حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا ضِرَارُ بْنُ صُرَدَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ فِي تَسْمِيَةِ مَنْ شَهِدَ مَعَ عَلِيٍّ: الْحَجَّاجُ بْنُ عَمْرِو بْنِ غَزِيَّةَ، وَهُوَ الَّذِي كَانَ يَقُولُ عِنْدَ الْقِتَالِ: " يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، أَتُرِيدُونَ أَنْ نَقُولَ لِرَبِّنَا إِذَا لَقِينَاهُ: {رَبَّنَا إِنَّا أَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَراءَنَا فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا} [الأحزاب: ٦٧] "
ترجمہ
ابو رافع رضی اللہ عنہ کے بیٹے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ حاضر رہنے والوں کے نام بتاتے ہوئے کہتے ہیں: حجاج بن عمرو بن غزیہ (بھی ان میں شامل تھے)، اور وہی ہیں جو لڑائی کے وقت کہا کرتے تھے: ”اے انصار کی جماعت! کیا تم چاہتے ہو کہ جب ہم اپنے رب سے ملیں تو ہم کہیں: ’اے ہمارے رب! ہم نے اپنے سرداروں اور بڑوں کی اطاعت کی تو انہوں نے ہمیں راستے سے بھٹکا دیا‘ [سورۃ الاحزاب: 67]؟“
حَدَّثَنَا إِدْرِيسُ بْنُ جَعْفَرٍ الْعَطَّارُ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَإِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، كُلُّهُمْ عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَبِي عُثْمَانَ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ، حَدَّثَنِي الْحَجَّاجُ بْنُ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ كُسِرَ أَوْ عَرَجَ فَقَدْ حَلَّ، وَعَلَيْهِ حَجَّةٌ أُخْرَى» . قَالَ: فَحَدَّثْتُ بِهِ ابْنَ عَبَّاسٍ وَأَبَا هُرَيْرَةَ، فَقَالَا: صَدَقَ
ترجمہ
سیدنا حجاج بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”جو شخص حج کے دوران ہڈی ٹوٹنے یا لنگڑا ہو جانے کی وجہ سے احرام سے نکل جائے تو وہ حلال ہو گیا، اور اس پر ایک اور حج لازم ہے۔“ عکرمہ کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث سیدنا ابن عباس اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہم کو سنائی تو دونوں نے فرمایا: انہوں نے سچ کہا۔
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ وَيَحْيَى، عَنِ الْحَجَّاجِ الصَّوَّافِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَجَّاجَ بْنَ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيَّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كُسِرَ أَوْ عَرَجَ فَقَدْ حَلَّ، وَعَلَيْهِ حَجَّةٌ» . فَسَأَلْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ وَابْنَ عَبَّاسٍ، فَقَالَا: صَدَقَ
ترجمہ
سیدنا حجاج بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص ہڈی ٹوٹنے یا لنگڑا ہو جانے کی وجہ سے احرام سے نکل جائے تو وہ حلال ہو گیا، اور اس پر ایک اور حج لازم ہے۔“ عکرمہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم سے پوچھا تو دونوں نے فرمایا: انہوں نے سچ کہا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَافِعٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةِ قَالَ: سَأَلْتُ الْحَجَّاجَ بْنَ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيَّ عَنْ حَبَسِ الْمُحْرِمِ، فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كُسِرَ أَوْ عَرَجَ أَوْ مَرِضَ فَقَدْ حَلَّ، وَعَلَيْهِ الْحَجُّ مِنْ قَابِلٍ» . قَالَ عِكْرِمَةُ: فَسَأَلْتُ عَنْهُ أَبَا هُرَيْرَةَ وَابْنَ عَبَّاسٍ، فَقَالَا: صَدَقَ الْحَجَّاجُ
ترجمہ
عبداللہ بن رافع رحمہ اللہ، مولیٰ ام سلمہ رضی اللہ عنہا، کہتے ہیں: میں نے سیدنا حجاج بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ سے محرم کے روکے جانے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص ہڈی ٹوٹنے، لنگڑا ہو جانے یا بیمار ہو جانے کی وجہ سے احرام سے نکل جائے تو وہ حلال ہو گیا، اور اس پر آئندہ سال حج لازم ہے۔“ عکرمہ کہتے ہیں: پھر میں نے ابوہریرہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے اس بارے میں پوچھا تو دونوں نے فرمایا: حجاج نے سچ کہا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ رَافِعٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ قَالَ: سَأَلْتُ الْحَجَّاجَ بْنَ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيَّ عَمَّنْ حُبِسَ وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ عَرَجَ أَوْ كُسِرَ أَوْ مَرِضَ أَوْ حُبِسَ فَلْيَتَّحِدْ مِثْلَهَا وَقَدْ حَلَّ» . قَالَ عِكْرِمَةُ: فَحَدَّثْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ وَأَبَا هُرَيْرَةَ، فَقَالَا: صَدَقَ
ترجمہ
عبداللہ بن رافع رحمہ اللہ، مولیٰ ام سلمہ رضی اللہ عنہا، کہتے ہیں: میں نے سیدنا حجاج بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جو حالتِ احرام میں روک لیا جائے، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص لنگڑا ہو جائے، ہڈی ٹوٹ جائے، بیمار ہو جائے یا روک لیا جائے تو وہ اس جیسی قربانی کرے اور وہ حلال ہو گیا ہے۔“ عکرمہ کہتے ہیں: میں نے یہ بات سیدنا ابن عباس اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہم کو بتائی تو دونوں نے فرمایا: انہوں نے سچ کہا۔
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ الْعَبَّاسِ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ عَمْرٍو الْمَازِنِيِّ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَهَجَّدُ بَعْدَ نَوْمِهِ، وَكَانَ يَسْتَنُّ قَبْلَ أَنْ يَتَهَجَّدَ»
ترجمہ
سیدنا حجاج بن عمرو مازنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”رسول اللہ ﷺ اپنی نیند کے بعد تہجد پڑھا کرتے تھے، اور تہجد پڑھنے سے پہلے مسواک کیا کرتے تھے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنِ ابْنِ هُرْمُزَ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ الْعَبَّاسِ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ عَمْرِو بْنِ غَزِيَّةَ صَاحِبِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: بِحَسْبِ أَحَدِكُمْ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يُصَلِّي حَتَّى يُصْبِحَ أَنَّهُ قَدْ تَهَجَّدَ «. إِنَّمَا التَّهَجُّدُ الْمَرْءُ يُصَلِّي الصَّلَاةَ بَعْدَ رَقْدَةٍ، ثُمَّ الصَّلَاةَ بَعْدَ رَقْدَةٍ، وَتِلْكَ كَانَتْ صَلَاةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
ترجمہ
سیدنا حجاج بن عمرو بن غزیہ رضی اللہ عنہ، جو رسول اللہ ﷺ کے ساتھی تھے، کہتے ہیں: تم میں سے کسی کے لیے یہ کافی سمجھا جاتا ہے کہ وہ رات کو اٹھے اور صبح تک نماز پڑھتا رہے تو یہ سمجھے کہ اس نے تہجد پڑھ لیا، حالانکہ تہجد تو یہ ہے کہ آدمی ایک نیند کے بعد نماز پڑھے، پھر دوسری نیند کے بعد نماز پڑھے، اور یہی رسول اللہ ﷺ کی نماز کا طریقہ تھا۔