقل بنائے گئے۔“
تو والی نے کہا: اللہ کی قسم! اس نے ”کند ذہن، کمزور عقل“ سے میرے سوا کسی اور کا ارادہ نہیں کیا، اور اللہ ہی میرے اور اس کے درمیان فیصلہ کرنے والا ہے۔
تو والی نے کہا: اللہ کی قسم! اس نے ”کند ذہن، کمزور عقل“ سے میرے سوا کسی اور کا ارادہ نہیں کیا، اور اللہ ہی میرے اور اس کے درمیان فیصلہ کرنے والا ہے۔